کورونا سے نجات

0
298
All kind of website designing

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

اہلیہ کو جیسے ہی معلوم ہوا کہ میری دوسری کورونا رپورٹ نگیٹیو آئی ہے، فوراً سجدہ میں گر پڑیں، اٹھیں تو شکرانے کی نماز پڑھی، پھر مجھے اطلاع دی۔ ان کی زبان پر برابر شکرانے کے الفاظ جاری تھے۔ گھر کے تمام افراد خوش تھے اور خوشی ان کے چہروں سے چھلک رہی تھی ۔
3 _ 4/ اپریل 2021 ء کو جامعۃ الفلاح ، بلریا گنج ، اعظم گڑھ کی مجلس شوریٰ کے اجلاس سے فارغ ہوا تو طبیعت میں کچھ گرانی کا احساس ہوا ، اس کے باوجود اگلے دن آفس چلا گیا ۔ مگر شام ہوتے ہوتے بخار تیز ہوگیا ۔ پھر تو روزانہ صبح بخار نامل رہتا ، دوپہر سے بڑھنا شروع ہوتا ، رات میں بہت تیز ہوجاتا ۔ گھریلو ادویہ سے افاقہ نہ ہوا تو مرکزجماعت اسلامی ہند کے کیمپس میں واقع الشفاء ہاسپٹل چلا گیا ۔ ڈاکٹر نے ٹائیفائڈ اور ڈینگو کے ساتھ کورونا کا بھی ٹیسٹ کروانے کو کہا ۔اوّل الذکر دو ٹیسٹ کروالیے ، لیکن کورونا کا ٹیسٹ کروانے کی ہمّت نہیں ہوئی ۔ تیسرے دن پھر ڈاکٹر کے سامنے حاضری ہوئی تو انھوں نے سرزنش کی اور سمجھایا کہ کورونا کا بھی ٹیسٹ کروالینے میں حرج کیا ہے؟ رپورٹ نگیٹیو آئی تو اچھی بات ہے ، پازیٹیو آگئی تو علاج شروع ہوجائے گا ۔ بالآخر ٹیسٹ کرایا اور ماہِ ڈاکٹر رضی الاسلام ندویرمضان المبارک شروع ہونے سے ایک روز قبل پازیٹیو رپورٹ میرے ہاتھ میں تھی ۔
کورونا میں مبتلا ہوجانے کا احساس ایک عجیب احساس تھا ۔ یوں تو اس مرض کا آغاز ایک برس قبل ہوا تھا اور اس کے تمام نشیب و فراز نگاہوں کے سامنے تھے ۔ تڑپ تڑپ کر مرنے والے لاکھوں انسانوں کی خبریں ذہن میں محفوظ تھیں اور بہت سوں کا مشاہدہ ویڈیو کلپس کے ذریعہ کیا تھا ۔ لفظ ’کورونا‘ دہشت کی علامت بن گیا تھا ۔ آہستہ آہستہ اس کی خطرناکی میں کمی آئی گئی ، مبتلا ہونے والوں کی تعداد میں کمی آئی اور شفا پانے والوں کی تعداد بڑھتی گئی ، لیکن پھر اچانک کیا ہوا کہ اس کی دوسری لہر نے سب کچھ تلپٹ کردیا ، اس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد بہت تیزی سے بڑھنے لگی ، یہاں تک کہ ہندوستان میں یومیہ لاکھوں میں پہنچ گئی ۔ پہلی لہر میں ہمارا کیمپس تقریباً محفوظ تھا ، دوسری لہر میں کیمپس اور اس کے اطراف میں متعدد افراد کے متاثر ہونے کی برابر خبریں ملنے لگیں ۔ ہم یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ کورونا صرف دوسروں کو اپنی گرفت میں لے گا ، ہماری طرف نگاہ بھی نہیں اٹھائے گا ، لیکن ہمیں بھی گرفتارِ بلا کرکے اس نے ہمارا یہ اندازہ غلط ثابت کردیا ۔
جن دنوں میں کورونا کا شکار ہوا انہی ایام میں میرے بہت سے قریبی بزرگ اور احباب اس کی زد میں آئے اوراللہ کو پیارے ہوگئے ۔ مولانا ولی رحمانی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ، جناب صدیق حسن سابق نائب امیر جماعت اسلامی ہند ، جناب عابد اللہ غازی مشہور ماہر تعلیم ، مولانا مقبول احمد فلاحی سکریٹری تنظیمی امور جماعت اسلامی ہند حلقہ اترپردیش ، پروفیسر اشتیاق دانش فلاحی خازن انسٹی ٹیوٹ آف آبجکٹیو اسٹڈیز نئی دہلی ، عزیزی رفاقت چودھری کوآرڈینیٹر اترپردیش ہیومن ویلفیرفاؤنڈیشن ، مولانا وحید الدین خاں مشہور صاحبِ طرز مصنف ، وغیرہ ۔ انہی دنوں میں ایک ہی دن علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے دس اساتذہ کے انتقال کی خبر ملی ، جن میں سے ایک میرے قریبی رفیق اور جماعت اسلامی ہند کے رکن پروفیسر احسان اللہ فہد بھی تھے ۔ اس سے ایک ہفتہ قبل ان کے والد جناب عبارت حسین ، جو جماعت اسلامی کے قدیم رکن تھے اور اگلے دن ان کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر امان اللہ فہد ، استاذ جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی بھی اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ ان متواتر اموات کا ذہن پر بہت شدید اثر پڑا ۔ لگتا تھا ، اگلا نمبراب میرا ہے ۔
دوسری طرف ایک سوچ نے اطمینان و سکون کی کیفیت پیدا کردی ۔ میں نے سوچا ، میری موت اچانک ہو سکتی تھی ، اتنی اچانک کہ گھر والوں سے کچھ کہنے سننے کا موقع نہ ملتا اور توبہ و استغفار کی بھی توفیق نہ مل پاتی ، لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے مہلت دی ہے کہ اپنے گناہوں کو یاد کرلوں اوران پر اس سے معافی مانگ لوں ۔ بس پھر کیا تھا ، ہر وقت زبان پر توبہ و استغفار کے کلمات رہنے لگے ۔ میں نے اپنے ایک ایک گناہ کو یاد کیا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ، اس سے معافی مانگی ، آئندہ کوئی گناہ نہ کرنے کا عہد کیا ۔ مجھے لگا ، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بڑا محبت کرنے والا ہے ، اس نے ضرور میری توبہ قبول کی ہو گی اور مجھے معاف کردیا ہو ۔
اس عرصے میں میری اہلیہ نے میری غیر معمولی خدمت کی ۔ وہ بیچاری خود مجموعۂ امراض ہیں ۔ میری پازیٹیو رپورٹ آنے سے پہلے خود ان کی طبیعت بحال نہیں تھی ، لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ مجھے کورونا ہوگیا ہے تو جیسے ان کے بدن میں بجلی سی بھر گئی ۔ میری خدمت کرنا ، آرام پہنچانا ، دوا علاج کی فکر کرنا انھوں نے اپنا مشن بنالیا ۔ صبح سے رات تک روزہ رکھتے ہوئے وہ برابر ان کاموں میں لگی رہتیں ۔ تھوڑے تھوڑے وقفے سے ڈرائی فروٹ کھلانا ، کاڑھا(قہوہ) پلانا ، چائے پلانا ، ناشتہ دینا ، غرارہ کرانا ، پھل کاٹ کر کھلانا ، بھپارہ دلانا ، دوپہر کا کھانا کھلانا ، جوس پلانا ، تین وقت کی دوا کھلانا ، رات کا کھانا کھلانا ، برابر گرم پانی پلاتے رہنا ، سوتے وقت پھر بھپارہ دلانا ، غرض مشین کی طرح وہ میرے کاموں میں لگی رہتیں ۔ ابتدا ہی میں وہ بھاگ کر ہومیو ڈاکٹر کے پاس گئیں اور ان سے میرے لیے دوائیاں لے کر آئیں ۔
مجھے احساس ہے کہ میری طبیعت کی بحالی میں دواؤں سے زیادہ میرے دور و نزدیک کے احباب ، جن میں خواتین کی بھی بڑی تعداد ہے ، ان کی دعاؤں کا دخل رہا ہے ۔ میں نے اپنی بیماری کی خبر عام نہیں کی تھی ۔ لیکن شاید میرے کچھ طے شدہ آن لائن پروگرام کینسل ہوئے ، جس سے احباب کو خبر لگ گئی ، پھر تو خیریت طلبی کے ساتھ دعاؤں کا تانتا باندھ گیا ۔ یہ احساس کہ میرے لیے ہزاروں افراد دعا کررہے ہیں ، میرے لیے بہت تقویت کا باعث بنا ۔ دواؤں سے جتنی زیادہ توانائی اور تقویت پہنچی اس سے زیادہ توانائی اور تقویت کا احساس دعاؤں سے ہوا ۔ میں اپنے ان تمام احباب کا احسان مند ہوں جنھوں نے برابر میری صحت و عافیت کے لیے دعائیں کیں اور میری خیریت دریافت کرتے رہے ۔ میرے متعدد احباب نے دعاؤں کے ساتھ میرے لیے دواؤں کا بھی نظم کیا ۔ حکیم ضیاء الدین ندوی ، سابق ڈپٹی ڈائرکٹر سینٹرل کونسل فار ریسرچ ان یونانی میڈیسن(CCRUM) و مؤسس الحکمہ فاؤنڈیشن نئی دہلی کو خبر لگی تو انھوں نے ڈھیر سی یونانی دوائیں بھیج دیں : شربتِ توت سیاہ ، لعوق سپستاں ، اطریفل کشنیزی ، شربتِ نزلہ، حبِّ نزلہ، حبِّ بخار وغیرہ ۔ انھوں نے کہا کہ میں چالیس سالہ تجربہ رکھتا ہوں، ان شاء اللہ آپ کو فائدہ ہوگا۔ ان کی وجہ سے میں نے ایلوپیتھک دوائیں لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی _ مرکز جماعت کے پڑوس میں رہنے والے ہمارے رفیق ڈاکٹر شاہد محفوظ کو معلوم ہوا تو انھوں نے بہت تسلّی دی اور کچھ دوائیں بھی بھیج دیں۔ بھائی ڈاکٹر محی الدین غازی دو ہومیو پیتھک دوائیں لے آئے کہ یہ کورونا سے حفاظت میں مؤثر ہیں ۔
طبیعت کچھ بحال ہوئی تو میں نے خود کو مصروف رکھنے کے لیے سوچا کہ احباب کی فقہی اور شرعی رہ نمائی کے لیے کچھ وقت فارغ کروں ۔ بہت سے احباب مجھ سے جڑے ہوئے ہیں اور سوالات پوچھتے رہتے ہیں ۔ میں نے انہیں جواب دینے کے علاوہ طہارت ، نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور دیگر مسائل میں عمومی رہ نمائی کے لیے فیس بک اور واٹس ایپ کو استعمال کیا اور یہ چیزیں بڑے حلقوں تک پہنچیں ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس نے جتنی کچھ صلاحیت دے رکھی ہے اس سے خلقِ خدا کو فیض پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے ۔
کورونا سے الحمد للہ نجات مل گئی ہے۔ اپنے اطراف میں جس طرح بہت زیادہ اور بہت تیزی سے اموات کی خبریں آرہی ہیں ، اسے دیکھتے ہوئے ایسا لگ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نئی زندگی دے دی ہے ۔ پتہ نہیں ، اور کتنی مہلتِ عمل باقی ہے ۔ اب ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہ باقی زندگی صرف اللہ کی خوش نودی میں گزاری جائے اور اس کی معصیت کا کوئی عمل سرزد نہ ہو ۔ یااللہ! مجھے معاف کردے اور مجھ سے راضی ہو جا ۔آمین ، یا رب العالمین !

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here