انفرادی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو زندہ کرنے کیساتھ دوبارہ زندہ کرنے کیلئے تصوف قابل عمل حل فراہم کر سکتا ہے

0
402
All kind of website designing

نئی دہلی،20/مارچ(محمدارسلان خان):صوفی بزرگ الحاج سید محمد علی احمد نقشبندی نے آج کہاکہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت، ثقافتی امتراج اور مذہبی تنوع کی نمائندگی کرتی ہے اور اس نے اپنے سفر میں متعدد نشیب و فراز دیکھے ہیں،سیاسی اتھل پتھل کا سفر فرقہ وارانہ تصادم اورذات پات کی تقسیم کی صورت میں سماجی انتشار کے ساتھ ہوتا ہے، ہندوستان ایک ایسی قوم ہے جو ثقافتی تنوع اور جسامت کے لحاظ سے غیر معمولی ہے، تنوع کے سب سے اہم ذرائع نسلی ماخذ، مذہبی عقائداور زبانوں سے اخذکیے گئے ہیں۔ ہندوستان میں تنوع کو فروغ دیا جا رہا ہے، جو ملک میں موجود ماحولیاتی نظاموں کی وسیع رینج سے ممکن ہو ا ہے،یہاں کے لوگ مختلف طریقوں سے متنوع ہیں اور مختلف گروہوں وخطوں کی ثقافتی شناخت اس میں اہم کردارادا کرتی ہیں،آج کے مشکل وقت میں ہم آہنگی کی ثقافت کا تحفظ اور بقا وہندوستان کے سماجی تانے بانے کا امتیاز ایک مشکل کام ثابت ہوا ہے، انفرادی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو زندہ کرنے اور دوبارہ زندہ کرنے کے لیے تصوف قابل عمل حل فراہم کرسکتاہے۔انہوں نے مزید کہاکہ رواداری کامظاہرہ کرنے اور ماضی کو زندہ کرنے کیلئے ہندوستانی مسلمانوں کی طرف سے اسے فروغ دیا جا سکتا ہے اور اس پر عمل کیا جا سکتا ہے جس میں تصوف جیسی مذہبی تحریکوں نے تکثیر یت میں حصہ لیااوردوسرے عقائد کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے رواداری کی ثقافت کاآغاز کیا۔ ہندوستان جیسے کثیرالثقافتی،کثیرلسانی،کثیر المذہبی کمیونٹی کو طویل مدت تک زندہ رہنے کیلئے لوگوں سے بات کرنے اور اپنے خیالات کا اشتراک کرنے کی ضرورت ہے جسے تصوف کے ذریعے آسانی سے فروغ دیاجاسکتاہے۔محمد احمد علی نقشبندی نے یہ بھی کہاکہ ہندوستان میں صوفی اسلام نے فرقہ وارانہ امن کو فروغ دینے وپھیلانے میں اہم کردار ادا کیا،تصوف نے اسلام کے توحیدی عقائد کی خلاف ورزی کئے بغیر،مذہبی منظر نامے کو تبدیل کیے اوراپنے لیے ایک الگ مقام حاصل کیے بغیرموجودہ ہندوستانی عقائد کے ساتھ واضح طورپرتعامل کیا۔دوسری صدی کے آغازسے تصوف نے ہندوستان میں مقبو لیت حاصل کی ہے، اپنے عقائدکے اظہار کے علاوہ،صوفیاکو فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن کے مشعل بردارہونے کادعویٰ کیا جاتا ہے، تصوف کی جذباتی علامت کومثالی مواد،محبت،امن،رواداری،اعتدال پسندی کے ساتھ پیوست کیاگیاہے اور اس نے ایک طاقتور بیانیہ کو متاثر کیا ہے جو موروثی خوبیاں ہیں، اس صوفیانہ روایت کی سیاست کے انتہائی بنیادپرست اظہار کا ایک مناسب متبادل فراہم کر سکتی ہے،تصوف کوزندگی گزارنے کے ایک مستند طریقے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جسے انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے، غیر قانونی بنانے اور تباہ کرنے کے لیے قبول کرنا ضروری ہے،تصوف انتہائی اسلاموفوبیااور فرقہ وارانہ تشدد کا ایک تریاق فراہم بھی کرتاہے۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here