بھائی گاؤں سے آنا تو ذرا گڑ لیتے آنا۔۔۔۔

0
371
All kind of website designing
گ سے گنا، گ سے گڑ، گ سے گاؤں٠٠٠٠ان تینوں کی ابتدا ”گ ”سے ہوتی ہے، یہ محض اتفاق نہیں ہے بلکہ ان میں گہرا ربط و تعلق ہے، وہ اس طرح کہ گاؤں ہی میں گنا اُگتا ہے، پھر اس سےرس نکال کر گاؤں ہی کے کلہاڑ میں گڑ پکتا ہے۔گنا سے گڑ ہونے کا عمل خاصا محنت طلب اور دلچسپ ہے۔ پہلے گنا مختلف مراحل سے گزرکرتیار ہوتا ہے۔پھر اس سے رس نکالا جاتا ہے، کسی زمانے میں گنے کے کولہوؤں کو بیل چلاتے تھے، کولہو کے بیل کا محاورہ آج بھی رائج ہے، اب انجن والے کولہو میں گنے کی پیرائی ہوتی ہے۔ کولہو کی شکل بدل گئی ہے، اس میں جدت آگئی ہے، تمام زرعی آلات کی طرح اس کی بھی بہت سی قسمیں ہیں،خیر اسی کولہو سے رس نکالنے کے بعد اسے گھنٹوں لوہے کے بڑے کڑھاؤ میں پکایا جاتا ہے، اتنی محنت کےبعد گڑ تیار ہوتا ہے۔
راقم کو یاد ہے کہ میرے گاؤں میں جس کسی کےگھر گڑ پکتا تھا، اس کے پورے گھر والے دن بھر دوڑتے بھاگتے تھے، مزدور بھی لگے رہتے تھے، ایک تیوہار جیسا ماحول ہوتا تھا، کچھ لوگ رات رات بھر گڑپکاتے تھے، وقفے وقفے سے بھٹی سے راکھ نکالی جاتی تھی، اس میں آلو بھونا جاتا تھا، رات بھر گڑ کی چائے کا دور چلتا تھا، گڑ پکنے دوران اسے چلایا جاتا تھا، اس کا کچرا نکالا جاتاتھا، گڑ پکنے کے قریب ہوتا تو تھوڑا تھوڑا گڑچھوٹے چھوٹے برتنوں ،بانس کی ٹوکریوںمیں نکالا جاتا تھا، اسے پھولا کہا جاتا ہے، لوگ اسے آج بھی شوق سے کھاتے ہیں۔اس کے بعد گڑ میں پوری رفتار سے لکڑی گھمائی جاتی تھی، اس طرح گڑ سوندھا اور دانے دار ہوتا ہے، گڑ بڑے کڑھاؤ سے نکالنے کے بعد مٹی کے بڑے بڑے برتنوں میں رکھا جاتاتھا، اس دوران بھی اسے چلایا جاتاتھا، پھر ٹھنڈا ہونے پر اسے لوگ گھر لے جاتے تھے۔ گڑ پکانے کے دوران ایندھن کے طور پر گنے کی پتیاں جلائی جاتی ہیں ۔کچھ لوگ ٹائر بھی جلاتےہیں، بچوں کو کڑھاؤ کے قریب نہیں جانے دیا جاتا ہے، کیونکہ پکتے گڑ میں گرنے سے جان تک جانے کا خطرہ رہتا ہے۔کئی بچے جلتے کڑھاؤ میں جھلس بھی چکے ہیں۔ پوروانچل میں عام طور پر جنوری اور فروری میں گڑپکایا جاتا ہے۔ جب گڑ پکتا ہے تو اس کی بھینی بھینی خوشبو اطراف میں پھیل جاتی ہے۔ ایک طریقے سے گڑ گاؤں کی مٹھائی ہے۔
دس سال پہلے تک گڑ زیادہ پکایا جاتاتھا، اب اس میں کمی آگئی ہے۔خاص بات یہ ہے کہ گڑ کم ہورہا ہے، لیکن اس کی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے، اس کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے، اب کچھ لوگ سال بھر گڑ تلاش کرتے ہیں، اس کا شربت بنایا جاتا ہے۔ اسے روٹی سے بھی کھایا جاتا ہے، اسے بطور دوا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ کسی زمانے میں گڑ اور دہی کا شربت مہمانوں کی ضیافت کیلئے پیش کیا جاتاتھا، گرمی میں اس کا استعمال کثرت سے ہوتا ہے۔ بتاتے ہیں کہ یہ لو سے بچاتاہے اور شدید گرمی میں پیاس بجھاتا ہے۔پرانے لوگ بیٹھے ہوں، وہاں گڑ کے شربت کا موازنہ اس زمانے کی کولڈ ڈرنک سے کیجئے، دیکھئے پھر کیا ہوتا ہے؟ سب سے پہلے تو ان کے چہرے کا رنگ بدلے گا، پھر وہ ایک سانس میں اس کے سیکڑوں فوائد بتائیں گے۔ اس وقت آپ کو احساس ہوگا کہ اس سے ان کا کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔اب رمضان میں بھی ایک بڑی تعداد افطار میں روح افزا کی جگہ گڑ کا شربت استعمال کرتی ہے اور خود کو خوش قسمت سمجھتی ہے۔پردیس میں رہنے والے اپنے ساتھ گڑ بھی لے جاتے ہیں اور وہاں جسے گڑ کا شربت پلا دیتے ہیں، وہ اس کی شان میں قصیدے پڑھنے لگتا ہے اور گاؤں جانے والے اپنے ہر دوست سے کہتا ہے کہ بھائی جب آناتو گڑ ضرور ساتھ لانا۰۰۰
اسی طرح گڑ کی چائے کا اپنا الگ لطف ہے۔ اس کے سوندھے پن کے سب قائل ہیں۔ کالی چائے بنانے کے بعد اس میں خالص دودھ الگ سےڈالا جاتا ہے اور اس میں موٹی بالائی بھی شامل کی جاتی ہے جو اس کے ذائقے کو بڑھاتی ہے، جب دودھ اور گڑ کی کثرت تھی تو اس چائے کا استعمال عام تھا ۔مگراب کم کم ہی لوگ اس کے ذائقے سے واقف ہیں۔پہلے شکر کی جگہ گڑ تھا،اس کی قیمت کم تھی، اب اس میں اضافہ ہوگیا ہے۔قیمت کے اعتبار سے گڑ آگے نکل گیا ہے، شکر پیچھے چھوٹ گئی ہے۔ جب سےگنے کی کھیتی کم ہوئی ہے،گڑ بہت مشکل سے ملتا ہےاور گڑ پکنے میں وہ سب بہت کم ہوتا ہے ،جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے، لیکن گناکی کھیتی ایک بار پھر بڑھنےکی امید پیدا ہوگئی ہے،کیونکہ گزشتہ رمضان میں کچھ گاؤں میں افطار کے وقت گنے کا جوس بیچنے کا کامیاب تجربہ کیا گیا، جس سے آئندہ یہ کاروبار پھل پھول سکتا ہے، بہت سےلوگ اس کاروبار سے وابستہ ہونا چاہتے ہیں، رمضان کیلئے ان کے کھیتوں میں گنے لہلہا رہے ہیں، امسال یہ کاروبار کامیاب رہا تو پھر سے گنے کی زیادہ سے زیادہ بوائی ہونے لگے گی۔اللہ کرے یہ تجربہ کامیاب رہے۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here