کسانوں کی حمایت میں اترے ستیہ پال ملک

0
150
All kind of website designing

میگھالیہ کے گورنر نے احتجاج کرنے والے کسانوں کے لیے ایم ایس پی کی قانونی ضمانت کا مطالبہ کیا

نئی دہلی، مارچ 15: میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک نے اتوار کے روز وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر زور دیا کہ وہ زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں کو ناراض نہ کریں۔انھوں نے کہا ’’کوئی بھی (زرعی) قانون کسانوں کے حق میں نہیں ہے۔ جس ملک میں کسان اور فوجی مطمئن نہیں ہوں، وہ ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس ملک کو نہیں بچایا جاسکتا۔ لہذا فوج اور کسانوں کو مطمئن رکھنا چاہیے۔گورنر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انھوں نے کسان رہنما راکیش ٹکیت کو گرفتار ہونے سے روکنے کے لیے مداخلت کی تھی۔
ستیہ پال ملک نے کہا کہ اگر مرکز ایم ایس پی کی قانونی ضمانت دے دے تو کسانوں کو صبر آجائے گا۔ دی انڈین ایکسپریس کے مطابق انھوں نے کہا ’’وہ ایم ایس پی کی ضمانت چاہتے ہیں۔ اگر حکومت ایم ایس پی کو قانونی پشت پناہی دیتی ہے تو احتجاج ختم ہوجائے گا۔‘‘
گورنر نے کہا کہ انھیں مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسانوں کے احتجاج کے بارے میں بات نہ کریں لیکن وہ خود کو پیچھے نہیں رکھ سکتے۔ انھوں نے کہا ’’ان (گورنرز) سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کچھ نہ کہیں لیکن بات کرنا میری عادت ہے۔ جب میں نے دیکھا کہ کسانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے تو، میں خود کو بولنے سے نہیں روک سکتا تھا۔‘‘ملک نے یہ بھی کہا کہ کسان دن بدن غریب تر ہوتے جارہے ہیں جب کہ سرکاری عہدیداروں اور عملے کی تنخواہ ہر تین سال بعد بڑھتی ہیں۔انھوں نے متنازعہ قانون سازی کے حق میں مرکز کے دلائل پر بھی نشانہ سادھتے ہوئے کہا ’’بہت شور مچایا گیا تھا کہ اب کسان کسی بھی جگہ پر اپنی فصلیں فروخت کرسکتے ہیں۔ یہ 15 سالہ پرانا قانون ہے۔ اس کے باوجود جب متھرا سے ایک کسان گندم لے کر پلوال جاتا ہے تو اس پر لاٹھی چارج ہوتا ہے۔ جب سونی پت سے ایک کسان نریلا کے پاس آتا ہے تو اس پر لاٹھی چارج ہوتا ہے۔‘‘
واضح رہے کہ کسانوں کا خیال ہے کہ نئے قوانین ان کی روزی روٹی کو نقصان پہنچاتے ہیں اور کارپوریٹ سیکٹر کے لیے زرعی غلبہ حاصل کرنے کی راہیں کھول دیتے ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے وہ اس وقت تک احتجاج جاری رکھیں گے جب تک کہ تینوں متنازعہ قوانین واپس نہیں لے لیے جاتے۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here