تاریخ بہت سے اہل برادرکیساتھ ساتھ مسلمانوں کی قربانیوں کی مثالوں سے بھری پڑی ہے: حاجی آدم رحمان قریشی

0
204
All kind of website designing

نئی دہلی،19/اگست(نمائندہ):سوشل ورکرحاجی محمد آدم رحمان قریشی نے اپنے صحافتی بیان میں پر مسرت کہاکہ امسال 15 اگست کو ہندوستان کی آزادی کی 75 ویں سالگرہ نہایت ہی تزک واحتشام کے ساتھ منائی گئی، اس سنگ میل کو منانے کیلئے آزادی کا امرت مہوتسو کے زیراہتمام ہر گھر ترنگا ابھیان کا انعقاد کیا گیا، تاکہ گھر گھر پہنچ کرترنگالہرایاجا سکے، کیو نہ ہندوستانی اپنی مذہبی مماثلت کے باوجود 15 اگست کو آزادی اور خودمختاری کی علامت کے طور پر مناتے ہیں، تاہم بیداری کی کمی کیوجہ سے،بہت سے مسلم نوجوان ہندوستان کی جدوجہدآزادی میں اپنے آباؤ اجداد کے تعاون سے لاعلم ہیں۔انہوں نے بتایاکہ بیرسٹر سیف الدین کچلو نے جلیاں والا باغ کے قتل عام، رولٹ ایکٹ کی مخالفت کی اور جناح کے دو قومی نظریہ کی مخالفت کی۔علامہ فضل حق خیرآبادی 1857 کی ہندوستان کی پہلی جنگ آزادی کے دوران مسلمانوں سے لازمی طور پر انگریزوں کیخلاف لڑنے کیلئے فتویٰ دینے کیلئے جانا جاتا ہے، بعد میں انہیں انڈمان کی سیلولر جیل بھیج دیا گیا، جسے کالاپانی کے نام سے جاناجاتاہے۔مو لا نا حسرت موہانی نے ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دیکرنوجوانوں کو آزادی کیلئے جوش و جذبہ بھر دیا۔شیر میسور ٹیپو سلطان نے 15,000 آدمیوں کو اکٹھا کیا اور بنگال کو برطانوی نوآبادیاتی حکام کے چنگل سے آزاد کرانے کیلئے کرنل سٹیورٹ سے لڑا۔ مغفور احمد اعجازی نے تقسیم کے جناح کے اقدام اور دو قومی نظریہ کی مخالفت کی اور جناح کی مخالفت کیلئے آل انڈیا مزور مسلم لیگ کی بنیاد رکھی، بیگم حضرت محل نے 1857 کی پہلی جدوجہد آزادی کے دوران انگریزوں کیخلاف بغاوت کرکے اورلکھنؤ کا کنٹرول ان سے چھین کر خواتین کو بااختیار بنانے کا بیج بویا۔ ہندوستان کی جدوجہد آزادی میں اشفاق اللہ خان کا تعاون کسی تعارف کا محتاج نہیں، جدید ہندوستانی مسلم خواتین لکھنؤ کے عزیزان سے سیکھ سکتی ہیں جنہوں نے جنگجو خواتین کی ایک بٹالین کو منظم کیا اور انہیں ہتھیاروں کے استعمال کا فن سکھایا،اس نے انگریزوں کے بارے میں بھی معلومات اکٹھی کیں اور نانا صاحب سمیت دیگر آزادی پسندوں کودیں، بعد میں انکی موت جنرل ہیولاک کے ہاتھوں ہوئی۔ خان عبدالغفارخان،جنہیں ‘دی فرنٹیئر گاندھی’ کے نام سے جاناجاتاہے، ان عدم تشدد پسند آزادی پسندوں میں سے ایک تھے جنہوں نے گاندھی جی کی طرح عدم تشدد اور ستیہ گرہ کی حمایت کی،اے ایم یو کے سابق طالبعلم نے ہمیشہ پاکستان بنانے کے تصورکی مخالفت کی۔ مولانا ابوالکلام آزاد ہندوستان میں تعلیم کی بنیاد قائم کرنے میں انکے تعاون کیلئے جانے جاتے ہیں، اُنکا یوم پیدائش پورے ہندوستان میں ‘قومی تعلیمی دن’ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ انہوں نے سول نافرمانی کی تحریک، ہندوستان چھوڑو تحریک اور ستیہ گرہ شروع کرنے میں اہم کرداراداکیا۔حاجی آدم نے یہ بھی کہاکہ تاریخ بہت سے اہل برادرکیساتھ ساتھ مسلمانوں کی قربانیوں کی مثالوں سے بھری پڑی ہے، جنہوں نے ایک آزاد ہندوستان بنانے میں مدد کی، جہاں خواندگی کی اعلیٰ شرح والے غیر مسلم اپنے خوبصورت ماضی سے واقف ہیں، وہیں غیر مسلم شرح خواندگی کیساتھ میڈیا و سوشل میڈیا کے منگھڑت بیانات پر یقین کرنے میں زیادہ مگن ہیں، اس بے حسی نے نوجوانوں میں تعصب کو جنم دیا ہے،جو تشویش کا باعث ہے۔

 

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here