مہاراشٹر حکومت کے متعصبانہ رویے سے مسلمانوں میں غم وغصہ

0
104
All kind of website designing

رمضان المبارک میں کورونا ضابطوں کی پابندی کے ساتھ پنج وقتہ نماز اور تراویح کی اجازت دینے کا مطالبہ

ممبئی : حکومت مہاراشٹر نے کورونا کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے پیش نظر ریاست بھر سخت پابندیاں عائد کردی ہیں جس کی وجہ سے مساجد میں نمازکے تعلق سے سخت ترین شرائط کا اطلاق کیاگیا ہے۔ ماہ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے ۔ حکومت کے اس متعصبانہ رویے کی وجہ سے مسلمانوں میں زبردست غم وغصہ اور ناراضگی پائی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں سماج وادی رہنما اور ممبر اسمبلی ابوعاصم اعظمی، رئیس شیخ اور مولانا اطہر علی نے وزیر صحت راجیش ٹوپے سے ملاقات کی ہے اور ان سے رمضان المبارک میں گائیڈ لائن میں نرمی کی درخواست کی ہے وہیں جامع مسجد بمبئی اور رضا اکیڈمی نے اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ ادھوٹھاکرے کوایک خط لکھ کر مسلمانوں کو کورونا گائیڈ لائن پر عمل کرتے ہوئے مسجدوں میں نماز پڑھنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس نمائندہ نے شہر ممبئی کی اہم شخصیات سے اس ضمن میں بات چیت کی ۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی (جنرل سکریٹری جمعیۃ علما مہاراشٹر) نے کہاکہ ایک سال قبل جو لاک ڈائون کا سلسلہ شروع ہوا ہے ا ب تک مسجدوں اور مدرسوں کی طرف سے حکومت کی گائیڈ لائن کی پاسداری کی گئی ہے اور اس پر ذمہ داران مساجدو مدارس نے مکمل عمل کیا ہے۔ لیکن اس مرتبہ جو لاک ڈائون ہورہا ہے اس سے مسلمانوں میں سخت ناراضگی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم یہ محسوس کررہے ہیںکہ اس مرتبہ مسجدوں کو خاص کر رمضان المبارک کی وجہ سے نشانہ بناکر کے بند کیاجارہا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ ایسا ہوسکتا ہے کہ مسجدوں میں نماز پڑھنے کے تعلق سے حکومت گائیڈ لائن جاری کرے کورونا گائیڈ لائن کی پابندیوں کے ساتھ مسلمانوں کو پنج وقتہ نماز اور نماز تراویح کی اجازت دی جائے۔انہوں نے کہاکہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت رمضان المبارک کی برکتوں سے مسلمانوں کو محروم کررہی ہے ، مسلمان ٹھگا ہوا محسوس کررہا ہے کہ حکومت کی طرف سے ہماری مسجدوں پر پابندی عائد کرکے زیادتی کی جارہی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ جلد ہی اس تعلق سے اپنا موقف واضح کرے اور مقدس ماہ رمضان میں عبادت کی اجازت دے۔ مولانا سید اطہر علی (رکن عاملہ مسلم پرسنل لا بورڈ وناظم دارالعلوم محمدیہ ممبئی)نے کہاکہ اس سلسلے میں ہم نے وزیر صحت راجیش ٹوپے سے بھی آج ابوعاصم اعظمی (ایم ایل اے)، رئیس شیخ (ایم ایل اے)، فرید شیخ (امن کمیٹی)، مولانا اعجاز کشمیری (امام ہانڈی مسجد) کے ہمراہ ملاقات کی اور ان سے کہاکہ لاک ڈائون لگایا گیا ہے اس سے عوام کو پریشانیاں ہورہی ہیں، ہم اس بات سےواقف ہیں کہ جو بھی حکومت کی طرف سے کیا جارہا ہے وہ کورونا کی وبا پر کنٹرول کے لیے کیاجارہا ہے لیکن اس سے معیشت پر جو ضرب آرہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارا مقدس مہینہ رمضان بھی زد پر آرہا ہے، ہمیں ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ہمیں گویا عبادت سے ایک طرح سے روکا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ ہم نے ٹوپے صاحب کے سامنے تین مطالبات رکھے ۔ نائٹ کرفیو رات ۸؍ بجے کے بجائے دس بجے سے لگائیں، صبح ۷؍۸؍۹ بجے تک جب تک چاہیں لگائیں، لیکن رات میں یہ دو گھنٹے ہمیں رمضان میں راحت دی جائے۔ دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ پانچوں نماز کےلیے کورونا اصول کی گائیڈ لائن کے ساتھ ہمیں مسجدوں میں باجماعت نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے۔ تیسرا مطالبہ یہ تھا کہ چھوٹے کاروباریوں کو دکان کھولنے کی اجازت دی جائے تاکہ ان کو پریشانیوں کا سامنا نہ کرناپڑا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے مطالبات پر راجیش ٹوپے نے اچھے سے گفتگو کی او رہماری باتوں کو بغور سنا اوریقین دہانی کرائی کہ جلد ہی وزیراعلیٰ مہاراشٹر ادوھو ٹھاکرے سے اس سلسلے میں بات کرکے ایک دو دن میں جواب دوں گا۔ صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی عظمیٰ کے امیر مولانا عبد السلام سلفی نےکووڈ ۱۹کے ضوابط و ہدایات کے مد نظر صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس جانب سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں عبادت کی اجازت دے۔انہوں نے کہا کہ مساجد کے ذمہ داران کو کووڈ۱۹کی ہدایات پر عمل درآمد کی یقین دہانی کراتے حکومت وقت سے مطالبہ کرناچاہیے کہ وہ مذہبی مقامات کے سلسلے میں ایسے فیصلے نہ کرے جس سے لوگوں میں بے چینیاں پیدا ہوں، انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کووڈ۱۹کے ضوابط پر عمل درآمد کی شرط کے ساتھ ساتھ گنجائش نکالتے ہوئے رمضان المبارک میں مساجد میں عبادت کرنے کی حکومت مہاراشٹر اجازت دے، کیونکہ گزشتہ رمضان مسلمانوں کے لئے نفسیاتی الجھنوں بھرا تھا، اور وہ اس میں عبادت نہیں کرسکے تھے۔انہوں نے کہا کہ من جملہ مساجد کے ذمہ داران کے ساتھ ساتھ متعلقہ افسران، بااثر سیاسی، سماجی شخصیات وغیرہ کو بھی اس کے تئیں سماجی بھائی چارہ کو بروئے کار لاتے ہوئے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے سے مطالبہ کے لیے کوشش کرنے چاہیے تاکہ اس بار مسلمان رمضان المبارک میں یکسوئی سے مسجدوں میں عبادت کرسکیں۔ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری نے اس تعلق سے وزیر اعلیٰ ادھوٹھاکرے کو ایک خط لکھ کر رمضان المبارک کے مہینے میں مساجد کے لیے لاک ڈائون کے ضابطوں میں ڈھیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مساجد میں نماز ادا کرنا خطرے سے بچنے کا بہترین ذریعے ہے اگر مسلمانوں کو مسجدوں میں جانے سے روکا گیا تو اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ کورونا زیادہ تیزی سے پھیلے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گائیڈ لائن کا لحاظ کرتے ہوئے مسلمانوں کو مساجد میں نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے۔ علماء کونسل کے جنرل سکریٹری مولانا محمود دریابادی نے کہاکہ ہم لوگ چاہتے ہیں کہ عبادت گاہیں اور مسجدیں کھول دی جائیں، کووڈ ۱۹ کی جو احتیاط بتائی گئی ہیں سوشل ڈسٹینسنگ، ماسک اور سیناٹائز وغیرہ کے ساتھ نماز کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ بھیڑ سے مسئلہ ہے تعداد کو محدود کردی جائے تاکہ کئی جماعتوں میں مسلمان نماز پڑھ سکیں ۔ دارالعلوم امدادیہ ممبئی کے نائب صدر مدرس اور چونا بھٹی مسجد مرکز کے امام وخطیب قاری نسیم الحق معروفی نے کہاکہ رمضان جیسے مقدس مہینے کی آمد آمد ہے حکومت کا اس طرح عبادت گاہوں پر پابندی عائد کرنا مناسب نہیں معلوم ہوتا ہے حکومت کو چاہئے کہ وہ مسلمانوں کو مخصوص رعایت دیتے ہوئے اور کووڈ ۱۹ کی گائیڈ لائن میں تھوڑی تخفیف کے ساتھ مساجد میں نماز پنج وقتہ اور رمضان المبارک میں تراویح کی اجازت دے تاکہ مسلمان اپنا رمضان سال گزشتہ کی طرح مسجدوں میں عبادت سے محروم رہ کر نہ گزاریں۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here