جنوبی ہند کا ایک سورج ڈاکٹر فخرالدین محمد،جس سے کتنے ہی ماہتاب منور تھے

0
65
Dr Mohd Fakhruddin Hyderabad
Dr Mohd Fakhruddin Hyderabad
All kind of website designing

ملی قائدین کا پچھلی صف کے افراد کو زندگی ہی میں آگے بڑھانا ناقابل تلافی نقصان سے بچنے کا واحد راستہ

زندگی اور موت کا سلسلہ ازل سے قائم ہے۔یہ خالق کائنات کے منصوبے کا حصہ ہے۔وہی پیدا کرتا ہے اور وہی ماردیتا ہے۔کون کس وقت مرجائے گا کسی کو پتا نہیں،کہاں موت آجائے،کس حال میں آجائے یہ بھی معلوم نہیں۔ہماری آنکھوں کے سامنے روزوشب آنے اور جانے کا یہ سلسلہ جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔ہرانسان کا ایک مقرر
دہلی اے آئی ایم آئی ایم صدر کلیم الحفیظ
دہلی اے آئی ایم آئی ایم صدر کلیم الحفیظ
 وقت ہے۔ اس میں تقدیم و تاخیر ممکن نہیں۔یوں تو ہرفرد کی موت قابل افسوس ہے، لیکن بعض لوگوں کا دنیا سے اٹھ جانابہت تکلیف کاباعث ہوتا ہے۔خاص طور پر ایسے لوگ جو صحت مند بھی ہوں،عمر بھی زیادہ نہ ہو اور کام کے بھی ہوں، ان کے اچانک چلے جانے سے نہ خود ان کے خواب ادھورے رہ جاتے ہیں، بلکہ ان سے وابستہ ہزاروں احباب کے خواب بھی نامکمل رہ جاتے ہیں۔ایسے ہی لوگوں میں ایک نام ڈاکٹر فخرالدین محمد کا ہے جنہیں اب بادل ناخواستہ مرحوم لکھنا پڑرہا ہے۔
داکٹر فخرالدین محمد25/دسمبر 1958کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد صمصام الدین محمد اورآپ کے نانا ڈاکٹر محمد اعظم شہر کے مشہور ڈاکٹر تھے۔آپ کی والدہ شمس النساء بیگم دیندار گھریلو خاتون تھیں۔ آپ کے آباو اجداد حیدرآباد کے ہی تھے۔ڈاکٹرصاحب نے جس دور میں آنکھیں کھولیں اس وقت ہندوستان آزادی کی فضا میں سانس لے رہا تھااور جنگ آزادی میں تباہ حال ملک کی تعمیر نو کررہا تھا۔آپ کے والد اور نانا دونوں ہی ڈاکٹرتھے ۔اس لیے آپ نے بھی میڈیکل ایجوکیشن کا رخ کیا اورKakatiya Medical College, Warangalسے 1981/میں ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ 1987میں آپ نے Tata Memorial Hospital, Mumbaiسے Diploma in anesthesiaکیا اوراسی ادارے سے 1990.میں MD Anesthesiologyکا اعزاز حاصل کیا۔آپ کا خاندان دینی اور مذہبی مزاج کا حامل تھا۔ ڈاکٹر صاحب دوران تعلیم جہاں بھی رہے، انہوں نے اپنی مذہبی شناخت کو نہ صرف قائم رکھا، بلکہ دوسرے مسلمان طلبہ کے لئے نماز اور دیگر دینی شعائر پر عمل کرنے کی سہولیات پیدا کیں۔یہ آپ کے دینی مزاج کا ہی اثر تھا کہ آپ نے2001میں حیدرآبادمیں عالمی طب نبوی کانفرنس منعقد کی،اسی طرح مجلس تعمیر ملت کی جانب سے منعقدہ جشن رحمۃ للعالمین کمیٹی کے آپ روح رواں ہوتے تھے،آپ نے انگلش میڈیم اداروں کے لیے قرآن مجید کی تعلیم کا ایک نصاب ترتیب دیا۔آپ گزشتہ کئی سال سے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر نئی دہلی میں قرآن فہمی کا ایک ماہ پر مشتمل ورکشاپ کا انعقاد کرتے تھے۔
آپ نے اپنی عملی زندگی کا آغاز Tata Memorial Hospital, Mumbaiسے ہی کیا ،جہاں آپ نےJunior residentاورsenior resident کی حیثیت سے کام کیا۔اس کے بعدDeccan College of Medical Science Hyderabadمیں آپ اسسٹنٹ پروفیسر ہوئے۔اسی کالج میں آپ 1995سے1997تک پروفیسر رہے۔ Princess Durru Shehvar Childrens Hospital, Hyderabad,کے آپ ڈائریکٹر رہے۔اس کے علاوہ آپ Owaisi Medical Research Center کے پروجیکٹ ڈائریکٹر بھی رہے۔آپ نے ڈاکٹروں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا بھی کام کیا۔ اس کے لیے آپ نے مسلم ڈاکٹرس ایسوسی ایشن(MDA) قائم کی۔ آپ All India Private Hospitals Nursing Homesکے سیکریٹی جنرل رہے۔آپ کا سب سے بڑا کارنامہ مسلم ایجوکیشنل سوشل اینڈ کلچرل آرگنائزیشن کا قیام ہے جسے ہم میسکو کے نام سے جانتے ہیں۔یہ تنظیم آپ کی تحریک پر 1982میں قائم ہوئی تھی۔اس کے ذریعے اب تک کئی ادارے قائم ہوچکے ہیں جس میں نرسنگ کالج اور فارمیسی کالج بھی ہیں اور نرسری سے سینئر سیکنڈری تک انگلش میڈیم اسکول بھی ہیں،منیجمنٹ اور کمپیوٹر سائنس کی تعلیم کے لیے MIMCSہے اور صنعتی تعلیم کا ادارہ بھی ہے۔ان اداروں سے ہزاروں طلبہ فیضیاب ہورہے ہیں۔میسکو کے تحت اعلیٰ تعلیم کے لیے اسکالر شپ بھی فراہم کی جاتی ہے۔کیرئر گائڈنس بھی دی جاتی ہے۔آپ کے ذریعے قائم کردہ ایک ٹرسٹ میسکو الیف ہے،جو قرآن مجید کی تعلیم کے لیے دنیا بھر میں کام کرتا ہے۔ آپ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کورٹ کے ممبر رہے۔آپ کو حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ تعلیمی اور اقلیتی کمیشنوں اور بورڈوں کا ممبر بنایا گیاجہاں آپ نے ملک و ملت کی بیش بہا خدمات انجام دیں۔
ڈاکٹر فخرالدین مرحوم کی زندگی اعلیٰ اخلاق کا نمونہ تھی،وہ جس سے ایک بار مل لیتے وہ ان کا گرویدہ ہوجاتا ،اسی لیے ان کے احباب کا حلقہ بہت وسیع ہے ،اس حلقے میں دینی علوم کے ماہرین بھی ہیں اور عصری علوم کے ستارے بھی۔انتہائی نرمی سے بات کرتے، شگفتہ مزاج تھے،چھوٹے جملوں میں بڑی بات کہتے۔ان کی نمایاں خوبیوں میں ان کا اخلاص تھا۔ان کے تمام کام اللہ کی رضا کے لیے تھے،انھیں بہت سے انعامات اور ایوارڈ ملے،لیکن انھوں نے کبھی کسی عہدے اور کسی شہرت کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔ان کے خلوص کے نتیجے میں ہی ان کے وقت اورکاموں میں برکت تھی،انھوں نے اپنی مختصر عمر میں بہت کام کیے۔ان کی زندگی کا نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ خود تو کام کرتے ہی تھے، لیکن کام کے انسانوں پر نظر رکھتے اور انھیں متحرک کرتے۔ان کو مشورے دیتے اور پشت پناہی کرتے۔وہ اپنے چھوٹوں پر بھی برابر توجہ فرماتے،وہ بہترین مربی تھے ۔افراد سازی میں ماہر تھے۔ ان کے زیر تربیت افراد نے ان کی تحریک پر کئی ادارے قائم کیے،خاکسار کو بھی ان کی صحبت سے فیض حاصل ہوا تو سہسوان میں ”الحفیظ ایجوکیشنل اکیڈمی” قائم کی۔ڈاکٹر صاحب کی خوبی یہ تھی کہ وہ چھوٹے اداروں پر بھی اتنی ہی توجہ فرماتے جتنی وہ بڑے اداروں پر توجہ کرتے،ان کے نزدیک بڑا ادارہ تبھی بن سکتا ہے جب ہم چھوٹے پن میں اس پر بھر پور توجہ دیں۔اس وقت ملت کا سب سے کمزور پہلو یہ ہے کہ جو شخصیت رخصت ہوجاتی ہے اس کی جگہ خالی رہ جاتی ہے۔مگر ڈاکٹر صاحب کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے اپنے بعد آنے والوں کو تیار کیا۔وہ خود ڈاکٹر تھے، انھوں نے اپنی دونوں بیٹیوں اور دونوں بیٹوں کو ڈاکٹر بنایا اور ان کے رشتے بھی ڈاکٹرس سے کیے۔ یہی نہیں اس وقت ان کے اپنے خاندان میں ستر ڈاکٹرس ہیں اور سب کے سب ایم ڈی ہیں،اسی طرح میسکو کی ذمہ داریاں مختلف باصلاحیت افراد میں تقسیم کیں اور ان کی تربیت اس طرح فرمائی کہ ان کے بعد کوئی کام متأثر نہ ہو۔
کسی شخصیت کے انتقال کے بعد ناقابل تلافی نقصان کا رونا رویا جاتا ہے۔کبھی کبھی اس لفظ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جانے والا ہمارا بڑا نقصان کرکے چلاگیا۔اس نقصان سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ ہمارے قائدین اپنی پچھلی صف کے افراد کو اپنی زندگی میں ہی آگے بڑھائیں ،تاکہ ان کی وفات سے جو خلا پیدا ہو وہ پر ہوجائے۔اپنے متبعین کی تربیت اپنے سے زیادہ بہتر کی جائے تاکہ آنے والا گزشتہ سے بہتر ہو۔باصلاحیت افراد کے لیے اپنے مناصب قربان کردیے جائیں، تاکہ ملت کا ناقابل تلافی نقصان نہ ہو۔جب ہمارے رہنما اور قائدین اپنی نسلوں کے مستقبل کی فکر کرتے ہوئے ان کے لیے روزی روزگار اورگھر مکان بناتے ہیں تو انھیں ملت کے مستقبل کی فکر بھی اپنا منصب سنبھالنے کے دن سے ہی کرنا چاہئے۔قوم کی بھی ذمہ داری ہے کہ ناقابل تلافی نقصان کا ماتم کرنے کی بجائے تلافی کے لیے منصوبہ بندی کرے۔اس لیے کہ موت کا یہ سلسلہ رکنے والا نہیں۔اللہ تعالیٰ تمام مرحومین بشمول ڈاکٹر فخرالدین محمد کی مغفرت فرمائے،جنت میں اعلیٰ مقام عطافرمائے اور ہم سب کویہ توفیق عطافرمائے کہ ہم ان کے مشن کو آگے بڑھاسکیں کیوں کہ یہی ان سے سچی محبت کا تقاضا اور یہی ان کو سچا خراج عقیدت ہے۔
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here