آسمان فراہیؒ کا آفتاب عالمتاب غروب

0
260
All kind of website designing

پروفيسر عبيد الله فراہى رحمہ الله نے داعی اجل کو لبیک کہا

ڈاكٹر محمد اكرم ندوى، آكسفورڈ

حرم ودير كى گليوں ميں پڑے پهرتے ہيں
بزم رنداں ميں جو شامل نہيں ہونے پاتے

آخر خدا كا حكم پورا ہوا ، اور تشويشناك علالت كے بعد آج (17رمضان 1442ه مطابق 29 اپريل 2021) پروفيسر عبيد الله فراہى رحمہ اللہ نے داعى اجل كو لبيك كہا، صبح كے وقت اٹھا اور نہايت رنج وافسوس اور غم واندوه كے ساتھ يه خبر پڑھی، إنا لله وإنا إليه راجعون، بیشک مرحوم كو من جانب اللہ عمر طبعى كا وافر حصه ملا، ليكن اس خيال سے كه ان كى توجه سے مولانا فراہى كے افكار وعلوم كى اشاعت كا كام كس حسن وخوبى سے ہو رہا تھا ہمارى خواہش تھی كه ان كا سلسلۂ عمر كچھ اور دراز ہوتا۔
مرحوم مولانا حميد الدين فراہى رحمہ الله عليه كے پوتے (مولانا فراہى كے فرزند ارجمند محمد عبادرحمہ اللہ كے صاحبزادے) تھے، اور يہى نسبت ان سے ميرى قربت كا سبب بنى، ہائے مولانا فراہى كى يه يادگار بھی ہم سے رخصت ہوئى، مجھے نہيں معلوم كه ان كے بعد اس عظيم خاندان ميں آباء كے علوم وفنون كا كوئى وارث موجود ہے: ؎
افسوس كز قبيلۂ مجنوں كسے نماند۔
پهريہا ضلع اعظم گڑھميں پيدائش اور نشو نما ہوئى، مدرسة الاصلاح ميں تعليم حاصل كى، اور لكھنؤ يونيورسٹى سے پى ايچ ڈى كى، يہيں بحيثيت لكچرار ر تقرر ہوا، پھر ريڈر اور پروفيسر ہوئے،اور پروفيسر رضوان علوى مرحوم كے بعد سنه 1992ميں شعبۂ عربى كى صدارت سنبھالى۔
مرحوم مدرسۃ الاصلاح سرائے مير کی مجلس انتظامی کے رکن تھے اور دائرہ حمیدیہ کے صدر ، لكھنؤ يو نيو ر سٹى سے ريٹائرمنٹ كے بعد ان كى دلچسپى كا محور مولانا فراہی كى غير شائع شده تحريروں كى ترتيب واشاعت كا كام تھا،انہوں نے قرآن كريم پر مولانا فراہى كى تعليقات كواچھى طرح مرتب كركے دو جلدوں ميں شائع كيا، پھر اس کا اردو ترجمہ امام فراہی کے قرآنی حواشی کے نام سے چھاپا، اس كے علاوه انہوں نے حجج القرآن، حكمة القرآن، تفسير سورة البقرة، بلاغة القرآن ، رسائل فی علوم القرآن، قرآنی افکار، رسالہ توحید،آخرت،نبوت وغيره چھوٹى بڑى متعدد كتابيں شائع كيں۔
سنه 1984سے ميرا ان سے ربط بڑھا، لكھنؤ يونيورسٹى ميں ان سے ملاقاتيں رہيں، ان كے مكان پر بھی بار بار جانا ہوا، انہيں كے اشراف ميں ميں نے لكھنؤ يونيورسٹى سے پى ايچ ڈى كى، وه حضرت مولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمہ الله تعالیٰ عليه سے ملاقات كے لیے ندوه تشريف لاتے اور استاد محترم مولانا شہباز اصلاحى رحمہ الله سے ضرور ملاقات كرتے اور ان ملاقاتوں ميں ميں بھی شريك ہوتا۔
سنه 1987ميں ان كى كتاب (تصوف ايك تجزياتى مطالعه) شائع ہوئى، اور كچھ دنوں تك يه كتاب علمى وفكرى حلقوں ميں موضوع گفتگو رہى،اس كے مقدمه ميں انہوں نے دل ميں اترنے والى ايك حقيقت بيان كى ہے: “تصوف كے قائلين كثرت سے يه بات كہتے رہتے ہيں كه تصوف حال ہے، قال نہيں ! يه كہنا ايك لحاظ سے صحيح بھی ہے، كيونكه تصوف فقط حال ہے، ليكن دوسرے لحاظ سے غلط ہے، اس وجه سے كه جب وه اپنے حال كا بيان يا دعوى پيش كرتا ہے تو قال كے دائرے ميں آجاتا ہے اور اس وقت خود ہى اپنے كو بحث ونظر كى ميزان پر ركھ ديتا ہے”. ص 6۔
بہت سے افراد ايسے ہيں جوعربى دانى اور علوم وفنون ميں پروفيسر صاحب كے ہم پله ،بلكه ان سے فائق ہيں، ليكن عظمت كردار اور حسن اخلاق ميں ان كى مثال خال خال ملے گى، استاد محترم حضرت مولانا سيد محمد رابع حسنى ندوى دامت بركاتہم اور استاد محترم حضرت مولانا سيد محمد واضح رشيد ندوى رحمہ الله كے بعد اس پہلو سے جس شخصيت سے ميں سب سے زياده متاثر ہوا وه پروفيسر عبيد الله فراہىؒ تھے۔
كتنے لوگ ہيں جو شب وروز قال الله وقال الرسول كى صدا بلند كرتے ہيں اور ہر موقع پر خدائى فوجدار بنتے نظر آتے ہيں، ليكن صد افسوس كه ان كے اخلاق پيغمبروں كے بالكل بر عكس ہيں، ان كے گھر كے لوگ اور ان كے شاگرد ان سے نالاں ہيں، ان كى شريعت ميں فقط مستى گفتار ہے، ان كا فخر جدل وجدال ہے، ان كى صحبت دل كى موت، اور ان كى گفتگو فكر ونظر كا فساد، اور وه نخوت، ترش روئى اور خلق آزارى كه اللہ كى پناه :

تفصيل نه پوچھ،ہيں اشارے كافى  يونہى يه كہانياں كہى جاتى ہيں

پروفيسر صاحب خاندانى شرافت كا آئينه تھے، اور تہذيب وشائستگى كا نمونه، نيك دل اور رحيم المزاج تھے، اور متانت وسنجيدگى ان كى طينت تھی، سب سے اہم بات يه ہے كه وه ايك نيك انسان تھے، ان كى زندگى بے داغ تھی، ان كو ديكهكر يقين ہو جاتا كه وه كسى كو نقصان پہچانے كا تصور بھی نہيں كرسكتے تھے ۔؎
وه بصورت بشر فرشته ہے:

رنگ تيرى شفق جمالى كا اك نمونه ہے بے مثالى كا

ان كے اندر نرمى كوٹ كوٹ كر بھرى تھی، ان كو ديكھ كر نرمى كا مفہوم سمجھ ميں آتا تھا، وه نبى اكرم صلى الله عليه وسلم كے اس ارشاد گرامى كى تصوير تھے كه نرمى جب بھی كسى چيز ميں ہوتى ہے تو اسے سنوار ديتى ہے، ان كى نرمى كو غزال رعنا، ابريشم خالص اور آب رواں خاموش سے تشبيه دى جا سكتى ہے، اسى نرمى كى وجه سے ان كا ہر طور ہميں حسين معلوم ہوتاتھا۔
كم سخن تھے، بات كرتے وقت منه بقدر ضرورت کھولتے، شايد ان كى اسى ادا سے: ” ؎

كھلنا كم كم كلى نے سيكھا ہے

طبيعت ميں خاموشى تھی اور آہستگى اور نرمى سے بقدر ضرورت بات كرتے، نه كوئى دعوى، نه لاف زنى، نه اپنے كارناموں كا اظہار، بلكه وه اپنے متعلق بات ہى نہيں كرتے تھے، دوسروں كى برائى سے احتراز كرتے، كسى كا نام لئے بغير كبھی كبھى تعميرى تنقيد كرتے، ليكن بہت مختصر لفظوں ميں اور جچے تلے جملوں ميں، نه كوئى مصنوعيت ہوتى اور نه كوئى تكلف۔
مزاج ميں سادگى تھی اور سادگى ان كى ہر چيز سے عياں تھی، مكان ساده، كپڑا ساده، انہيں كبھى كسى قيمتى لبا س اور زرق وبرق مظہر ميں نہيں ديكھا، نه ان كے پاس كوئى قيمتى چيز ديكھى، ان كے پاس سب سے قيمتى ان کا اندروں تھا جس كى وجه سے ان كے اندر بلا كى كشش تھی۔
وه وسيع المشرب، با وضع، خاكسار اور ملنسار تھے، چھوٹوں سے بهى تعظيم سے ملتے، ہم ان كے شاگرد تھے ،پھر بھی جب ملاقات كے لیے ان كے گھر جاتے ہمارا احترام اس قدر كرتے كه شرم آتى، خود خدمت كرتے اور وقتا فوقتا اس طرح مسكراتے كه ان پر فدا ہونے كو جى چاہتا۔
اس مختصر مضمون ميں تفصيل كى گنجائش نہيں، الله تعالى ان كى قرآنى خدمات اور ان كے دوسرے علمى ودينى كاموں كو قبول كرے، اور جوار رحمت ميں انہيں جگه دے، آمين۔

آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here