سماجی برائی سے نجات پانے کیلئے اصلاحی تعلیمات ضروری!

0
1173
مسلم پرسنل لاء بورڈ
مسلم پرسنل لاء بورڈ
All kind of website designing

مسلم پرسنل لاء بورڈ کے زیر اہتمام اڑیسہ کے شہربھونیشور و کٹک میں اجلاس عام بعنوان ’’تحفظ شریعت اور اصلاح معاشرہ‘‘ کا انعقاد

نئی دہلی: ویمنس ونگ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے خواتین و طالبات کیلئے دو دن/11 ، اور/12 نومبر،2017 ، بروز : ہفتہ اور اتوار، اڑیسہ کے شہروں اور اضلاع میں اجلاس عام بعنوان ’’تحفظ شریعت اور اصلاح معاشرہ ‘‘ منعقد ہوئے۔اجلاس عام کے پہلے دن ، بھونیشور کی خواتین و طالبات کیلئے اجلاس عام بعنوان ’’تحفظ شریعت اور اصلاح معاشرہ ‘‘ /11 نومبر، بروز : ہفتہ، بوقت : 10-30 بجے دن تا 1بجے ،دوپہر، بمقام : روٹری بھون،یونٹ 9 ، بھوبھنیشور میں اور دوپہر 2 بجے تا5 بجے شام بمقام : امارات الشریعہ ، سوتاھاٹ، کٹک میں اجلاس عام منعقد ہوئے۔
اجلاس کا آغاز محترمہ عائشہ زرین صاحبہ کی قراء ت کلام پاک سے ہوا۔ کنوینر اجلاس عام محترمہ ممدوحہ ماجد صاحبہ ،رکن عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے افتتاحی کلمات میں اصلاح معاشرہ کی ضرورت و اہمیت،اڑیسہ کے سماجی صورتحال،جہیز کا مسئلہ، مہرکی اہمیت،طلاق کی اجازت اور مطلقہ خواتین کامسئلہ‘‘ پر روشنی ڈالی ۔انھوں نے بھوبھنیشور اور کٹک میں اصلا ح معاشرہ کمیٹی(برائے خواتین) کے قیام کی ضرورت پر زوردیا۔ اور خواتین سے اپیل کی کہ وہ اس کیلئے وقت نکالیں۔
اعزازی مہمان محترمہ زینت مہتاب صاحبہ، رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ،نئی دہلی نے ’’اصلاح معاشرہ‘‘ کے عنوان پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی سیرت کا گہرائی سے مطالعہ کرنے سے ہمیں اصلاح معاشرہ کے کاموں میں بڑی مددملتی ہے۔ آپ ﷺ نے اپنے اعلیٰ اخلاق و کردار کی بناء پر ہی سماج میں ایک عظیم انقلاب برپاء کیا تھا۔ انھوں نے اس یہودی خاتون کے واقعہ کو بیان کیا جو آپ ﷺ پر روزانہ کچرا ڈالتی تھی، جب دو تین دن آپ ﷺ پر کچرا ڈالنے میں وقفہ آیا تو آپ ﷺ کو اس خاتون کی فکر ہوئی ،آپ ﷺ کو جب اس کے بیمار ہونے کی اطلاع ملی تو آپ ﷺ اسکی عیادت کو پہنچ گئے۔اس کا اثر اس یہودی خاتون پر اتنا زیادہ ہوا کہ وہ تائب ہوکر اسلام کے دامن رحمت میں داخل ہوگئی۔۔یہ ہے ہمارے نبی پاک ﷺ کا اخلاق و کردار ۔اسلام اخلاق سے پھیلا ہے۔انھوں نے سورہ حجرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم مسلمان اپنی اور اپنے معاشرے کی اصلاح کریں۔اپنے اخلاق کو سنواریں۔جھوٹ، بدگوئی، غیبت، چغلی،بدگمانی سے بچیں،ہم سچی توبہ کریں،اسلام کی تعلیمات پر عمل کریں۔قرآن کریم اوراحادیث سے قریب ہوں۔قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کی ضرورت ہے۔ رسول اللہ ؑ رحمۃ اللعالمین بنکر آئے،سارے عالم کیلئے وہ سراپائے رحمت ہیں۔ہم خیر امت ہیں۔ ہم پر ذمہ داری ہیکہ یہ تعلیمات سب تک عام کریں۔ اصلاح معاشرہ اور تحفظ شریعت کے پروگرامس سارے ملک میں منعقد ہورہے ہیں۔اسکا حصہ بنیں اور اپنی اور معاشرہ کی تربیت کیلئے یکسو جائیں۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر اسماء زہرہ صاحبہ ،مسؤلہ ویمنس ونگ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے دونوں جگہ خواتین و طالبات کو ’’اصلاح معاشرہ کے کام میں ہم خواتین کیا رول ادا کرسکتی ہیں‘‘ کے عنوان پر قرآنی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نیکیوں کا حکم دینے اور برائیوں سے روکنے اور ایمان لانے کا حکم دیاہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہم کو ایک اچھی امت بنایا، بہترین امت بنایا۔ اللہ تعالی ٰنے ہمیں جو لقب دیا ہے وہ خیر امت کا ہے،تو یہ ایک ایسی امت ہے جودوسروں تک خیر و بھلائی کو پھیلانے کا کام کرنا ہے۔خیر کے معنی ہیں نیکی کا کام کرن، بھلائی کا کام کرنا،فائدے کا کام کرنا ،یعنی کہ خود اپنے بھی فائدہ کا کام کرنا اور دوسروں کے فائدے کا بھی کام کرنا ہے۔ہر ایک کی بھلائی اور بہتری کا کام کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ذمہ داری ہم پر آپ پر ڈالی ہے،ہم اسی لئے بھیجے گئے ہیں۔اور ایک کام جو اللہ تعالیٰ نے ہم پر ڈالی ہے ‘وہ ہے برائی سے روکنا،یعنی نہی عن المنکر کا کام کرنا ہے۔یعنی جہاں تم یہ دیکھو،جھوٹ ہے، غلط ہے، ناانصافی ہے، سماج میں نابرابری ہے،ظلم و زیادتی ہے، جو طاقتور ہے کمزور پر ظلم کررہا ہے، جو پیسے والاہے ،وہ امیر بنتے جارہا ہے،جو غریب ہے وہ دبتاجارہا ہے، جو ہمارے وسائل ہیں،ریسورسس ہیں، وہ کچھ لوگوں تک محدودہیں۔باقی لوگ اس سے فائدہ نہیں پہچاتے ہیں انسان انسان پر ظلم کررہا ہے،یہ سب چیزیں جو سماجی ناانصافی کی ہیں، ظلم و بربریت کی ہیں،جہاں پر کمزور طبقوں پر ظلم ہورہا ہے،چاہے وہ اس زمانے ،اس دور میں جب آپ ﷺ مبعوث کئے گئے تھے،تواس دورمیں جو یتیم کمزور تھے، عورتیں کمزور تھیں تو اس زمانے میں آپ ﷺ کا جو انقلاب تھا، پیغام تھااس نے ایسی تبلیغ کی کہ تمام پچھڑے طبقے تھے، کمزور طبقے تھے، انکو انکا حق دیا گیا۔ان کے ساتھ انصاف کا معاملہ کیا گیا۔انکوسماج میں برابری کا، باعزت اور باوقار مقام دیا گیا۔اسطرح اللہ تعالیٰ نے جو خیر امت کا کام ہم کو دیا بھلائی کو پھیلائیں، خیر کو پھیلائیں ،لوگوں کے کام آئیں۔برائی دیکھیں توبرائی کو روکیں۔اور یہ سب کام اس لئے نہیں کہ لوگ ہم کوایواڈ دیں،میڈل دیں، یاپھولوں کا ہار پہنائیں، جی نہیں ،ہم کو یہ کا م اس لئے کرنا ہیکہ ہماراایمان للہ پر ہے، اللہ کو راضی کرنے کیلئے کرنا ہے، ۔یہ کام بھی اسی طرح کرنا ہے، جیسا نماز پڑھناہے، روزہ رکھنا ہے،زکوٰۃ دیناہے ، حج کرناہے۔یہ سب کام ثواب کے ہیں۔اسی طرح خیر کا کام بھی ثواب کا ہی کام ہے۔ آج جب ہم یہاں خواتین جمع ہوئے ہیں، یہ جلسہ رکھا گیا ہے،اللہ تعالیٰ نے ہمیں کیا کام دیا ہے، ہماری ذمہ داری کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ آج جب ہم دنیا میں دیکھتے ہیں،ٹی وی میں دیکھتے ہیں،تو بات یہ چلتی ہیکہ مرد و عورت میں برابری نہیں ہے۔ناانصافی ہے، جنڈر جسٹس نہیں ہے،،بلکہ عورتوں پر ظلم ہورہا ہے، کہیں پہ گھروں میں عورتیں گھریلو تشدد کا شکار ہے،، کہیں پرجہیز کا مسئلہ ہے، کہیں پر عورت باہر پڑھنے جاتی ہے، یا کمانے جاتی ہے تو سرکھشا کا مسئلہ ہے۔بچیاں اسکول میں پڑھنے جاتی ہیں،اسکولوں میں پڑھائی نہیں ہوتی، سماجی صورتحال، معاشی صورتحال گھروں اور خاندانوں میں عورت کا مقام کیا ہے، ہم اس ملک میں رہتے ہیں ۔تمام مذہبوں کی سماجی صورتحال کو اگر ہم دیکھیں توسب بڑا مسئلہ اسکے مقام و مرتبہ کا ہے، ہر مذہب میں عورت کے تحفظ اور سرکھشا کاہے، عورتوں کے حقوق کے بارے میں باتیں تو بہت کی جاتی ہیں مگر اسکا نفاذ کسی بھی مقام پر صحیح اور بہتر طریقے پر نہیں ہوپاتا ہے۔ایسے میں ہم خواتین میں بیداری آنا لازمی ہیں ، ہم اپنی ذمہ داری کو سمجھیں ، گھر، خاندان ،معاشرہ اور ملک میں ایک صحیح تبدیلی لانے کی کوشش کریں۔ہم مسلمان ہر سطح پر پچھڑے پن کا شکارہیں، سماجی،معاشی، تعلیمی،سماجی و تمدنی اور غریبی ،ہر سطح پر ہم میں پچھڑا پن کا شکار ہیں۔اس سے نکلنے کا ایک ہی طریقہ ہیکہ ہم اپنے آپ کو پہنچانے ، اپنی توانیاں اصلاح معاشرہ کے کام میں صرف کریں۔
محترمہ سنیھانجلی سوناہٹی ممبراڑیسہ اسٹیٹ کمیشن فار ویمنس ،بھوبھنیشور، نے اجلاس عام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم خواتین مذہب کو بیچ میں لائے بغیر سب سے پہلے اپنے مقام کو پہنچانیں، اپنے آپ کی عزت کریں، اپنی قدر کریں، جب آپ میں یہ سب سمجھ آئیگی تو پھر آپ گھر، خاندان اور سوسائٹی میں اپنے مقام و مرتبہ کو قائم کرپائینگی۔ اپنے اور دوسروں کے حقوق کے حصول کیلئے صحیح طریقے کو اپنائینگی، اور اپنی عورت ہونے کی ذمہ داری کا فرض بھی ادا کرینگی۔کنوینراجلاس عام محترمہ ممدوحہ اجد صاحبہ نے آل انڈیا مسلم ویمن ہلپ کاتعارف کروایا اور ہلپ لائن کے ٹول فری نمبر پر خواتین کواپنے مسائل کیلئے ربط پیدا کرنے کی ترغیب دی۔ خواتین و طالبات کی کثیر تعداد اس اجلاس عام میں شریک تھیں۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here