ہم خوشی کیوں نہ منائیں؟

0
154
All kind of website designing

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

کورونا کا شکار ہوکر موت کی نیند سونے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے ، جب کہ متاثرین کروڑوں میں ہیں ۔ _ ان میں خاصی تعداد مسلمانوں کی ہے _ کسی نے اپنے ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک کو کھویا ہے ، کسی کی بیوی کا انتقال ہوا ہے تو کسی عورت کا ساتھ اپنے شوہر سے چھوٹا ہے ، کہیں بوڑھے والدین کو اپنے جوان بیٹوں کا صدمہ برداشت کرنا پڑا ہے تو کہیں چھوٹے چھوٹے بچے یتیم ہوئے ہیں، غرض ہر طرف رنج و الم کا ماحول ہے اور لوگ دہشت کے ماحول میں جی رہے ہیں _۔
اس صورت حال میں بعض لوگ یہ کہتے ہوئے پائے گئے ہیں کہ” امسال عید کی خوشی منانے کا موقع نہیں ہے _ جب لوگ خود بیمار ہوں یا ان کے قریبی اعزا بیمار ہوں یا ابھی حال میں وفات پاچکے ہوں تو خوشی کیسے منائی جائے؟ اور مسرّت کا کیسے اظہار کیا جائے؟ ” سوچنے کا یہ انداز درست نہیں ہے۔
رمضان المبارک بڑی فضیلتوں والا مہینہ ہے _ اس کی عظمت کا تذکرہ قرآن و حدیث دونوں میں ہوا ہے _ اس میں اعمال کا اجر بہت زیادہ بڑھا دیا جاتا ہے، _ کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو رمضان کا مہینہ پائیں تو اس میں روزے رکھیں ، خوب تلاوتِ قرآن کریں ، خوب نوافل ادا کریں ، خوب اذکار کریں ، خوب عبادت کریں ، خوب توبہ و استغفار کریں ، اللہ تعالیٰ سے خوب دعا ئیںمانگیں اور خوب صدقہ و خیرات کریں ۔ _ رمضان المبارک کا مہینہ مکمل ہو تو فطری طور پر ایسے لوگ خوشی و مسرّت سے سرشار ہو جائیں گے، اللہ کے بے پایاں انعامات کا مستحق بننے پر بے انتہا فرحت محسوس کریں گے اور شکرانے کے طور پر بارگاہِ الٰہی میں سجدہ ریز ہوجائیں گے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم مدینہ تشریف لے گئے تو وہاں کے لوگ مختلف مناسبتوں سے جشن مناتے اور خوشی و مسرّت کا اظہار کرتے تھے، _ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلمنے اپنے اصحاب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں خوشی و مسرّت کے اظہار کے لیے ان کے بجائے دو مواقع عطا کیے گئے ہیں : عید
ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی
ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی
الفطر اور عید الاضحٰی ( ابوداؤد :1134)
عہدِ نبوی میں بڑے بڑے حادثات پیش آئے _ غزوۂ احد (3ھ) میں ستّر (70) مسلمان شہید ہوئے ، جس کے نتیجے میں مدینہ کے گھروں میں صفِ ماتم بچھ گئی، _ ان شہدا میں آپ کے محبوب چچا حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ بھی تھے _ بئر معونہ (4ھ) کے پاس ستّر (70) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو شہید کردیا گیا ۔ _ غزوۂ تبوک (9ھ) میں مسلمانوں کی خاصی تعداد شہید ہوئی ، جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے نام زد تینوں سپہ سالار بھی تھے۔ _ ان سپہ سالاروں میں آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلمکے چچا زاد بھائی حضرت جعفر بن ابی طالب بھی تھےجو غزوہ موتہ سنہ8 ہجری میں شہید کردیے گئے۔ _ ان واقعات کے بعد آنے والی عید الفطر کے موقع پر نہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نہ صحابۂ کرام میں سے کسی نے خواہش کی کہ امسال عید نہ منائی جائے یا بہت سادگی سے منائی جائے ۔ _
ضروری ہے کہ ہم زندگی کے ہر معاملے میں دیکھیں کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلمنے کیا ہدایت دی ہے؟ اور زندگی گزارنے کا کیا طریقہ بتایا ہے؟ پھر ان ہدایات پر بے چوں و چرا اپنا سر خم کردیں۔ اللہ ہمیں فہم و عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here