طب یونانی پر آج بھی عوام کا مکمل اعتماد برقرار

0
388
All kind of website designing

 لکھنو میں ’یونانی اُپچار- جنتا کے دُوار‘ مشن 2025 کے تحت یونانی میڈیکل کیمپ میں ڈاکٹر سیّد احمد خاں کا خطاب

لکھنو(نیا سویرا لائیو) ہم جدید طریقہ علاج اور قدیم طریقۂ علاج کا موازنہ کریں تو ہم پاتے ہیں کہ آج ہماری بیماری کا فیصلہ مشین اور رپورٹس کرتی ہیں۔ لیکن ایک زمانہ تھا جب ہم اپنی تکلیف کا خود فیصلہ کرتے تھے اور حکیم سے رجوع کرنے کے بعد بیماری کے کوائف کی بنیاد پر دوا لیتے تھے۔ مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ اس تاریخ ساز طریقہ علاج پر خزاں کے بادل ہمہ وقت منڈلا رہے ہیں۔ خیال رہے کہ دوروز قبل ہی آل انڈیا یونانی طبی کانگریس اُترپردیش (لکھنو یونٹ) اور مینائی ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی کے اشتراک سے شاہ میا ں درگاہ کیمپس، میڈیکل کالج چوک، لکھنو میں ’یونانی اُپچار- جنتا کے دُوار‘ مشن 2025 کے تحت مفت یونانی میڈیکل کیمپ کا کامیابی کے ساتھ انعقاد ہوا۔ کیمپ کی افتتاحی تقریب میں مہمان خصوصی آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے اعزازی سکریٹری جنرل ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے کہا کہ طب یونانی میں عوام کا آج بھی مکمل اعتماد برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیاب یونانی میڈیکل کیمپ کے علاوہ ملک کے مختلف علاقوں میں یونانی ادویات سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ عوام کا اٹوٹ بھروسہ یونانی طریقہ علاج میں آج بھی موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونانی طریقہ علاج صدیوں سے رائج ہے اور ہر قسم کی بیماریوں کے لیے اس میں علاج موجود ہے، یہاں تک کہ کووڈ-19 میں بھی یونانی پیتھی بہت کامیاب رہی۔
کیمپ کا افتتاح درگاہ شاہ مینا شاہ کے پیرزادہ شیخ راشد مینائی نے فیتہ کاٹ کر کیا۔ انہوں نے کہا کہ طب یونانی سستی اور عوام الناس کے پہنچ کا طریقہ علاج ہے۔ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو اس کے فروغ میں دلچسپی لینی چاہیے اور بی یو ایم ایس ڈاکٹرز بھی اپنے مطب میں یونانی کی مفرد اور مرکب دواؤں کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ اس سے نہ صرف ان کا ذاتی فائدہ ہوگا بلکہ عوام کو بھی کم خرچ میں اچھا علاج میسر ہوگا۔
یہاں یہ سوال ہم طب یونانی سے وابستہ معالجین اور اس سے استفادہ کرنےوالے شفایاب لوگوں کی آرابھی اس قدیم طریقہ علاج پر انگلی اٹھانے والوں کی عصبیت زدہ حاسدانہ اعتراض کی قلعی کھولتا ہے۔ مثلا یونانی طب یا حکمت کو اس کے ماہرین قدیم ترین طریقۂ علاج کہتے ہیں اور اس کے موجد کے طور پر بقراط کا نام لیا جاتا ہے، جنھوں نے کہا تھا کہ ‘قدرت ہی سب سے بڑا معالج ہے، لیکن جدید طریقۂ علاج ایلوپیتھی کے بہت سے پیروکار اور بہت سے مغربی ممالک یونانی طب کے سرے سے منکر ہیں اور کئی جگہ تو اس پر پابندی کا بھی مطالبہ کیا جارہاہے۔اس معاملے میں بالخصوص حکومت سعودیہ اور دیگر عرب ممالک کی حرکتیں شرمناک ہیں، لیکن یونانی طب سے منسلک افراد کا سوال ہے کہ الوپیتھ سے قبل آخر کون سا طریقۂ علاج رائج تھا۔ہمارے ملک میں یونانی طب بہت سے دیگر طریقۂ علاج آیوروید، یوگا، نیچروپیتھی، سدھ اور ہومیوپیتھی کے ساتھ نہ صرف قانونی طور پر رائج ہے بلکہ اس کے فروغ کے لیے ایک علیحدہ وزارت ‘آیوش کے نام سے قائم کی گئی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ دیسی طریقہ ہائے علاج کی ترویج و ترقی کے قائم وزارت آیوش بھی طب یونانی کے تئیں ایماندار نہیں ہے، بل کہ اس کی کردگیوں سے واضح ہوتا ہے کہ اس کی سرگرمیاں منظم طریقے سے طب یونانی کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری و ساری۔ ”سب کا ساتھ ، سب کا وسواش ” کا دعویٰ کرنے والی حکومت کی جانب دارانہ پالیسی کا ادراک کر کے فن طب کی ترویج و ترقی کے متحدہ پلیٹ فارم بناکر آگے آنا جملہ یونانی اطبائے کرام اور طب کی ترویج و ترقی کے کام کرنے والے اداروں کا بنیادی فریضہ ہے۔
کیمپ میں مقبول عام لیڈر محمد خالد (جنرل سکریٹری، انسٹی آف سوشل ہارمنی) نے بھی بطور مہمان ذی وقار شرکت کی اور کہا کہ اس طرح کے کیمپ سے نہ صرف مریضوں کو فائدہ ہوتا ہے بلکہ طب یونانی کی مقبولیت بھی بڑھتی ہے اور اس کا فروغ بھی ہوتا ہے۔ اس کیمپ میں آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس اُترپردیش کے سرپرست پروفیسر کشف الدجا کشفی کے علاوہ ڈاکٹر شمیم اختر، ڈاکٹر ظفر پرویز، ڈاکٹر عارف خان، ڈاکٹر مہک باقر، ڈاکٹر اعجاز علی قادری، ڈاکٹر محمد فرقان رضا، ڈاکٹر سعود احمد، ڈاکٹر صادق انصاری، ڈاکٹر عاطف مکرانی، ڈاکٹر صفوان غیاث وغیرہ نے اپنی خدمات پیش کیں۔ کیمپ کی افتتاحی تقریب سے قبل حسب روایت مہمانوں کا استقبال کیا گیا اور تمام مہمانوں اور رضاکاروں کا شکریہ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس یوتھ ونگ کے قومی جنرل سکریٹری ڈاکٹر اعجاز علی قادری نے ادا کیا۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here