چاندمل چوپڑا سے منافق وسیم رضوی تک کی مذموم حرکتیں

0
206
All kind of website designing

مسلمانوں کو مشتعل ہونے کے بجائے بیدار ہونے کی ضرورت 

عبدالعزیز

کئی سال پہلے آرایس ایس کے کارکن چاند مل چوپڑا نے کلکتہ ہائی کورٹ میں قرآن مجید پر پابندی عائد کرنے کی کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ دو تین ججوں نے چاندمل چوپڑا کے مقدمے کی سماعت سے انکار کردیا۔ آخر میں جسٹس بساک نے مقدمے کی شنوائی کی۔ چاندمل چوپڑا نے درخواست دائر کی تھی کہ قرآن مجید جہاد اور جنگ کی تعلیم دیتا ہے اس لئے ہندستان میں ایسی کتاب پر پابندی عائد ہونی چاہئے۔ جسٹس بساک نے چاندمل چوپڑا کی درخواست رد کرتے ہوئے اپنے فیصلہ نامہ میں لکھا تھا کہ قرآن مجید میں جہاد کا ذکر ہے ۔ جہاد کی اہمیت اور عظمت کا بھی تذکرہ ہے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ مسلمانوں نے جہاد کرنا چھوڑ دیا ہے۔ فیصلے کے کچھ دنوں کے بعد ملی اتحاد کمیٹی کلکتہ کی جانب سے ایک پانچ رکنی وفد نے خاکسار کی قیادت میں جسٹس صاحب سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور انھیں قرآن مجید کے انگریزی ترجمے کا ایک نسخہ پیش کیا اور افطار پارٹی میں شرکت کی دعوت دی۔ موصوف نے تبادلہ خیال کے دوران قرآن کی بہت سی خوبیوں کا ذکر کیا لیکن جب میں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ نے ’سورہ المائدہ‘ کی آیت 32 یقینا پڑھی ہوگی اور اس کے بارے میں آپ نے ایک رائے قائم کی ہوگی۔ جسٹس صاحب نے کہاکہ میں نے پڑھی ضرور ہوگی لیکن اس وقت میرے ذہن میں نہیں ہے۔ آیت کا ترجمہ ہے کہ ’’جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی‘‘۔ یعنی ایک کا قاتل سب کا قاتل ہوتا ہے اور ایک کا محافظ سب کا محافظ ہوتا ہے۔ یہ سن کر انھوں نے کہاکہ واقعہ یہ ہے کہ اتنی بڑی تعلیم دنیا کی کسی اور کتاب میں نہیں ہے۔ موصوف افطار پارٹی میں اس وقت کے گورنر مغربی بنگال اوما شنکر ڈکشت کے ساتھ تشریف لائے۔ اپنی تقریر میں قرآن کی عظمت اور اہمیت پر روشنی ڈالی۔ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ہم مسلمان ہندستان کے غیر مسلم بھائیوں سے ربط و تعلق رکھیں ، اسلام یا قرآن کی حقیقت ان تک پہنچاتے رہیں تو اس سے ہمارے فرض کی بھی ادائیگی ہوگی اور قرآنی تعلیمات بھی عام ہوگی۔معاشرے میں بھی بہت کچھ فرق آئے گا۔ منافقوں کے اعتراضات کا سدباب ہوگا۔
منافق اعظم وسیم رضوی : وسیم رضوی اپنے نام کی وجہ سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ مسلم سوسائٹی کا کوئی فرد ہے۔ لیکن حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ رضوی مسلم سوسائٹی کا کوئی فرد نہیں ہے بلکہ سنگھ پریوار کا وفادار ہے اور اسی کا ایک ایجنٹ اور رکن ہے۔ جہاں تک قرآن مجید کی 26 آیتوں پر اعتراضات کا معاملہ ہے ، یہ نہ کوئی نیا معاملہ ہے اور نہ کوئی نئی بات ہے۔ آر ایس ایس کے مکتبہ سے ایک کتابچہ شائع ہوا ہے جس میں قرآن مجید کی 26 آیات پر اعتراضات کئے گئے ہیں۔ یہ کتابچہ 30، 40 سال سے شائع ہورہا ہے۔ ان اعتراضات کے جوابات مدلل اور مفصل طور پر مولانا نسیم غازی صاحب نے دیئے ہیں۔ مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشر نئی دہلی اور مدھر سنگم میں جوابات پر مشتمل کتابچہ ہندی اور اردو میں دستیاب ہے ۔ کتابچہ غیر مسلم بھائیوں کو بھی جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں کی طرف سے تقسیم کیا جاتا ہے۔ ہندی اور اردو کے علاوہ دیگر زبانوں میں بھی یہ کتابچہ دستیاب ہے۔ رضوی ایک منافق کا نام ہے۔ اس منافق کے اعتراضات کا ریسپانس کیا ہوسکتا ہے؟ اصل تو اس کے پس پردہ (Back Ground) آر ایس ایس ہے۔ پہلے آر ایس ایس لیڈران یا کرتا دھرتا چاندمل چوپڑا اور دیگر لوگوں کے ذریعے قرآن مجید پر رکیک حملے اور 26 آیتوں پر اعتراضات سیاق و سباق کو ہٹاکر بڑی تعداد میں تحریر اور تقریر کے ذریعے کئی زبانوں میں پیش کئے ہیں۔ ان کے کوئی اثرات مرتب نہیں ہوئے۔ بہت سے غیر مسلم بھائی خاص طور پر کانپور کے سوامی لکشمی شنکر اچاریہ نے ایک کتاب لکھی ہے ’’اسلام آتنک یا آدرش‘‘۔ سوامی جی نے اسلام اور قرآن کے مطالعے سے پہلے جو کتاب لکھی تھی اس کتاب کا نام ’’اسلام دہشت گردی کا علمبردار‘‘ ہے۔ اپنی حالیہ کتاب میں انھوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا ہے اور معذرت کی ہے۔ وہ آج کل ملک بھر میں اسلام اور قرآن کے حق میں تقریریں کرتے ہیں۔ہندی اور اردو میں جو ان کی کتابیں شائع ہوئی ہیں وہ خاکسار کے پاس بھی ہیں۔ کلکتہ کے مشہور سماجی کارکن ناصر احمد صاحب نے سوامی جی کو کلکتہ بلایا تھا۔ زکریا اسٹریٹ کلکتہ میں موصوف کی تقریر بھی ہوئی تھی۔ سوامی صاحب کی طرح دنیا بھر میں ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ اسلام اور قرآن کے حق و مدافعت میں تحریر و تقریر کرتے ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے ایسے ہی لوگوں کیلئے کہا تھا ؎ ’’پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے‘‘۔
ایک فرانسیسی سرجن ، عظیم اسکالر اور مصنف ماریس بکائیلے (Maurice Bucaille) کی ایک مشہور کتاب ’’بائبل، قرآن اور سائنس ‘‘ (The Bible The Quran and Science) ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’سائنسی نقطہ نظر سے بائبل اغلاط سے پُر ہے جبکہ قرآن میں ایک بھی غلطی نہ پاسکا‘‘۔ اس پر میرا ایک مضمون بعنوان ’’میں ایک بھی غلطی قرآن میں نہ پاسکا‘‘بہت سے اخبارات میں شائع ہوچکا ہے۔قرآن مجید کے حق اور سچائی کی گواہی دنیا کے بہت سے بڑے بڑے مفکرین، ادباء اور شعراء نے دی ہے۔ ایسے لوگوں کے مقابلے میں وسیم رضوی جیسے منافق یا آر ایس ایس کے دوسرے ایجنٹ کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ایسے لوگ عام طور پر ابوجہل اور ابولہب کی اولادوںمیں سے ہیں۔ فی زمانہ اپنے آقاؤں کے اشارے پر دنیوی لالچ، عہدے اور منصب کیلئے ایسی نازیبا اور اشتعال انگیز حرکتیں کرتے رہتے ہیں۔ آر ایس ایس یا اس طرح کی تنظیموں کا ایک مقصد تو یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو مشتعل کیا جائے اور ایسے کاموں میں الجھا دیا جائے کہ وہ اپنا اصلی کام یا دعوت و تبلیغ کا کام چھوڑ کر ان کے دام میں پھنس جائیں۔
دوسرا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اسلام، قرآن اور مسلمانوں سے غیر مسلم بھائیوں کو بدظن کیا جائے تاکہ وہ قرآن اور اسلامی لٹریچر کو ہاتھ نہ لگائیں اور اسلام اور قرآن جیسی رحمت سے محروم رہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے بعض انداز سے وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ ہم قرآن کی اصلی تعلیمات کو قولاً اور عملاً دنیا کے سامنے پیش کریں۔ منافقوں اور ان کے اعتراضات کا سب سے موثر جواب اس کے سوا کچھ نہیں ہے۔ بحیثیت مجموعی ہم مسلمان اگر قرآن اور اسلام کے خلاف زندگی گزاریں اور ان کے اعتراضات کا جواب دینے کی کوشش کریں تو ایسے جوابات کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔
سپریم کورٹ میں قرآن پر مقدمہ: سپریم کورٹ میں جو مقدمہ دائر ہوا ہے وہ آر ایس ایس کے اشارے کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ جو وکلاء اس مقدمے کی پیروی کر رہے ہوں گے ان کا آر ایس ایس سے تعلق ہوگا۔ سپریم کورٹ کے جس جج کی عدالت میں شنوائی کیلئے یہ مقدمہ پیش کیا گیا ہے اگر وہ تعصب اور فرقہ پرستی سے مبرا ہوگا تو اس مقدمہ کو خارج کر دے گا۔ اس لئے کہ سپریم کورٹ میں چاند مل چوپڑا کا قرآن مخالف مقدمہ بھی خارج کیا جاچکا ہے۔ اگر کسی متعصب جج کے پاس یہ مقدمہ جاتا ہے تو اچھے وکیل کو جس کی قرآن سے واقفیت ہو مدافعت کیلئے وکالت کی ذمہ داری دی جاسکتی ہے۔ اچھی طرح سے اگر اس کی پیروی ہوتی ہے تو انشاء اللہ قرآن کی دعوت کا پرچار ہوگا اور قرآن کی حقیقت اجاگر ہوگی اور آر ایس ایس اور اس کے ایجنٹوں کے منصوبہ کو اللہ تعالیٰ خاک میں ملا دے گا۔
اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:’’ ہم نے ہی قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے‘‘( سورۃ الحجر)۔ یہ پہلی وہ آسمانی کتاب ہے، جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے خود لیا، گویا اس کی حفاظت کیلئے یہ وعدہ الٰہی ہے اور قرآن کا اعلان ہے:’’ اللہ کبھی بھی وعدہ خلافی نہیں کرتے‘‘(سورۃ آل عمران)۔ بس اللہ نے اپنا یہ وعدہ سچ کر دکھایا۔ اور کتاب اللہ کی حفاظت کا حیرت انگیز انتظام کیا۔ اس طور پر کہ اس کے الفاظ بھی محفوظ، اس کے معانی بھی محفوظ، اس کا رسم الخط بھی محفوظ، اس کی عملی صورت بھی محفوظ، اس کی زبان بھی محفوظ، اس کا ماحول بھی محفوظ، جس عظیم ہستی پر اس کا نزول ہوا اس کی سیرت بھی محفوظ، اور اس کے اوّلین مخاطبین کی سیَر بھی یعنی زندگیاں بھی محفوظ۔
قرآن کریم کی حفاظت کی غرض سے جہاں بہت سی چیزوں کو تحفظ بخشا گیا، وہیں سیرت نبوی یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے حالات کو بھی محفوظ کیا۔ کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنی مطالبات پر عمل کرکے بتایا تاکہ کل آکر کوئی ایسا نہ کہے ہم قرآنی مطالبات پر عمل نہیں کرسکتے، یہ تو بڑے شاق اور دشوار گذار ہیں، تو بطور نمونہ آپ نے عمل کرکے بتلایا اور عمل بھی ایسا، جیسا اس پر عمل کرنے کا حق ہے، اسی لیے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں جب دریافت کیا گیا، تو آپ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا؟ کہاں ہاں۔ تو آپ نے فرمایا ’’کان خلقہ القرآن‘‘ آپ قرآن کا چلتا پھرتا نمونہ تھے۔ جہاں کوئی امر نازل ہوا، فوراً عمل کرکے بتایا، اسی لیے قرآن نے اعلان کر دیا ’’لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ‘‘ (سورۃ الاحزاب)۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی، اے مسلمانو! تمہارے لیے نمونہ ہے، دنیا میں کسی ہستی کی سیرت و حیات پر اتنا کام نہیں ہوا جتنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ پر ہوا، اور ہوتا چلا جارہا ہے، آج بھی اس کی افادیت میں کوئی کمی محسوس نہیں ہورہی ہے، بل کہ مزید اس کی افادیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
قرآن کے مخالفین اور دشمنوں کے اعتراضات سے کہیں زیادہ ہمیں اپنے اعمال کی فکر کرنی چاہئے اور قرآنی تعلیمات پر خود عمل کرنا چاہئے اور دنیا کو عمل کرانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ قدرت والا ہے اور عظمت والا ہے۔ قرآن اور اسلام کی ہر مخالفت اور اعتراضات کو خاک میں ملا دے گا اور مخالفین اور منافقین کو دنیا میں بھی ذلیل و خوار کرے گا اور آخرت میں بھی سخت ترین عذاب کی طرف پھینک دے گا۔
E-mail: [email protected]

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here