ہندو مسلم ایکتا کی وراثت طبیہ کالج کے سو سال مکمل، جشن منایا جائے اور یونیورسٹی بنائی جائے

0
136
All kind of website designing
نئی دہلی : آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کی میٹنگ مرکزی دفتر نئی دہلی میں زیرصدارت پروفیسر مشتاق احمد منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں 12 فروری ’عالمی یوم یونانی میڈیسن‘ کے تعلق سے ملک بھر میں منعقد ہوئی تقریبات پر خوشی کا اظہار کیا گیا اور تمام اداروں و تنظیموں کا شکریہ ادا کیا گیا۔ اس موقع پر پروفیسر مشتاق احمد نے کہا کہ یہ امر
Dr Syed Ahmad Khan
Dr Syed Ahmad Khan
 یقینا باعث صد رشک ہے کہ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کی تحریک پر عظیم مجاہد آزادی مسیح الملک حکیم اجمل خاں کی شخصیت پرسب کا اتفاق ہوا اور ان کے یوم پیدائش پر 2011 سے ’عالمی یونانی میڈیسن ڈے‘ منائے جانے کا سلسلہ شروع ہوا اور آج جس بڑے پیمانے پر تزک و احتشام کے ساتھ ’عالمی یونانی میڈیسن ڈے‘ منائے جانے کی روایت زور پکڑ رہی ہے اس سے طبّی برادری میں بیداری کا ثبوت ملتا ہے۔ اس موقع پر آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کے قومی نائب صدر ڈاکٹر ایس ایم حسین نے کہا کہ مرکزی حکومت نے وزارتِ آیوش کے تحت طب یونانی کو بھی اس کے شایان شان مقام دیا، مگر افسوس کہ ’آیوش مان بھارت‘ مشن میں طب یونانی کو فراموش کیا جارہا ہے۔ اسی طرح محکمہ آیوش کے تحت سی جی ایچ ایس کی 52 ڈسپنسریز کا اضافہ ہوا اس میں بھی طب یونانی کو نظرانداز کیا گیا اور یہی حال گزشتہ سال نومبر میں صرف آیوروید کو ہی سرجری کا حق دینے کا نوٹیفکیشن جاری ہوا اور یہاں بھی طب یونانی کو درکنار کیا گیا۔ انہوں نے محکمہ آیوش، حکومت ہند کی اس روِش پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے طب یونانی کو آیوروید کی طرح یکساں ترقی کے مواقع فراہم کیے جانے کا مطالبہ کیا۔ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کے قومی سکریٹری ڈاکٹر ایس ایم یعقوب نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ کووڈ 19 کے دَور میں متاثرہ افراد کی خدمت میں یونانی ڈاکٹروںنے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جو قابل فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ طب یونانی مکمل سائنس ہے اور یہ عوام الناس کے لیے مزید استفادہ کا سبب بنے، اس کے لیے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کے آرگنائزنگ سکریٹری ڈاکٹر ڈی آر سنگھ نے کہا کہ دیش میں ہندو مسلم ایکتا کی وراثت آیوروید اینڈ یونانی طبیہ کالج، قرول باغ کے سو سال مکمل ہونے پر جشن کا اہتمام کیا جائے اور جلد از جلد اس کو یونیورسٹی بنایا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گدھ نگاہی رکھنے والے قابضین کو طبیہ کالج سے ہٹایا جائے اور صحت و تعلیم کے اس عظیم مرکز کی حفاظت کی جائے۔ اظہار خیال کرنے والوں میں ڈاکٹر صباحت اللہ امروہوی، ڈاکٹر شہناز پروین، ڈاکٹر عبدالجبار، ڈاکٹر الطاف احمد، ڈاکٹر پرویز احمد خاں، حکیم عطاءالرحمن اجملی، حکیم مرتضیٰ دہلوی، حکیم صلاح الدین حسن پوری وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ تمام شرکاءکا شکریہ ڈاکٹر اعجاز علی قادری نے ادا کیا۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here