راشن کِٹس کی تقسیم

0
148
All kind of website designing

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

لاک ڈاؤن کے نتیجے میں شہریوں کے تمام طبقات متاثر ہوئے ہیں : وہ ملازمت پیشہ لوگ جن کی ملازمتیں چھوٹ گئی ہیں ، وہ تجارت پیشہ لوگ جن کی تجارت ٹھپ ہے ، وہ سفید پوش لوگ جو اپنی ضرورت عیاں نہیں کرسکتے ، لیکن دانے دانے کو محتاج ہیں اور وہ اور ان کے بچے بھوکے رہ کر زندگی گزار رہے ہیں _ سب سے زیادہ متاثر مزدور پیشہ طبقہ ہے جو روز کماتا اور روز کھاتا ہے _ لاک ڈاؤن کے نتیجے میں اس کی روزی روٹی کے ذرائع مسدود ہوگئے ہیں _ اس صورت حال میں بہترین عمل یہ ہے کہ بھوکوں کو کھانا کھلایا جائے اور ان کی آسودگی کے اسباب مہیّا کیے جائیں _ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :
” سب سے افضل صدقہ یہ ہے کہ تم کسی بھوکے کو کھانا کھلادو _”( بیہقی فی شعب الایمان :3367، الترغيب و الترھیب :92/2)
امن اور شکم سیری اللہ تعالیٰ کی دو بہت بڑی نعمتیں ہیں (قریش :4) ان کے مقابلے میں خوف اور بھوک اللہ کی نعمتوں پر ناشکری کی سزا بھی ہے جس سے اللہ انسانوں کو دوچار کرتا ہے (النحل :112) اور اس کی طرف سے کی جانے والی آزمائشیں بھی ہیں ، جو انسانوں کو لاحق ہوتی ہیں _ (البقرۃ :155) انسان اپنی دیگر ضروریات کو ٹال سکتا ہے ، اس کے پاس روپیہ پیسہ نہ ہو تو کچھ صبر کرسکتا ہے ، مکان نہ ہو تو کھلے آسمان کے نیچے گزارہ کرسکتا ہے ، لیکن بھوک کو زیادہ وقت تک ٹالنا اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا _ بچوں کا معاملہ اور بھی دگرگوں ہوتا ہے کہ وہ بھوک برداشت نہیں کرپاتے ، چنانچہ رونے پیٹنے اور واویلا کرنے لگتے ہیں اور انہیں دیکھ کر والدین کا کلیجہ پھٹنے لگتا ہے _ رفاہی کاموں کی بے شمار صورتیں ہیں ، جن میں سے ایک اہم صورت بھوکوں کو کھانا کھلانا ہے _۔ڈاکٹر رضی الاسلام ندویمقامِ غور ہے کہ اجمالی طور پر کہا جاسکتا تھا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو ، غریبوں اور محتاجوں کی ضروریات پوری کرو ، ان کے کام آؤ ، لیکن اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر مسکینوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب کیوں دی؟ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و سلم) نے کھانا کھلانے کو عظیم صدقہ کیوں قرار دیا؟
قرآن مجید میں مسکینوں کو کھانا کھلانے کی مختلف صورتوں کا بیان ہے _جو شخص روزہ نہ رکھ سکے اس کا فدیہ مسکین کو کھانا کھلانا ہے _(البقرۃ : 184) قسم کا کفّارہ 10 مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے _ (المائدۃ :89) حرم میں کوئی شخص شکار کرلے تو اس کا کفّارہ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے _ (المائدۃ :95) ظِہار (بیوی کو ماں کہہ دینے) کا کفارہ 60 مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے _ (المجادلۃ :4) پریشانی کے دن یتیموں اور مسکینوں کو کھانا کھلانے کو عظیم عمل کہا گیا ہے _( البلد : 14 _ 16)اہلِ جنت کا ایک وصف یہ بیان کیا گیا کہ وہ دنیا میں اللہ کو خوش کرنے کے لیے مسکینوں ، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے تھے _(الدھر :8) اور جہنم کا ایندھن بننے والوں کا ایک جرم یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ نہ خود مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے اور نہ دوسروں کو اس نیک کام پر ابھارتے تھے _(الفجر :18، الماعون :3)
اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے : ” بھوکے کو کھانا کھلاؤ _”۔ ( بخاری :3046)
” کھانا کھلانے والے جنت میں جائیں گے _”(مسند أحمد :8295)
” جو شخص کسی بھوکے کو کھانا کھلائے گا ، اللہ تعالیٰ اسے جنّت کے پھلوں میں سے کھلائے گا _”
(المجموع للنووی :235 /6)
” صدقہ کی ایک صورت یہ ہے کہ تم بھوکے کو کھانا کھلاؤ اور پیاسے کو پانی پلاؤ _” (سیر اعلام النبلاء : للذھبی :459 /16)
“وہ شخص مومن نہیں جو خود تو آسودہ ہو ، لیکن اس کا پڑوسی بھوکا ہو _” (الترغيب و الترھیب :323/3)
ان تمام آیات اور احادیث میں خاص طور پر کھانا کھلانے کا تذکرہ ہے _ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے وجوہِ خیر میں اس عمل کو بارگاہ الٰہی میں بہت زیادہ پسندیدگی سے دیکھا گیا ہے _۔
رفاہی کاموں میں آج کل کچھ افراد پیش پیش ہیں اور کچھ دینی جماعتیں ، تنظیمیں اور این جی اوز بھی _ وہ راشن کِٹس ، فوڈ کِٹس ، رمضان کِٹس ، عید کِٹس جیسے ناموں سے غذائی پیکٹس تیار کرتے ہیں ، جن میں آٹا ، چاول ، دال ، تیل اور کھانے کی دیگر ضروری اشیا ہوتی ہیں _ وہ انہیں سماج کے کم زور طبقات اور ضرورت مندوں تک پہنچاتے ہیں _ یہ حضرات بہت اہم خدمت انجام دے رہے ہیں اور سماج کی بڑی ضرورت پوری کررہے ہیں _ اللہ تعالیٰ ان کی خدمت قبول کرے اور اجرِ عظیم سے نوازے ، آمین _

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here