” ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی “

0
1539

تبلیغی_جماعت: مولانا سعد صاحب اور مولانا ابراہیم دیولہ صاحب کی ملاقات

سمیع اللّٰہ خان

ابھی ابھی یہ خبر صبح خیزی معطر کر گئی کہ، مولانا سعد صاحب کے بشمول مرکز نظام الدین کے چیدہ علماء کرام و چنندہ افراد نے گجرات میں، جماعت تبلیغ کے مخلص و محسن بزرگ رہبر حضرت مولانا ابراہیم دیولہ صاحب حفظہ الله سے ملاقات کی، اور ان کے ساتھ خوشگوار لمحات گذارے، اختلافات کے درمیان یہ ملاقات ایک امید افزاء پہل ہے جوکہ تبلیغی جماعت کے ساتھیوں کے لیے رہنما سبق بھی ہے
یہ خبر اس معنٰی کر بھی خوش آئند ہیکہ تبلیغی جماعت کے رہبران میں اختلافات نظریاتی و انتظامی نوعیت کے ہیں، ان سے جذبۂ ایمانی اور نسبت روحانی ختم نہیں ہوئے جو کہ آجکل چرچا میں ہیں،
مولانا سعد صاحب کا، حضرت مولانا ابراہیم دیولہ صاحب حفظہ الله و رعاہ کی خدمت میں حاضر ہونا، اور حضرت مولانا ابراہیم دیولہ صاحب کی جانب سے ان کا خندہ پیشانی سے استقبال، بہر کیف اس وقت دو دھڑوں میں بٹے کارکنان کے لیے عملی سبق ہے، اگر، یہ کارکنان مخلصانہ اپنے موقف کے شرح صدر کی بنا پر دو طرف ہیں، تو ان پر لازمی ہوتا ہیکہ اپنے بزرگوں کے اس عمل کو بھی اپنی سرگرمیوں کا حصہ بنائیں ۔
آج ہو یہ رہا ہیکہ، امارت اور شورٰی کے نام سے مسجدیں اور محلے تقسیم در تقسیم کی شکار ہیں ، ان اختلافات نے عناد کا رخ اختیار کرلیا ہے، عام کارکن جو کہ چھ صفات پیدا کرنے کے لیے اس تحریک سے وابستہ تھا، اب شش و پنج میں ہے، امارت اور شورٰی کی گروہ بندی میں ایسے ایسے واقعات سامنے آرہے ہیں، کہ، ایمانی محنت کے علمبرداران کے اعمال، انسانی اور اخلاقی حدود کو جذبۂ تحاسد و تباغض میں کچل رہےہیں، اور اس میں ہر دو فریق برابر شریک ہے ۔
تبلیغی جماعت کے یہ اختلافات ایمان اور کفر کا معرکہ نہیں ہیں اور نا ہی معیار ہیں اور نا ہی یہ اختلافات ایسے ہیں کہ انہیں لاینحل کہا جائے، سامنے کی بات ہے تفریق میں زیادتیاں دونوں طرف سے ہیں ، غلط فہمیاں اور افواہیں بھی بڑے اسباب میں سے ہیں، نیز فریقین کی واقعی غلطیوں اور ایک کی دوسرے پر زیادتی سے جہاں انکار نہیں کیا جاسکتا، وہیں، فریقین کے مابین تھرڈ پارٹی کی ریشہ دوانیوں کو نظرانداز کرنا بھی بالکل نامناسب ہے ، اور یہ کوئی ایسی انوکھی بات نہیں کہ صرف اسلیے نظرانداز کردی جائے کہ ” بھلا بڑوں کو کون دھوکہ دے سکتا ہے ” یہ ایک احمقانہ شوشہ ہے، کیونکہ اس کے بالمقابل ہمیں سیرت سے دھوکہ کھانے کے ثبوت ملتے ہیں اور ہمارے یہ اکابر بہرحال اُن اسلاف سے چھوٹے ہی ہیں جو بارہا پروپیگنڈہ اور ماحول سازی کے شکار اس سے پہلے بھی ہو چکے ہیں، اور اب تبلیغی احباب اس کے شکار ہورہےہیں تو یہ کوئی نئی بات بھی نہیں ہے اور نا ہی معیوب ہے، کیونکہ انسانی ماحول کی فطرت ہیکہ وہ بشریات کے شکار ہوتے رہتے ہیں، علاوہ ازیں ایسے بھرم قائم کرنے والوں کو، پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ، وہ اپنے بڑوں کی ایسے اوہام سے توہین کررہےہیں، کیونکہ آجکل ایسی خصوصیات بے جان روبوٹس میں ہی پائی جاتی ہیں ۔
آج مولانا سعد اور مولانا ابراہیم دیولہ صاحب حفظھما الله کی ملاقات، نسبتوں کی زندگی پر دلالت کرتی ہے، اور ہر تبلیغی کارکن سے یہ مطالبہ کرتی ہیکہ وہ ذہن نشین کرلے کہ، تحریک تبلیغ شیر و شکر کرنے والی تحریک ہے، امن و محبت اور بھائی چارہ پھیلانے والی تحریک ہے، تبلیغی جماعت، پاکیزہ ماحول اور جذبۂ باہمی کے عکاس معاشرے کی تشکیل کرتی ہے جہاں، معیار کلمہ لا الٰہ الا الله محمد الرسول الله ہے،
تبلیغی جماعت کی مٹی، نہایت ہی نرم، ملائم شفیق و ملنسار ہے اور ہر سچا تبلیغی اسی کا پَرتو، ہوگا، کیونکہ اس وقت یہ سچے مؤمن کی ہی علامت ہوگی کہ،
کام کرے، سب کے ساتھ ملکر شیر و شکر ہو کر کرے، کہ مقصد تو سبھی کا ایک ہوگا، مسجد کو آباد کرنا، محبت کی چھاؤں پھیلانا، اختلافات کو مٹا کر کلمه ء اسلام کے تلے تمام مؤمنین کو جمع کرنا،
اس میں ہر ہر شخص کا رول مرکزي ہوگا، جو پہل کرے گا ماجور ہوگا،
ستم رسیدہ، گردش احوال سے ملت نڈھال ہے، اس وقت مزید انتشار ایسے پلیٹ فارم سے پھیلے جو کہ انتشارات کے خاتمے کے لئے وجود میں آیا تھا، تو یہ اپنی ” انا ” کے لیے تو باعث تسکین ضرور ہوگا، لیکن، یہ طرزِعمل روح جماعت سے کھلواڑ کے مانند ہے، اور اس کے کرنے والےجماعت کے پیشروؤں کی محنتوں پر آرا چلانے کے مرتکب ہورہےہیں ، اسلیے ان وقتی نزاعات کو حل کرنے کی کوششیں اگر ہم نہیں کر پارہے ہیں، تو اپنے موقف کی روٹیاں سینکنا بھی بدترین موقع پرستی ہے، کیونکہ، آج بھی جماعت کے بڑے، تمام تر تنازعے کے باوجود اخلاقی اور انسانی حدود کا پاس رکھتے ہیں، ان کے متبعین اگر سچے اور مخلص ہیں تو انہیں بھی یہی طرزِعمل پیش کرنا ہوگا، جو روح تبلیغ کی نمائندگی کرے کہ:
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

 

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here