خانوادۂ مولانا محمد علی مونگیری، ایک جھلک

0
369
جامعہ رحمانی کیمپس
جامعہ رحمانی کیمپس
All kind of website designing

ڈاکٹر ابو سحبان روح القدس ندوی
استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ

بر صغیر کی تعلیمی ، تحریکی اور دینی و دعوتی تاریخ میں بانیٔ ندوۃ العلماء مولانا سید محمد علیؒ مونگیری (۱۸۴۶-۱۹۲۷ئ) کا نام رہتی دنیا تک زندہ جاوید رہے گا ۔اسلام کے لئے دلسوزی اور امت کی فکر ، زمانے کی نبض شناسی اور آنے والے خطرات سے آگاہی ، اجتماعی کام کی صلاحیت ، مختلف الذوق رفقاء کے ساتھ اشتراک عمل وتعاون کے لئے ہمہ وقت آمادگی مولانا مونگیری کی فکر و عمل کے اہم عناصر ہیں ۔
مولانا مونگیری کی اولاد و احفاد اور ان کے خویش و اقارب نے ہر دور میں علم و معرفت اور رشد و ہدایت کی شمع کوفروزاں کیا اور ملک کی سیادت و قیادت میںبھرپور حصہ لیا ،خوش گفتاری ، رکھ رکھاؤ، دینی حمیت ، سیاسی بصیرت ، معاملہ فہمی ، جرأت و بے باکی اور حاضر جوابی ، دور اندیشی و صاف گوئی ، شریعت و طریقت کے مابین متوازن امتزاج ، حسنِ تدبیر اور تعلقات کو نبھانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وغیرہ۔ یہ وہ اوصاف ہیں جو خانوادۂ مونگیری کا طرۂ امتیاز رہا ہے ۔
٭ مولانا مونگیری کی اولاد میں مولانا سید احمد علی ایک عالم با عمل تھے اور بہت عابد و زاہد ، مولانا احمد حسن کانپوری اور مولانا محمد فاروق چریا کوٹی سے درسیات کی تکمیل کی۔ ان کی شادی قصبہ پھلت ( مظفر نگر) میں ہوئی ،۱۳۲۸ھ میں رمضان کے مہینے میں جمعہ کے روز نماز پڑھتے ہوئے انتقال فرمایا۔
مولانا احمد علی کے فرزند عالی مقام مولانا سید فضل اللہ جیلانی ( م ۱۹۷۹ء) عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد (دکن) میں دینیات کے استاذ پھر صدر شعبہ کے منصب پر فائز ہوئے ، امام محمد بن اسماعیل البخاری ( م ۲۵۶ھ) کی تصنیف لطیف ’’ الادب المفرد ‘‘ کی دو ضخیم جلدوں میں ’’فضل اللہ الصمد فی توضیح الادب المفرد‘‘ کے نام سے عربی زبان میں مبسوط شرح فرماکر علمی دنیا میں بڑا نام کمایا ، ان کی شرح قاہرہ سے کئی بار شائع ہوچکی ہے۔
مولانا فضل اللہ کادوسرا اہم علمی کارنامہ مفتی عبداللطیف رحمانی (م۱۹۵۹ء) کی ’ جامع الترمذی ‘‘ کی عربی شرح کی تہذیب وترتیب نوہے ۔
مولانا فضل اللہ کی ایک بیٹی ڈاکٹر حنیفہ رضی کی تصنیف،’’ عبداللہ بن مسعود اور ان کی فقہ ‘‘،اوردوسری بیٹی ڈاکٹر رؤفہ اقبال(م۲۰۱۳) کیــ ـ ’’ـعہد نبوی
مولانا ابوسحبان روح القدس ندوی
مولانا ابوسحبان روح القدس ندوی
کے غزوات و سرایا ‘‘ ریور طبع سے آراستہ ہو چکی ہیں ۔
٭مولانا مونگیری کے دوسرے صاحبزادے مولانا سید شاہ لطف اللہ رحمانی صلاح و تقویٰ اور فہم و فراست دونوں میں ممتاز تھے ، مولانا نے انہیں خلافت بھی عطا فرمائی اور ۱۳۴۲ ھ میں وفات پائی۔
حضرت مونگیری کی وفات کے بعد وہ ’’ خانقاہ رحمانی ‘‘ کے سجادہ نشیںہوئے ، جامعہ رحمانی اور مکتبۂ رحمانی کی ذمے داری آپ ہی کے سپرد تھی ،مولانا لطف اللہ رحمانی کی شادی سلطان القلم مولانا سید مناظر احسن گیلانی ( م ۱۹۵۶ء) کی ہمشیرہ سے ہوئی ، ان سے ایک بیٹی عائشہ رحمانی فاضل گرامی مولانا سید محمد یحییٰ ندوی کی شریک حیات ہیں ، مولانا لطف اللہ کے تین بیٹے بالترتیب عمر :
(۱) مولانا سید سیف اللہ رحمانی : بڑے عابد و زاہد اور ذاکر و شاغل تھے ، گمنامی کی زندگی بسر کی اور دنیائے دوں سے رخصت ہوگئے ۔
(۲) مولانا سید شاہد روح اللہ رحمانی : دارالعلوم ندوۃ العلماء میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مدرسہ عالیہ کلکتہ اور وہاں سے دارالعلوم دیوبند کا رخ کیا اور اپنی تعلیم مکمل کی ، فراغت کے بعد مونگیر آگئے اور چھ برس تک جامعہ رحمانی میں تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد۱۹۸۱ء میں قاری محمد سعد اللہ بخاری کے انتقال کے بعد مدرسہ تجوید القرآن کے مہتمم بنائے گئے اور تا دم واپسیں اس عہدے پر فائز رہے ،اور ۲۰۱۱ ءرا ہی ملک بقا ہوئے ۔
(۳) رحمت اللہ رحمانی : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں، ایک عرصہ ریاض میں ملازمت کرنے کے بعد شہر بمبئی پھر پٹنہ میں اقامت گزیں تھے اور ۵ اپریل ۲۰۲۱ ء کو پٹنہ میں وفات پائی اور ۶ اپریل کو مونگیر میں تدفین ہوئی ۔
٭ مولانا مونگیری کے تیسرے صاحب زادے مولانا سید نوراللہ رحمانی ( م ۱۹۸۹ء): دارالعلوم ندوۃ العلماء کے قدیم فارغ التحصیل ہیں ،سیاست کے میدان میں اپنی تگ و تاز سنوارتے رہے ،وہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے سابق مہتمم مولانا محب اللہ لاری ایم۔ اے علیگ ( م ۱۹۹۳ء) کے ہم سبق اور بے تکلف احباب میں تھے ، جمعیت علماء بہار کے ایک عرصہ تک صدر نشیں رہے ۔
مولانا نوراللہ کے ایک فرزند شاکر علی رحمانی USA میں قیام پذیر ہیں، انھوں نے ندوۃ العلماء اور پٹنہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی ہے ۔
٭ مولانا مونگیری کے چوتھے فرزند مولانا سید شاہ منت اللہ رحمانی ( م ۱۹۹۱ء) : بہارو اوڑیسہ کے امیر شریعت ،مشہور دینی تنظیم امارت شریعہ کے روح رواں اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری کے عہدے پر جلوہ افروز رہے۔ وہ بلاشبہ علماء کی صف میں سیاسی بصیرت میں اپنی مثال آپ تھے ، مولانا لطف اللہ رحمانی کے انتقال کے بعد خانقاہ رحمانی کی مسند رشد و ہدایت آپ کے سپرد ہوئی ، جامعہ رحمانی کی نشاۃ ثانیہ اور کتب خانہ رحمانیہ کی توسیع و ترقی آپ ہی کی رہین منت ہے، وہ بڑے کامیاب مربی اور منتظم تھے ، قضاۃ و مفتیان کرام کی ایک ٹیم ان کی زیر نگرانی پروان چڑھی ، وہ بر صغیر کے دو عظیم سر چشمۂ علم و معرفت دارالعلوم ندوۃ العلماء اور دارالعلوم دیوبند کے تعلیم یافتہ اور ان دونوں مرکز علم و عرفان کے رکن رکین تھے ۔
٭ مولانا منت اللہ رحمانی کے دو صاحبزادے ہیں :
محمد وصی رحمانی :ـ آپ نے عصری تعلیم حاصل کی تھی ، ۲۰۰۸ء میں انھوں نے وفات پائی ۔
دوسرے حاحبزادے حضرت مولانا محمد ولی رحمانی(۵ جون ۱۹۴۳ ۔ ۳ اپریل ۲۰۲۱؁ )ہیں وہ بلاشبہ خانوادۂ رحمانی کے گنج گرانمایہ ، فکر رحمانی کے امین و علمبردار اور فیوض رحمانی کے گل سرسبد تھے ، بلا مبالغہ خانقاہ رحمانی آپ کی ذات باصفات سے شاد و آباد تھی،’’درکفے جام شریعت درکفے سندان عشق‘‘ ان کا امتیاز تھا ، فہم و فراست اور سیاسی بصیرت میں اپنے والد کے نقش جمیل تھے، مرحوم بڑے زندہ دل ،بیدار مغز، حوصلہ مند انسان تھے ان کی وفات سے بڑا خلا پیدا ہو گیا ، جس کا پُر ہونا بہت مشکل ہے۔ رحمہم اللہ جمیعا وغفرلہم وأدخلہم فسیح جنتہ۔
خانوادۂ مولانا محمد علی مونگیری کی ایک جھلک
ڈاکٹر ابو سحبان روح القدس ندوی
استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ
بر صغیر کی تعلیمی ، تحریکی اور دینی و دعوتی تاریخ میں بانیٔ ندوۃ العلماء مولانا سید محمد علیؒ مونگیری (۱۸۴۶-۱۹۲۷ئ) کا نام رہتی دنیا تک زندہ جاوید رہے گا ۔اسلام کے لئے دلسوزی اور امت کی فکر ، زمانے کی نبض شناسی اور آنے والے خطرات سے آگاہی ، اجتماعی کام کی صلاحیت ، مختلف الذوق رفقاء کے ساتھ اشتراک عمل وتعاون کے لئے ہمہ وقت آمادگی مولانا مونگیری کی فکر و عمل کے اہم عناصر ہیں ۔
مولانا مونگیری کی اولاد و احفاد اور ان کے خویش و اقارب نے ہر دور میں علم و معرفت اور رشد و ہدایت کی شمع کوفروزاں کیا اور ملک کی سیادت و قیادت میںبھرپور حصہ لیا ،خوش گفتاری ، رکھ رکھاؤ، دینی حمیت ، سیاسی بصیرت ، معاملہ فہمی ، جرأت و بے باکی اور حاضر جوابی ، دور اندیشی و صاف گوئی ، شریعت و طریقت کے مابین متوازن امتزاج ، حسنِ تدبیر اور تعلقات کو نبھانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وغیرہ۔ یہ وہ اوصاف ہیں جو خانوادۂ مونگیری کا طرۂ امتیاز رہا ہے ۔
٭ مولانا مونگیری کی اولاد میں مولانا سید احمد علی ایک عالم با عمل تھے اور بہت عابد و زاہد ، مولانا احمد حسن کانپوری اور مولانا محمد فاروق چریا کوٹی سے درسیات کی تکمیل کی۔ ان کی شادی قصبہ پھلت ( مظفر نگر) میں ہوئی ، ۱۳۲۸ھ میں رمضان کے مہینے میں جمعہ کے روز نماز پڑھتے ہوئے انتقال فرمایا۔
مولانا احمد علی کے فرزند عالی مقام مولانا سید فضل اللہ جیلانی ( م ۱۹۷۹ء) عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد (دکن) میں دینیات کے استاذ پھر صدر شعبہ کے منصب پر فائز ہوئے ، امام محمد بن اسماعیل البخاری ( م ۲۵۶ھ) کی تصنیف لطیف ’’ الادب المفرد ‘‘ کی دو ضخیم جلدوں میں ’’فضل اللہ الصمد فی توضیح الادب المفرد‘‘ کے نام سے عربی زبان میں مبسوط شرح فرماکر علمی دنیا میں بڑا نام کمایا ، ان کی شرح قاہرہ سے کئی بار شائع ہوچکی ہے۔
مولانا فضل اللہ کادوسرا اہم علمی کارنامہ مفتی عبداللطیف رحمانی (م۱۹۵۹ء) کی ’ جامع الترمذی ‘‘ کی عربی شرح کی تہذیب وترتیب نوہے ۔
مولانا فضل اللہ کی ایک بیٹی ڈاکٹر حنیفہ رضی کی تصنیف،’’ عبداللہ بن مسعود اور ان کی فقہ ‘‘،اوردوسری بیٹی ڈاکٹر رؤفہ اقبال(م۲۰۱۳) کیــ ـ ’’ـعہد نبوی کے غزوات و سرایا ‘‘ ریور طبع سے آراستہ ہو چکی ہیں ۔
٭مولانا مونگیری کے دوسرے صاحبزادے مولانا سید شاہ لطف اللہ رحمانی صلاح و تقویٰ اور فہم و فراست دونوں میں ممتاز تھے ، مولانا نے انہیں خلافت بھی عطا فرمائی اور ۱۳۴۲ ھ میں وفات پائی۔
حضرت مونگیری کی وفات کے بعد وہ ’’ خانقاہ رحمانی ‘‘ کے سجادہ نشیںہوئے ، جامعہ رحمانی اور مکتبۂ رحمانی کی ذمے داری آپ ہی کے سپرد تھی ،مولانا لطف اللہ رحمانی کی شادی سلطان القلم مولانا سید مناظر احسن گیلانی ( م ۱۹۵۶ء) کی ہمشیرہ سے ہوئی ، ان سے ایک بیٹی عائشہ رحمانی فاضل گرامی مولانا سید محمد یحییٰ ندوی کی شریک حیات ہیں ، مولانا لطف اللہ کے تین بیٹے بالترتیب عمر :
(۱) مولانا سید سیف اللہ رحمانی : بڑے عابد و زاہد اور ذاکر و شاغل تھے ، گمنامی کی زندگی بسر کی اور دنیائے دوں سے رخصت ہوگئے ۔
(۲) مولانا سید شاہد روح اللہ رحمانی : دارالعلوم ندوۃ العلماء میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مدرسہ عالیہ کلکتہ اور وہاں سے دارالعلوم دیوبند کا رخ کیا اور اپنی تعلیم مکمل کی ، فراغت کے بعد مونگیر آگئے اور چھ برس تک جامعہ رحمانی میں تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد۱۹۸۱ء میں قاری محمد سعد اللہ بخاری کے انتقال کے بعد مدرسہ تجوید القرآن کے مہتمم بنائے گئے اور تا دم واپسیں اس عہدے پر فائز رہے ،اور ۲۰۱۱ ءرا ہی ملک بقا ہوئے ۔
(۳) رحمت اللہ رحمانی : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں، ایک عرصہ ریاض میں ملازمت کرنے کے بعد شہر بمبئی پھر پٹنہ میں اقامت گزیں تھے اور ۵ اپریل ۲۰۲۱ ء کو پٹنہ میں وفات پائی اور ۶ اپریل کو مونگیر میں تدفین ہوئی ۔
٭ مولانا مونگیری کے تیسرے صاحب زادے مولانا سید نوراللہ رحمانی ( م ۱۹۸۹ء): دارالعلوم ندوۃ العلماء کے قدیم فارغ التحصیل ہیں ،سیاست کے میدان میں اپنی تگ و تاز سنوارتے رہے ،وہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے سابق مہتمم مولانا محب اللہ لاری ایم۔ اے علیگ ( م ۱۹۹۳ء) کے ہم سبق اور بے تکلف احباب میں تھے ، جمعیت علماء بہار کے ایک عرصہ تک صدر نشیں رہے ۔
مولانا نوراللہ کے ایک فرزند شاکر علی رحمانی USA میں قیام پذیر ہیں، انھوں نے ندوۃ العلماء اور پٹنہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی ہے ۔
٭ مولانا مونگیری کے چوتھے فرزند مولانا سید شاہ منت اللہ رحمانی ( م ۱۹۹۱ء) : بہارو اوڑیسہ کے امیر شریعت ،مشہور دینی تنظیم امارت شریعہ کے روح رواں اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری کے عہدے پر جلوہ افروز رہے۔ وہ بلاشبہ علماء کی صف میں سیاسی بصیرت میں اپنی مثال آپ تھے ، مولانا لطف اللہ رحمانی کے انتقال کے بعد خانقاہ رحمانی کی مسند رشد و ہدایت آپ کے سپرد ہوئی ، جامعہ رحمانی کی نشاۃ ثانیہ اور کتب خانہ رحمانیہ کی توسیع و ترقی آپ ہی کی رہین منت ہے، وہ بڑے کامیاب مربی اور منتظم تھے ، قضاۃ و مفتیان کرام کی ایک ٹیم ان کی زیر نگرانی پروان چڑھی ، وہ بر صغیر کے دو عظیم سر چشمۂ علم و معرفت دارالعلوم ندوۃ العلماء اور دارالعلوم دیوبند کے تعلیم یافتہ اور ان دونوں مرکز علم و عرفان کے رکن رکین تھے ۔
٭ مولانا منت اللہ رحمانی کے دو صاحبزادے ہیں :
محمد وصی رحمانی :ـ آپ نے عصری تعلیم حاصل کی تھی ، ۲۰۰۸ء میں انھوں نے وفات پائی ۔
دوسرے حاحبزادے حضرت مولانا محمد ولی رحمانی(۵ جون ۱۹۴۳ ۔ ۳ اپریل ۲۰۲۱؁ )ہیں وہ بلاشبہ خانوادۂ رحمانی کے گنج گرانمایہ ، فکر رحمانی کے امین و علمبردار اور فیوض رحمانی کے گل سرسبد تھے ، بلا مبالغہ خانقاہ رحمانی آپ کی ذات باصفات سے شاد و آباد تھی،’’درکفے جام شریعت درکفے سندان عشق‘‘ ان کا امتیاز تھا ، فہم و فراست اور سیاسی بصیرت میں اپنے والد کے نقش جمیل تھے، مرحوم بڑے زندہ دل ،بیدار مغز، حوصلہ مند انسان تھے ان کی وفات سے بڑا خلا پیدا ہو گیا ، جس کا پُر ہونا بہت مشکل ہے۔ رحمہم اللہ جمیعا وغفرلہم وأدخلہم فسیح جنتہ۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here