کیا موجودہ صدی میں انسانی نسل ختم ہو سکتی ہے؟

0
111
All kind of website designing

مارٹن ریس

اس میں کوئی شک نہیں کہ کوویڈ 19 کا حملہ ہمارے لیے اتنا غیر متوقع نہیں ہونا چاہیے تھا۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ مالدار ممالک بھی اس کے لیے تیار نہیں تھے؟ ایسا اس لیے ہوا کہ سیاست دانوں اور عوام کی ساری توجہ کا مرکز محدود ہوتا ہے۔ وہ عالمی اور طویل مدتی منظرنامے کی اہمیت سے واقف نہیں ہوتے۔ وہ نیٹ سلور کے اس مقولے کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ’غیر مانوس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ غیر متوقع بھی ہو۔‘
دراصل ہم باہمی جڑی ہوئی دنیا میں سر اٹھاتے بے شمار تباہ کن نئے خطرات کی حقیقت تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیںہوتے۔موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی تباہی جیسے مسائل انسانوں کے بدترین اجتماعی اقدامات کا نتیجہ ہیں۔ ہم ان سے پوری طرح آگاہ ہونے کے باوجود جوابی تدابیر اختیار کرنے میں ناکام رہے ،کیونکہ ان کے بھیانک اثرات سرمایہ کاری اور سیاسی فیصلوں کے فوری اثرات سے ماورا تھے اور ہندوستان کے پس منظر میں کہا جائے تو آج بھی ہمارے مرکزی حکمرانوں کو کورونا سے ملک کو بچانے سے زیادہ کارپوریٹ دوستوں نفع پہنچانے میں زیادہ دلچسپی ہے،وزیر اعظم نریندر مودی کا ”آپدا میں اوسر” (آفات میں نفع کمانا یا مواقع انگیز کرنا)جیسے خالص بنیااور ساہوکار والے بیانات چیخ چیخ کر یہی شہادت دے رہے ہیں۔
یہ کہاوت والے مینڈک والی بات ہے جو بتدریج گرم ہوتے پانی میں اطمینان سے بیٹھا رہتا ہے یہاں تک کہ جب اسے سمجھ آئے تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔کچھ اور مختلف قسم کے خطرات جیسے عالمی وبائیں اور بڑے پیمانے پر سائبر حملے فوری تباہی کا باعث بن سکتے ہیں اور کسی بھی وقت رونما ہو سکتے ہیں۔ اپنی شدید ترین حالت میں ایسا ایک واقعہ بھی تباہ کن اثرات میں کئی واقعات پر بھاری ہو سکتا ہے۔ ان کا امکان اور ممکنہ شدت بڑھتی جا رہی ہے۔
زلزلوں، شہابِ ثاقب اور شمسی شعلوں جیسے فطری واقعات جوں کی توں سالانہ اوسط کے ساتھ موجود ہیں جو انسانی اقدامات کے اثر سے ماورا ہیں لیکن بڑھتی ہوئی انسانی آبادی اور عالمی بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے ساتھ ساتھ ان کا انسانی اور اقتصادی خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس لیے ہمیں ان کے بارے میں پہلے والی نسلوں کی نسبت زیادہ فکر مند ہونا چاہیے۔
مجھے تو خدشہ ہے کہ دراصل ہمیں اس صدی میں مشکلات ہی مشکلات درپیش ہیں۔ کوویڈ 19 یقیناً ہمارے اور ہماری حکومتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی تھی کہ ہم غیر محفوظ ہیں۔سب سے پہلے مڑ کر تاریخ پہ ایک نظر ڈالتے ہیں۔ اس وقت عہد شباب سے گزرتی اور اب ہماری عمر رسیدہ نسل کے لیے سب سے بڑا خطرہ ایٹمی تباہی تھی۔ صدر کینیڈی نے کیوبا کے خلاف ایٹمی جنگ کا خطرہ 33 فیصد سے 50 فیصد تک قرار دیا تھا۔ان کے وزیر دفاع میکنمارا نے بعد میں جب وہ عمر رسیدہ اور زیادہ معاملہ فہم تھے، کہا تھا کہ ’ہم خوش قسمت تھے (کہ بچ گئے)۔‘ ہم 1970 اور 1980 کی دہائی میں کئی بار خوش قسمتی سے حادثاتی جنگوں کے خطروں سے بال بال بچ گئے۔
بہت سے لوگ اصرار کریں گے کہ ایٹمی تباہی ہوئی۔ ایک طرح سے یہ بات صحیح ہے۔ اگر پستول کے میگزین میں ایک یا دو گولیوں کے ساتھ آپ رشین رولٹ نامی گیم کھیلیں تو زیادہ امکان یہی ہے کہ آپ بچ جائیں گے ،لیکن خطرہ حیران کن حد تک شدید ہو گا یا آپ زندگی کی قیمت بہت معمولی گردانتے ہوں گے، جس کے لیے آپ کو ماہر جواری ہونا چاہیے۔سرد جنگ کے زمانے میں ہم اسی طرح کے جوئے میں گھرے تھے۔ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے اگر تین کی نسبت ایک بلکہ چھ کی نسبت بھی ایک گنا امکان ہوتا پھر بھی میں ایسا خطرناک قدم نہ اٹھاتا جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد زندگی سے محروم اور یورپی شہروں کا تاریخی تانا بانا بکھر کر رہ جاتا، چاہے دوسری طرف مغربی یورپ پر سوویت یونین کا قبضہ یقینی ہی کیوں نہ ہوتا۔
اور یقیناً ایٹمی جنگ کے اثرات براہ راست نشانہ بننے والے ممالک کے علاوہ بھی بہت سارے ملکوں کو بھگتنا پڑتے بالخصوص اگر یہ غیر معمولی ’سرد دھندلے موسم سرما‘ میں چھڑ جاتی۔ایٹمی جنگ کے بادل ابھی تک ہمارے سروں پر منڈلا رہے ہیں: اطمینان کی واحد وجہ یہ ہے کہ اب پانچ گنا کم ہتھیار ہیں اور امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ کے زمانے کی نسبت کسی خطرناک اقدام کے امکانات بھی کم ہیں۔ تاہم اب نو ایٹمی طاقتیں ہیں اور ماضی کی نسبت اس بات کا بہت زیادہ خطرہ ہے کہ علاقائی سطح پر چھوٹے ایٹمی ہتھیار استعمال کیے جائیں بلک یہاں تک کہ دہشت گرد بھی ایسا کر سکتے ہیں۔
کیمبرج یونیورسٹی میں میرے چند رفقائے کار کی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سائبر حملوں کے سامنے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم غیر محفوظ ہوتا جا رہا ہے۔ مزید برآں اس صدی میں آگے جا کر نئی سپر پاورز کے درمیان ٹکراؤ کا امکان ہم رد نہیں کر سکتے جو لگتا نہیں کہ کیوبا بحران جتنی خوش اسلوبی (یا خوش قسمتی) سے نمٹ جائے گا۔ایٹمی ہتھیار 20ویں صدی کی ٹیکنالوجی ہیں، لیکن یہ صدی مزید اضافوں کے ساتھ نئی ٹیکنالوجی لائی ہے۔
ہمارے موجودہ خدشات کے پس منظر میں ایک ایسی دنیا ہے جہاں انسانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ 1960 میں کے مقابلے میں اب ہم دگنے ہو چکے ہیں، یعنی 7.8 ارب، اور زیادہ سے زیادہ توانائی اور وسائل کے طلب گار ہیں۔
چند سال قبل دنیا بھر میں سالانہ شرح پیدائش اپنی بلند ترین سطح پر پہنچی جو اب بہت سے ممالک میں کم ہو رہی ہے۔ پھر بھی اندازے کے مطابق 2050 تک دنیا کی آبادی نو ارب کو چھو لے گی۔یہ بھی مکمل حقیقت نہیں کیوں کہ ترقی پذیر ممالک میں زیادہ تر افراد نوجوان ہیں۔ ابھی تک انہیں بچے پیدا کرنا اور طویل عرصے تک زندہ رہنا ہے۔ یہ اس وجہ سے بھی جزوی طور پر ہی ٹھیک ہے، کیونکہ زیرِ صحارا افریقہ جیسے خطوں کی ابھی تک شرح پیدائش و اموات نکالی ہی نہیں جا سکی۔
کلب آف روم اینڈ پال ایرلک کی تباہ کن معاشی صورت حال کی پیش گوئی کے باوجود خوراک کی پیداوار بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرتی آئی۔ اگرچہ اس دوران قحط بھی آئے ،لیکن اس کا سبب عمومی قلت نہیں متنازعہ اور غلط تقسیم تھی۔2050 میں نو ارب کو پالنے کے لیے مستقبل میں جینیاتی ترمیم شدہ فصلیں، ممکنہ حد تک کم زمینی کھدائی اور پانی کے تحفظ کی مدد سے مزید بہتر زراعت کی ضرورت ہو گی اور شاید غذائی اختراعات کے ذریعے حشرات الارض کو خوش ذائقہ خوراک میں تبدیل کرنا اور مصنوعی گوشت بھی زیادہ تیار کرنا پڑے۔
گاندھی کے بقول یہ سب کی ضروریات کے لیے کافی ہے لیکن سب کی ہوس کے لیے نہیں۔2050 کے بعد کے تخمینے قبل از وقت ہیں۔ ابھی تک یہ بھی واضح نہیں کہ عالمی عروج ہو گا یا زوال۔ اقوام متحدہ کے مطابق اگر کسی بھی وجہ سے افریقی خاندان ایسے ہی بڑھتے رہے تو براعظم کی آبادی 2100 میں دگنی ہو کر چار ارب ہو جائے گی اور اس طرح عالمی آبادی 11 ارب تک پہنچ جائے گی۔رجائیت پسند کہتے ہیں ہر منہ اپنے ساتھ ایک دماغ اور دو بازو بھی لے کے آتا ہے۔ لیکن یہ جغرافیائی سیاسی دباؤ یعنی ممالک کے درمیان اور ملکوں کے اپنے اندر عدم مطابقت ہے جو زیادہ پریشان کن ہے۔ پہلے والی نسلوں کی طرح جبریت پر یقین کی بجائے غریب ممالک کے افراد اب انٹرنیٹ کے ذریعے جانتے ہیں کہ وہ کس چیز سے محروم ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پہلے کی نسبت اب ہجرت بھی آسان ہے۔ یہ ریاست سے ناامیدی اور عدم استحکام کا شگون ہے۔ بالخصوص مغربی ممالک کی مالدار اقوام کو افریقہ میں خوشحالی کے لیے فوری اقدامات اٹھانے چاہئیں اور اس کی وجہ محض ان کی خیر خواہی کا جذبہ نہیں۔ایک اور اہم چیز یہ ہے کہ اگر زمین اور موسم پر بحیثیت مجموعی انسان بے رحمانہ طریقے سے اثر انداز ہوتا رہا تو ’ماحولیاتی جھٹکا‘ زمین کی اوپر والی سطح کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا کر کمزور کر سکتا ہے۔ کئی انواع کی مخلوق تیزی سے فنا ہو رہی ہے۔ ہم کتاب زیست کو پڑھنے سے پہلے ہی تباہ کیے چلے جا رہے ہیں۔
حیاتیاتی نظام میں تنوع انسانی فلاح کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ لیکن بطور انسان ہمارے لیے زمین کی اوپر والی سطح کی ثروت مندی کا تحفظ اپنی جگہ کہیں زیادہ اہم ہے۔ ہاورڈ یونیورسٹی کے عظیم ماہر ماحولیات ای او ولسن کے بقول ‘بڑے پیمانے پر معدومیت کا باعث بننا ہمارا ایسا جرم ہے جسے مستقبل کی نسلیں شاید کبھی معاف نہ کریں۔ ‘پروفیسر پرتھا داس گپتا نے حالیہ دنوں میں امریکی حکومت کے لیے حیاتیاتی تنوع کی اقتصادیات پر ایک جائزہ مکمل کیا ہے جو امید ہے 2006 میں نک سٹیرن کی ماحولیات پر کی گئی تحقیق جتنا دور رس اثرات کا حامل ہو گا۔سو دنیا میں آبادی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ ایک اور یقینی پیش گوئی بھی ہے کہ ماحول بتدریج زیادہ گرم بھی ہوتا جائے گا۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے مسئلے کی نسبت موسمیاتی تبدیلی پر یقیناً کم بحث نہیں کی گئی ۔اگرچہ اس سلسلے میں اقدامات کم ہی اٹھائے گئے ہیں۔
بین الحکومتی مجلس مشاورت برائے موسمیاتی تبدیلی کی پانچویں رپورٹ میں فوسل ایندھن کی مستقل میں شرح استعمال (اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی ہوئی شرح) کے متعلق مختلف پیش گوئیوں کی بنیاد پر مختلف تخمینے ظاہر کیے گئے۔ 2018 کی اس کی تازہ ترین اشاعت میں فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔
موجودہ حالات کے پیش نظر ہم تباہ کن گرمی اور گرین لینڈ میں پگھلتی برف جیسے طویل مدتی رجحانات کے خطرات کو مسترد نہیں کر سکتے، لیکن اگلی صدی تک بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کے شدید ترین خطرے کو تسلیم کرنے والے بھی اس بات میں اختلاف کا شکار ہیں کہ فوری طور پر کیسے اقدامات کرنے چاہئیں۔
یہ اختلافات معاشیات، اخلاقیات اور بالخصوص اس معاملے پر ہیں کہ ہمیں آئندہ نسلوں کے لیے کس قدر ذمہ داری محسوس کرنی چاہیے، کیا ہمیں طویل مدتی خدشات کو نظر انداز کر دینا چاہیے یا آئندہ نسلوں کے لیے خطرات کم کرنے کے لیے مناسب بندوبست کرنا چاہیے،لیکن ذرا خوشگوار بات کرتے کہ کاربن کے کم استعمال والے مستقبل کے لیے ایک ایسا راستہ ہے جو دونوں کے لیے برابر قابل قبول ہو گا۔ مختلف اقوام کو کم کاربن استعمال کرنے والی ہر طرح کی اشیا کی تیاری اور دیگر صنعتوں کی متوازی ترقی بالخصوص اسٹورج (بیٹریاں، کمپریسڈ ایئر، ہمپڈ اسٹورج، اڑن پہیے وغیرہ) اور اسمارٹ گریڈز پر تحقیق اور ترقی کا عمل تیز کرنا چاہئے۔
یہ صاف ستھری صنعتیں جس قدر تیزی سے آگے بڑھیں گی ان کی قیمتیں اسی نسبت سے کم ہوں گی اور انڈیا جیسے ممالک انہیں خرید سکیں گے جہاں اس کی مزید طلب میں اضافہ ہو گا، جہاں غریب آدمی کی صحت دھواں اگلتے چولہوں، سلگتی لکڑیوں اور گوبر کے سبب خطرے سے دوچار ہے اور جہاں اس کی عدم موجودگی میں کوئلے سے چلنے والے چولہے جلانا مجبوری ہو گی۔ہمیں نئی صنعتوں کی مخالفت کی بجائے ان کا مثبت تاثر اجاگر کرنا چاہیے۔ دنیا وسیع اور مطالبات سے بھر پور آبادی کو اس کے بغیر پائیدار توانائی، قوت بخش غذا اور اچھی صحت مہیا نہیں کر سکتی۔ لیکن بہت سارے لوگ پریشان ہیں کہ یہ اس قدر تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ ہم شاید ڈھنگ سے اس کا ساتھ نہ نبھا سکیں اور اس کا غلط استعمال موجودہ صدی میں ہماری راہ کھوٹی کر سکتا ہے۔
مائیکرو بایولوجی، فن تشخیص، ویکسینوں کی تیاری اور اینٹی بائیوٹکس میں پیش رفت ہمیں مستقبل میں قدرتی وباؤں کے خلاف کامیابی سے مقابلہ کرنے کی پیشکش کرتی ہے۔ لیکن یہی تحقیق انسانی ساختہ وباؤں کے خدشات (اور یہ میرا سب سے بڑا خوف ہے) بھی بڑھا دیتی ہے۔مثال کے طور پر 2012 میں امریکی ریاست وسکانسن اور نیدرلینڈز میں مختلف گروہوں نے ثابت کیا کہ انفلوئنزا وائرس کو زیادہ زہریلا اور انتقال پذیر بنانا حیران کن تک آسان ہے جو کئی لوگوں کے لیے مستقبل میں درپیش خطرات کی پیشگی خوفناک علامت تھی۔ اس اصول کے تحت کورونا وائرس میں ایسے ہی تجربات عین ممکن ہیں۔جینیاتی ترمیم کا طریقہ کار بہت خوش آئند ہے لیکن انسانی بچہ بننے کے بالکل ابتدائی مرحلے میں اس پر تجربات جیسے معاملات پر اخلاقی سوالات اٹھتے ہیں۔ جینیاتی تبدیلیوں کے اقدامات کے نتیجے میں مچھروں اور سرمئی گلہریوں جیسی کئی مخلوقات کے معدوم ہو جانے کے خطرات ہیں۔بایوٹیکنالوجی کے لیے کوئی ضابطہ وضع کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ لیکن مجھے خدشہ ہے کہ احتیاطی یا اخلاقی جو بھی ضابطے نافذ کیے جائیں وہ منشیات اور ٹیکس قوانین کی طرح دنیا بھر میں لاگو نہیں کیے جا سکیں گے۔ جو کچھ بھی کیا جائے جس نے کرنا ہے وہ کسی نہ کسی جگہ کر گزرے گا۔یہ ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ جہاں تک ایٹم بم کی بات ہے تو وہ بڑے پیمانے پر مخصوص نوعیت کی سہولیات کے بغیر نہیں بنایا جا سکتاہے، لیکن بایوٹیکنالوجی میں چھوٹے پیمانے کے دوہرے استعمال والے آلات استعمال ہوتے ہیں۔ بایوٹیکنالوجی اور سائبر ٹیکنالوجی کے گرہوں کی بڑھتی ہوئی طاقت حکومتوں کے لیے ناقابل گرفت مسائل کی بنیاد بنے گا اور آزادی، پرائیویسی اور سیکیورٹی کے معاملات بدتر ہوں جائیں گے۔یہ خدشات نسبتاً قریبی مدت یعنی 10 سے 15 سال کے عرصے تک کے لیے ہیں۔ 2050 اور اس کے بعد کی صورتحال کے متعلق کیا خیال ہے؟
بایوٹیکنالوجی کے محاذ پر شاید دو چیزوں متوقع ہیں۔ بنیادی انسانی خصوصیات کا تعین کرنے والے جینیاتی مرکبات کی بہتر تفہیم اور ان خصوصیات پر مشتمل جینوم کی آمیزش کی صلاحیت۔ اگر بائیو ہیکرز بے پناہ طاقت کے ساتھ اسے استعمال کرتے ہیں تو ممکن ہے ہماری ماحولیات (بلکہ ہماری نسلِ انسانی بھی) اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں۔دوسری انقلاب پذیر ٹیکنالوجی کے متعلق کیا خیال ہے: روبوٹ اور مصنوعی ذہانت؟ ڈیپ مائنڈ کے ایلفا گو زیرو کمپیوٹر نے گو اور شطرنج کے کھیل میں چمپیئن انسانوں کو زبردست شکست سے دوچار کیا۔ اسے محض قوانین بتائے گئے تھے اور اپنے خلاف بار بار محض چند گھنٹوں تک کھیلتے ہوئے اس نے مشق کی۔ٹریفک کے بہاؤ یا برقی تاروں جیسے پیچیدہ تیز رفتار سلسلوں میں مصنوعی ذہانت پہلے ہی انسانوں سے بہتر کام کر سکتی ہے۔ چائنیز معیشت کی زیادہ بہتر منصوبہ بندی کر سکتے ہیں ،جس کا مارکس اور اسٹالن محض خواب ہی دیکھ سکتے تھے۔یہ سائنس کے لیے بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔پروٹین اور نشہ آور ادویات کی تیاری ہی نہیں بلکہ شاید یہ مسئلہ بھی حل کر سکتی ہے کہ آیا اسٹرنگ تھیوری واقعی ہماری کائنات کو واضح کر سکتی ہے یا نہیں۔
مصنوعی ذہانت کے معاشرتی اثرات کے بارے میں پہلے ہی بہت تذبذب پایا جا رہا ہے۔ کئی ماہرین معاشیات اور سماجی سائنس دان کام کاج میں برپا ہونے والے انقلاب پر بہت سی شاندار کتابیں لکھ چکے ہیں۔ہماری زندگیوں میں مصنوعی ذہانت کا عمل دخل اور نفوذ بڑھ جائے گا۔ ہماری ساری حرکات و سکنات، ہماری صحت اور مالی لین دین کا سارا ریکارڈ آن لائن ہو گا جس کی باگ ڈور ملٹی نیشنل اجارہ داروں کے ہاتھ میں ہو گی۔
اگر ہمیں کچھ مدت کے لیے جیل میں بھیج دیا جاتا ہے، آپریشن کی تجویز دی جاتی ہے یا بری کریڈٹ ریٹنگ دی جاتی ہے تو ہم اپنے متعلق ہی وجوہات جاننے کے لیے ان کے منتظر ہوں گے۔ اگر اس طرح کے فیصلے الگوردم کو تفویض کیے گئے تو ہمارا پریشان ہونا بنتا ہے۔ اگرچہ اس بات کے ٹھوس شواہد ہی کیوں نہ ہوں کہ انسانوں کا زبردستی متبادل بننے والی مشینیں اوسطاً بہتر فیصلے کرتی ہیں۔سائبر کریمنلز اور ان کے خلاف دفاع کرنے والوں کے درمیان ہتھیاروں کی جنگ مزید مہنگی اور پریشان کن ہو جائے گی۔ بہت سے ماہرین کے خیال میں سینتھیٹک بایو ٹیکنالوجی کی طرح مصنوعی ذہانت کو بھی ذمہ دارانہ ایجادات کے لیے ابھی سے کسی رہنما ضابطے کی ضرورت ہے۔
کارپوریٹ سوشل اینڈ انوائرمینٹل ریسپانسبلٹی (CSER) اور اس جیسے دیگر اداروں نے کئی بہت اہم جائزے پیش کیے ہیں۔ اخلاقی سوالات پہلے ہی سر اٹھا رہے ہیں کیونکہ مصنوعی ذہانت تحقیقی زمرے سے نکل کر عالمی کمپنیوں کے لیے کثیر سرمایہ بنانے کے ممکنہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔یہ کمپیوٹر کی رفتار ہے جو اسے کوئی بھی چیز بہت جلد سیکھنے میں مدد دیتی ہے، لیکن جیسا کہ اسٹورٹ رسل نے خاص طور پر ہمیں متوجہ کیا ہے کہ انسانی رویوں کو سیکھنا ان کے لیے بہت آسان نہ ہو گا، کیونکہ اس کے لیے حقیقی افراد کا اصلی گھروں یا کام کاج کی جگہوں پر مشاہدہ درکار ہے۔مشین حقیقی زندگی کی سست روی کی حسیات کے سامنے بے بس ہو گی یہ اسی طرح ہے جیسے ہمیں بیٹھ کر دیکھنا پڑے کہ درخت کیسے بڑے ہوتے ہیں۔روبوٹس ابھی تک شطرنج کے اصلی بورڈ پر بچے کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ وہ گلہری کی طرح ایک سے دوسرے درخت پر اچھل کود نہیں کر سکتے،لیکن حسیات کی حامل ٹیکنالوجی بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔کتنی تیز رفتاری سے، اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ یہاں ایک اور مسئلہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی پیش رفت کی سمت معین کرنے کے مقابلے میں اس کی رفتار کے متعلق کوئی پیشین گوئی کرنا بہت ہی مشکل ہے۔بعض اوقات اچانک نمایاں پیش رفت کی لہر آتی ہے جیسے گزشتہ دہائی میں آئی ٹی اور اسمارٹ فونز کا ریلا تھا، لیکن طویل مدتی بنیاد پر یہ پیچیدہ عمل ہے۔ چلیں ذرا اس سے بھی آگے کی سوچتے ہیں۔ اگر مشین اپنا دماغ بنانے میں بھی کامیاب ہو گئی تو کیا ہو گا؟ کیا یہ شائستہ رہے گی یا بدمعاش؟ بوسٹرم اور ٹیگ مارک کی پیش گوئی والی کتابیں مایوس کن تصویر کھینچتی ہیں جہاں مصنوعی ذہانت منہ زور ہو کر مختلف آلات کو منسلک کرنے والے انٹرنیٹ کے نظام میں دخل اندازی کر کے انسانوں کی جگہ خود قبضہ کر لیتی ہے۔مصنوعی ذہانت کے چند ماہرین اسے سنجیدگی سے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بایو ٹیکنالوجی کی طرح اس شعبے کو بھی ابھی سے ضابطے کی ضرورت ہے۔ لیکن دوسری طرف روڈنی بروکس (بیکسٹر روبوٹ کے بانی) جو ان خدشات کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ حقیقی حماقتوں جیسی پریشان کن صورت حال سے دوچار کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کو ابھی نہایت طویل عرصہ درکار ہو گا۔ممکن ہے ایسا ہی ہو، لیکن معاشرے کے خود مختار روبوٹس میں تبدیل ہونے کے بہت زیادہ امکانات ہیں۔ اگرچہ اس بات کا فیصلہ ہونا باقی ہے کہ یہ بیوقوف ساونت ہوں گے یا بہترین انسانی صلاحیتوں کے مالک اور ہمیں اس کی خرابیوں اور نقصانات کے بارے میں فکرمند ہونا چاہیے یا اپنی شکست کے متعلق۔
گوگل کے لیے کام کرنے والے پیش بین رے کرزوائل کہتے ہیں ایک بار مشینیں انسانی صلاحیتوں سے آگے نکل گئیں تو وہ اپنے تئیں کہیں زیادہ طاقتور نسل تیار کر لیں گی، ایک انسانی ذہن سے بھی تیز ترین مصنوعی ذہن۔انہوں نے ’روحانی مشین کا عہد‘ The Age of Spiritual Machines نامی ایک کتاب لکھی ہے، جس میں وہ پیشین گوئی کرتے ہیں کہ انسان جینیاتی انسلاک کے ذریعے کمپیوٹر کے ساتھ ضم ہو جائیں گے۔ قدیم روحانی اصطلاح کے مطابق وہ نیا جنم لیں گے۔اس کے بعد ہمیں شخصی شناخت کے قدیم فلسفیانہ مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیا آپ کا دماغ کسی مشین میں ڈاؤن لوڈ ہو سکے گا؟ اگر ایسا ہوا تو آپ پھر کس طرح سے آپ رہیں گے؟ کیا حقیقی جسم تباہ ہونے کے باوجود آپ کو اپنے بارے میں مطمئن ہونا چاہیے؟ اگر آپ سے اور بھی آپ ہی کی طرح کے انسان تیار کر لیے گئے تو کیا ہو گا؟ فلسفیوں کے لیے یہ قدیم پہیلیاں ہیں، لیکن عملی ماہرین اخلاقیات کو شاید کسی موڑ پر ان کا جواب دینا پڑے،لیکن کرزوائل کو تشویش ہے کہ ممکن ہے ان کا نرمان ان کی زندگی میں نہ ہو سکے۔ اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ ان کا جسم اس وقت تک برف میں لگا کر رکھ دیا جائے جب تک یہ لمحہ آ نہیں جاتا۔ امریکی ریاست ایرزونا میں ایک کمپنی نائٹروجن لگا کر محفوظ کر لے گی ،تاکہ جب دائمی حیات کی پیشکش موجود ہو تو آپ کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے یا آپ کا دماغ ڈاؤن لوڈ کیا جا سکے۔میں زندگی کی آخری سانسیں برطانوی قبرستان کے بجائے امریکی فریزر میں لوں گا۔
یقیناً طویل عمری پر تحقیق کو نہایت ترجیح دی جا رہی ہے۔ کیا کچھ مفید چیزوں کا اضافہ کیا جائے گا؟ یا بڑھتی ہوئی عمر ایک بیماری ہے جس کا علاج کیا جا سکتا ہے؟ عمر میں کسی قسم کا ڈرامائی اضافہ آبادی کے تخمینوں کو تہہ و بالا کر دے گا جس کے دور رس سماجی اثرات ہوں گے۔ لیکن ممکن ہے یہ اس وقت ہو جب انسان باقی چیزوں میں بھی اضافہ کرنے کے قابل ہو۔کم سے کم اتنا ہے کہ سائبیر ٹیکنالوجی اور جینیاتی ترمیم کے ذریعے بنی نوع انسان میں تبدیلی برپا کرنا یقینی ہے۔ مزید برآں مستقبل کا یہ ارتقا، ایک طرح کی یہ دنیاوی ذہن کی پرداخت، ڈارون کے نظریہ ارتقا کی طرح ہزاروں صدیوں کی بجائے محض چند صدیاں لے گا۔یہ کھلبلی مچا دے گا۔ جب ہمیں قدیم زمانے کے ادب اور نوادرات پسند آتے ہیں تو ہم ان سے ایک تعلق محسوس کرتے ہیں اس کے باوجود کہ ان فنکاروں اور ان کی تہذیبوں اور ہمارے درمیان ہزاروں سال کی خلیج حائل ہوتی ہے،لیکن آج سے چند سو سال بعد کی غالب مصنوعی ذہانت سے کسی طرح کے جذباتی لگاؤ کے بارے میں ہم بالکل بھی پرامید نہیں ہیں ،چاہیے وہ کمپیوٹرائزڈ حساب و شمار کی مدد سے ہمیں سمجھنے کی صلاحیت ہی کیوں نہ رکھتے ہوں۔
آئیے! ماضی قریب میں جھانک کر دیکھتے ہیں: تاریخی دستاویزات ایسے انکشافات سے بھری پڑی ہیں کہ جب تہذیبوں کا تار و پود بکھر گیا یا ان کا چراغ ہی گل ہوگیا۔ مشہور تاریخ دان جیرڈ ڈائمنڈ اور حالیہ دور میں لیوک کیمپ اور دیگر ایسے واقعات جمع کر رہے ہیں،لیکن اب ایک بڑا فرق یہ ہے کہ ہماری دنیا ایک دوسرے سے اس قدر جڑی ہوئی ہے کہ ایک افتاد کسی مخصوص خطے پر پڑی تو اس کے اثرات پوری دنیا میں پھیل جائیں گے۔ اس لیے ہمیں ایسے سماجی یا ماحولیاتی بحران کو دھیان میں رکھنا چاہیے جو واقعی پوری دنیا کے لیے دھچکے کا باعث ہو گا۔یہ دھچکا عارضی بھی ہو سکتا ہے اور طویل المدتی بھی۔ دوسری طرف اس کی شدت اور پھیلاؤ اس قدر زیادہ ہو سکتا ہے (اور اس قدر ماحولیاتی اور جینیاتی تنزل میں پھینک سکتا ہے) کہ باقی بچ جانے والے تہذیب کو موجودہ شکل میں شاید کبھی دوبارہ نہ کھڑا کر سکیں،لیکن اس سے ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے: کیا مختلف اقسام کے الگ الگ ایسے واقعات ممکن ہیں جو ہم سب کو زندگی سے محروم کر دیں گے، ایک ایسی تباہی جو پوری بنی نوع انسان کو ہی ملیا میٹ کر دے؟ حیاتیات یا طبیعیات کے تجربات کے پس منظر میں یہ سوال زیر بحث رہا ہے جن میں ایسی صورت حال پیدا کی جاتی ہے جو قدرتی طور پر کبھی رونما نہیں ہوئی۔
کیا سائنس دان پختہ یقین دہانی کروا سکتے ہیں کہ ان کے تجربات خطرے کا باعث نہیں ہوں گے؟ کل سورج کے نہ ابھرنے یا ایک منصفانہ ڈائی کے نتیجے میں مسلسل سو چھکوں کے خلاف ہم شاید بے شمار اندازے لگا سکیں کیونکہ ہمیں اعتماد ہے کہ ہم ان چیزوں کو سمجھتے ہیں۔ لیکن اگر ہماری آگاہی کمزور ہے جیسا کہ سائنس کے بہت سارے محاذوں پر ہے تو ہم کوئی پیش گوئی نہیں کر سکتے۔ماہرین حیاتیات کو ممکنہ طور پر تباہ کن جینیاتی ترامیم شدہ خطرناک جراثیم بنانے یا انسانی جینیاتی نظام میں بڑی تبدیلی سے گریز کرنا چاہیے۔ سائبر ماہرین عالمی بنیادی نظام میں کسی بڑی سطح کی یکلخت خرابی سے جنم لینے والے خطرے سے واقف ہیں۔جدت پسند جو ترقی یافتہ مصنوعی ذہانت کے مفید استعمال میں اضافہ کر رہے ہیں انہیں اس مقام سے دور رہنا چاہیے جہاں مشین انسان کی جگہ لے لے۔ہم میں سے اکثریت ان خطرات کو سائنس فنکشن قرار دے کر نظر انداز کرنے کی عادی ہے لیکن جن خدشات کا ذکر کیا گیا ہے ان کے پیش نظر، چاہے ان کے امکانات بہت معمولی ہی کیوں نہ ہوں، صرف نظر نہیں برتنا چاہیے۔دوسری طرف جدت کے کچھ فائدے بھی ہیں۔ احتیاطی اصول پر کاربند ہو کر انکار کرنے سے بہتر متبادل کھو دینے کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔برسبیلِ تذکرہ ہمیں در پیش حقیقی وجودی خطرات کو اس اخلاقی سوال کے مناسبت سے اہمیت دینی چاہیے جو ڈیرک پارفٹ نے اٹھایا ہے: ان لوگوں کے حقوق جو ابھی پیدا نہیں ہوئے ہیں۔
دو منظر ناموں پر غور کیجئے: پہلا منظر یہ کہ 90 فیصد انسانیت کا خاتمہ ہو جاتا ہے دوسرا یہ کہ 100 فیصد انسانیت ختم ہو جاتی ہے۔ پہلے کی نسبت دوسرا منظر کس قدر زیادہ بھیانک ہے؟ کچھ لوگ کہیں گے 10 فیصد زیادہ کیونکہ پہلے کی نسبت انسانوں کی تعداد 10 فیصد زیادہ ہے،لیکن پارفٹ کہتے ہیں دوسرے منظر کا شاید موازنہ ممکن ہی نہیں کیونکہ انسانی معدومیت مستقبل میں پیدا ہونے والے کروڑوں، اربوں لوگوں کا راستہ روک دے گی بلکہ یہ سلسلہ لامتناہی ہے کیونکہ زمین سے ماورا مابعد انسانی مستقبل بھی متاثر ہو گا۔چند فلسفی پارفٹ کی دلیل تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’متوقع انسانوں‘ کی وقعت بھی اتنی ہی ہونی چاہیے جتنی حقیقی انسانوں کی (ہم زیادہ لوگوں کو خوش رکھنا چاہتے ہیں نہ کہ خوش افراد کو زیادہ کرنا چاہتے ہیں)۔یہاں تک کہ اگر کوئی ان سطحی دلیلوں کو سنجیدگی سے لیتا ہے تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اگر ماورائے زمین پہلے سے کوئی مخلوق موجود ہوئی جو اپنی رہائش کی جگہ کم پڑنے کے سبب کوئی دوسری زمین ہتھیانے کے لیے کائناتی نظام کو ہلا کر رکھ دے تو!
تاہم متوقع انسانوں کی دانشورانہ کھیل کو ایک طرف رکھتے ہوئے ان انسانوں کی معدومیت کی کہانی ہمیں پریشان کرتی ہے جو اس وقت موجود ہیں۔ ہم میں سے اکثریت جو گزشتہ نسلوں کے چھوڑے ہوئے ورثے سے آگاہ ہے وہ افسردہ ہو جائے گی اگر اس بات پر یقین کرنے لگے کہ بعد میں کچھ زیادہ نسلیں نہیں آنے والیں۔
میرا خیال ہے ایسے بدترین حالات کے متعلق سوچنا انتہائی ضروری ہے۔ ہم درپیش موجودہ خطرات سے زیادہ بھیانک خطرات کو کلی طور پر رد نہیں کر سکتے۔ درحقیقت ہمارے پاس ایسی ٹھوس وجوہات نہیں ہیں جن کی بنیاد پر ہم مستقبل میں ٹیکنالوجی کے برپا کردہ بدترین حالات سے بچ نکلنے کے لیے پراعتماد ہوں۔موسمیاتی تبدیلیوں کے متعلق منصوبہ بندی کرتے ہوئے مسائل کی ایک اور بڑی سطح سامنے آتی ہے جو متنازع ہے کہ ہمیں ایک صدی بعد جینے والے افراد کا کتنا خیال رکھنا چاہیے۔ عالمی آبادی کے مسئلے کی طرف ہمارے رویے کی سمت متعین کرنے میں بھی اس سوال کا بہت عمل دخل ہے۔
لیکن میں آخر میں فوری نوعیت کے خدشات کی طرف پلٹتا ہوں۔ رائے شماری کے جائزوں کے مطابق نوجوان نسل جسے موجودہ صدی کا زیادہ عرصہ گزارنا ہے وہ طویل مدتی عالمی مسائل کے متعلق زیادہ فکر مند ہے اور ان کی سرگرمیاں امید کی شمع روشن کرتی ہیں۔
یہ بات مسلم ہے کہ کوئی ایسا سائنسی رخنہ نہیں جو پائیدار دنیا کے حصول کے راستے میں رکاوٹ ہو، جہاں سبھی لوگ اس سے بہتر طرز زندگی سے لطف اندوز ہوں ،جو آج مغرب میں موجود ہے۔ ہم نئے خطرات کے سائے میں سانس لیتے ہیں لیکن یہ ‘ذمہ دارانہ جدت پسندی’ کی روش سے کم کیے جا سکتے ہیں بالخصوص بائیو ٹیکنالوجی، جدید ترین مصنوعی ذہانت اور جیو انجینئرنگ جیسے شعبوں میں۔ اور دنیا میں ٹیکنالوجی کی ازسر نو ترجیحات متعین کرنے سے۔ہم صنعتی رجائیت پسند ہو سکتے ہیں۔ لیکن منہ زور سیاسیات اور عمرانیات مایوسی پیدا کرتی ہیں۔ ماحولیاتی افراتفری، بے لگام موسمیاتی تبدیلی اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے غیر ارادی نتائج جیسے مسائل جن کا میں نے ذکر کیا ہے وہ ہمارے معاشرے کے لیے سنجیدہ بلکہ تباہ کن دھچکے کا باعث بن سکتے ہیں۔
زیادہ تر آزمائشیں عالمی ہیں۔ کوویڈ 19 سے دوچار دنیا بھی ایک آزمائش ہے۔ خوراک، پانی اور قدرتی وسائل کی ممکنہ کمی اور کم کاربن والی توانائی کی جانب منتقلی جیسے مسائل سے ہر قوم الگ الگ عہدہ برآ نہیں ہو سکتی۔ نہ ہی ممکنہ خطرناک ایجادات سے بالخصوص جو عالمی تجارتی مفادات سے منسلک ہیں۔نئی عالمی صف بندی میں دراصل موسم ایک بنیادی مسئلہ ہے جس کے لیے قوموں کو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی اور عالمی ادارہ صحت کی طرح کے اداروں کو زیادہ خود مختاری سے کام کرنے کا موقع فراہم کرنا ہو گا۔سائنس دانوں کا فرض ہے کہ اپنے کام کے مفید استعمال کو فروغ دیں اور خطرات سے آگاہ کریں۔ یونیورسٹیوں کو اپنے عملے کی مہارت اور مجموعی قوت کو اس تحقیق میں کھپانا چاہیے کہ کون سے خوفناک پہلو بطور سائنس فکشن رد کیے جا سکتے ہیں اور سنجیدہ قسم کے خطرات سے بچنے کا بہترین راستہ کونسا ہے۔ ہم نے کیمرج میں ان مسائل پر توجہ کے لیے خصوصی مرکز قائم کر دیا ہے۔
سیاست دان کوویڈ 19 جیسے فوری نوعیت کے مسائل پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں، لیکن وہ اس وقت تک موسمیاتی تبدیلی اور جینیاتی ترامیم جیسے عالمی اور طویل مدتی معاملات کو ترجیح نہیں دیں گے، جب تک میڈیا اور ان کے ان باکس مسلسل انہیں یاددہانی نہیں کرواتے رہیں گے۔ہنگامی صورت حال کے علاوہ حکومتوں کے لیے سائنس دانوں کا اثر و رسوخ کم ہی کارگر ہوتا ہے۔ انہیں این جی اوز، بلاگز اور صحافت، ڈیوڈ اٹنبرو، بل گیٹس یا گریٹا تھنبرگ جیسی کرشماتی شخصیات کے تعاون اور میڈیا پر اپنی آواز بلند کر کے اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہیے۔ سیاست دان طویل مدتی دانشمندانہ فیصلے کریں گے اگر انہیں اپنے ووٹ نہ کھو دینے کا یقین ہو۔میں اپنی بات کا اختتام ایک بار پھر ماضی کے دریچے سے کروں گا جو 1960 کی دہائی میں نہیں بلکہ سیدھا قرون وسطی میں کھلتا ہے۔ قرون وسطی کے لوگوں کے لیے ساری کائناتیں ماضی کے محض چند ہزار سال تک پھیلی ہوئی تھیں۔ وہ سیلابی ریلوں، طاعون اور غیر منطقی آفتوں کے سامنے محض بے بسی اور حیرت کی تصویر تھے۔زمین کا بیشتر حصہ نامعلوم تھا، لیکن اس بات سے باخبر ہونے کے باوجود کہ ان کی تکمیل تک وہ زندہ نہیں ہوں گے، معماروں نے قدیم ٹیکنالوجی سے شاندار کلیسے، وسیع و عریض عمارات تعبیر کیں جو آج تک ہمیں متاثر کرتی ہیں۔ہمارا زمان و مکان کا افق، وسائل اور علم کی طرح اب کافی وسیع ہے، لیکن ہم بعد میں آنے والی صدیوں کے متعلق منصوبہ بندی نہیں کرتے۔ یہ ایک پیراڈاکس ہے۔ لیکن اس کی ایک وجہ ہے۔ قرون وسطی کے لوگ ایسے پس منظر میں یہ سب کچھ کر رہے تھے جہاں ایک نسل سے دوسری تک بہت تھوڑی تبدیلی آتی تھی۔وہ پراعتماد ہوتے تھے کہ تکمیل شدہ کلیسا کی داد ان کے پوتے دیں گے۔ لیکن ان کے برعکس ہمارے لیے اگلی صدی موجودہ سے یکسر مختلف ہو گی۔ ہمیں ابھی سے اس کے متعلق یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے اس لیے منصوبہ بندی بھی بہت مشکل ہے۔اب ہمیں سماجی اور صنعتی تبدیلیوں کے کم ترین دورانیے اور بایولوجی، جیالوجی اور کاسمالوجی کے کروڑوں سالہ دورانیے کے درمیان فیصلہ کن موڑ درپیش ہے۔
سپیس شپ ارتھ وسیع خلا میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کی سواریاں بے چین اور سرکش ہیں۔ ان کی زندگیوں کا تانا بانا دخل اندازیوں اور خرابیوں کے باعث کمزور پڑ چکا ہے۔ لیکن منصوبہ بندی اور دور رس نگاہوں کا شدید فقدان ہے۔21ویں صدی کی ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ہمیں عالمگیر سوچ اپنانا ہو گی، ہمیں دانشمندی کا مظاہرہ کرنا ہو گا، ہمیں طویل مدتی فکر مندی درکار ہے لیکن ایسی اقدار کی روشنی میں جو محض سائنس عطا نہیں کر سکتی۔

ایڈٹنگ و ترجمہ میم ضاد فضلی

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here