کہیں ہم بھیڑیا تو نہیں ہوگئے!

0
452
All kind of website designing

✍️سید لبید غزنوی

ایران کے بعض علاقوں میں موسم اتنا سرد ہوتا ہے کہ نقطہء انجماد سے بھی کئی درجے نیچے چلا جاتا ہے، کہر آلود شدید سرد موسم میں جب بھیڑیوں کو شکار نہیں ملتا، برفباری کی وجہ سے قلت خوراک کا سماں ہوتا ہے تو بھیڑیے دائرہ بنا کر بیٹھے ایک دوسرے کو گُھورنے لگتے ہیں، اِدھر کوئی بھیڑیا بُھوک سے نِڈھال ہو کر گِرا اُدھر باقی سب اُس پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور اُسے کھا جاتے ہیں، اِس عمل کو فارسی میں ’’گُرگِ آشتی‘‘ کہتے ہیں۔ اِس عمل کا اگر آپ گہرائی سے تجزیہ کریں تو آشکار ہوگا کہ یہ عمل بھیڑیوں کی مانند انسانوں میں بھی پایا جاتا ہے، ہم انسان بھی بھیڑیوں کی طرح ہیں، ادھر کوئی کمزور نظر آیا ادھر اس پر چڑھ دوڑے اور اپنی دھاک بٹھاتے ہیں، تم کمزور ہو، ہمارے محکوم ہو ہم تمہیں پھاڑ کھائیں یا لوٹ کھائیں تمہیں اب جینے کا کوئی حق نہیں، کمزور انسان پہلے ہی حالات کا ستایا ہوا ہوتا ہے اور طاقتور لوگ مزید اس کے ساتھ شدت پسندانہ رویہ اپناتے ہیں، مالی طور پر کمزور لوگوں کے ساتھ ہی فراڈ اور دھوکہ دہی کرکے ان کی رہی سہی زندگی کو بھی جہنم بنا دیتے ہیں، کمزور کا سہارا بننے کے بجائے الٹا اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور اسے کمزور سے کمزور تر بنا کر اس کی زندگی کو دشوار بنا دیتے ہیں۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here