مودی ، یوگی کا سنگین خطرہ منڈلا رہا ہے

0
293

بنگال کوگجرات اور اتر پردیش بننے سے بچائیے !

عبدالعزیز

بنگال نہ گجرات کی طرح ہے اور نہ اتر پردیش کی مانند ہے۔ بنگال کے لوگ امن و سلامتی کے دلدادہ ہیں۔ اخوت اور بھائی چارہ چاہتے ہیں۔ لیکن آر ایس ایس اور بی جے پی 2019ء میں سیاسی کامیابی حاصل کرنے کے بعد بنگال کے خاکے میں فرقہ پرستی اور فسطائیت کا رنگ بھرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ اپنی ساری طاقت، دولت اور شرارت کے ذریعے بنگال کے اسمبلی الیکشن جیتنے اور ریاست پر قبضہ جمانے میں ہر طرح کی کوشش کر رہی ہے۔ سارے سرکاری اور جمہوری ادارے بھی مودی-شاہ کیلئے کھل کر کام کر رہے ہیں۔ امن پسند اور انصاف پسند عوام و خواص کو ایسی فسطائی اور غیر جمہوری طاقت کو مات دینا ضروری ہے۔ سارے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اسی ایجنڈے پر کام کرنا چاہئے تاکہ بی جے پی بنگال کو گجرات اور یوپی نہ بناسکے اور نہ ہی دہلی سے بنگال پر حکمرانی کرسکے۔
انگریزی روزنامہ ’دی ٹیلیگراف‘ میں آج (27فروری) کی اشاعت میں مشہور صحافی اور تجزیہ نگار جے پی یادو کا ایک سیاسی تبصرہ شائع ہوا ہے جس کی سرخی ہے: “BJP ready to hurl into Bengal battle, eye on farm protest” (کسانوں کے احتجاج کے پیش نظر بی جے پی بنگال کی انتخابی جنگ کو جیتنے کیلئے ہر طرح سے لیس ہے)۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’بی جے پی مغربی بنگال کے انتخابی میدان میں کامیابی کیلئے ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اپوزیشن کی ہمت پست ہوجائے اور کسانوں کی تحریک سے ہوا نکل جائے‘‘۔ وہ آگے رقمطراز ہیں کہ ’’بی جے پی کے اندر بہت سے لیڈر سمجھتے ہیں کہ بی جے پی کیلئے انتخابی جنگ جیتنا بنگال میں نظریاتی لحاظ سے ضروری اور اہم ہے اور اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ رام مندر کی تعمیر یا جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ‘‘۔
بی جے پی کے لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک انتخابی تاریخ کے اعلان سے بیحد خوش ہیں۔ 8مرحلوں میں انتخاب ہونے سے بی جے پی کو اپنی پوری طاقت ایک جگہ سے دوسری جگہ استعمال کرنے میں مدد ملے گی۔ بی جے پی نے وزیر اعلیٰ کے امیدوار کے چہرے کے طور پر کسی شخص کو پیش نہیں کیا ہے، کیونکہ بی جے پی لیڈروں کے مطابق مودی کا چہرہ ووٹ حاصل کرنے میں کسی اور چہرہ سے زیادہ معاون اور مددگار ثابت ہوگا۔ مودی بنام ممتا وہ پہلے ہی سے کر رہے ہیں ۔ مودی بھی اس رویے سے خوش رہتے ہیں اور اپنی ساری لفاظی اور جملہ بازی کا استعمال بے دھڑک کرتے ہیں۔ اس کیلئے وہ اتنی نیچی سطح تک گرتے ہیں کہ ممتا بنرجی کو کہنا پڑتا ہے کہ وہ فتنہ پروری اور فساد انگیزی کی سیاست کر رہے ہیں۔ بی جے پی کے لیڈروں کی یہ سوچ ہے کہ اگر وہ بنگال کی انتخابی جنگ میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو اپوزیشن کو وہ ہمیشہ کیلئے خاموش کردیں گے۔ جیسے لوک سبھا کے الیکشن کی جیت نے رافیل جنگی جہاز کے گھوٹالے کی بات کو ہمیشہ کیلئے ہوا میں تحلیل کردیا۔ بی جے پی کیلئے یہ راحت کی بات ہے کہ مغربی بنگال میں کسانوں کی تحریک کا کوئی اثر نہیں ہے۔
الیکشن اگرچہ ہندستان کی پانچ ریاستوں میں ہوگا لیکن بنگال کا الیکشن کئی لحاظ سے بی جے پی کیلئے اہم اور خاص ہے۔ نظریاتی لحاظ سے بھی وہ اسے اہم سمجھ رہے ہیں؛ کیونکہ شیاما پرساد مکھرجی کا تعلق بنگال سے ہے جنھوں نے ’جن سنگھ‘ کی تشکیل کی تھی اور جموں و کشمیر سے دفعہ 370 کو ہٹانے کی بھرپور کوشش کی تھی۔ جن سنگھ کانیا نام ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ ہے مگر اس کی آئیڈولوجی اور فلسفہ آر ایس ایس اور شیاما پرساد مکھرجی ہی کا ہی ہے۔ بی جے پی کبھی بنگال میں کوئی فورس نہیں تھی مگر 2019ء کے لوک سبھا الیکشن میں 18 سیٹوں پر کامیاب ہونے کے بعد اس کے حوصلے بلند ہوگئے اور ریاست کی مین اپوزیشن پارٹی (خاص حزب مخالف) بن کر ابھری ہے۔ بی جے پی کا اندرونی سروے ابھی بھی بتارہا ہے کہ ممتا بنرجی کی جماعت ترنمول کانگریس بی جے پی سے انتخابی میدان میں آگے ہے۔ دیگر سروے میں بھی ترنمول کو 150 سے 160سیٹیں تک ملنے کا امکان بتایا گیا ہے۔
بی جے پی کے لیڈر پُرامید ہیں کہ نریندر مودی کی جادوئی تقریروں اور حربوں سے ترنمول اور بی جے پی کے فرق کو ختم کرنے میں کامیابی ملے گی اور بی جے پی ترنمول سے آگے نکل جائے گی۔بی جے پی کے لیڈروں کو امیت شاہ کے انتخابی گُر اور حکمت عملی پر بڑا ناز اور بھروسہ ہے۔ وہ ان کو ’ماسٹرمائنڈ‘ سمجھتے ہیں۔ 2014ء میں مودی جی نے انھیں اتر پردیش کا انچارج بنایا تھا۔ مظفر نگر میں فرقہ وارانہ فساد کرانے میں کہا جاتا ہے کہ بی جے پی کے چانکیہ کا ہاتھ تھا، جس کی وجہ سے یوپی میں زبردست پولرائزیشن ہوا تھا اور بی جے پی کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ بہتوں کا خیال ہے کہ بی جے پی جب مغربی بنگال میں اپنے آپ کو ناکام دیکھے گی تو سب کچھ کراسکتی ہے یا کرسکتی ہے۔ تمام سرکاری اداروں کا استعمال کر رہی ہے۔ الیکشن کمیشن نے بھی وہی کچھ کیا جو مغربی بنگال میں بی جے پی چاہتی تھی۔بی جے پی نے جس طرح الیکشن کمشنر کو ہدایت دی تھی بالکل اسی طرح کمشنر نے عمل کیا۔ مغربی بنگال کی جیت میں بی جے پی کو 2024ء کے لوک سبھا الیکشن کی جیت بھی نظر آرہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی بنگال پہ قابض ہونے کیلئے سب کچھ داؤں پر لگادیا ہے۔
سیاسی اتحاد: مغربی بنگال میں سی پی ایم اور کانگریس کا اتحاد بھی ہے۔ سی پی ایم ریاست میں اپنی بحالی کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ فرفرہ شریف کے پیرزادہ عباس صدیقی کو بھی اپنے فولڈ میںلینے میں کامیاب ہے۔ بظاہرہ سہ رخی مقابلہ نظر آرہا ہے مگر اصل لڑائی دو سیاسی طاقتوں میں ہوگی۔ ترنمول کانگریس اور بی جے پی میں ہوگی۔ مودی اور ممتا آمنے سامنے ہوں گے۔ مودی اور شاہ پورے ملک کیلئے خطرے کا نشان بنے ہوئے ہیں۔ مغربی بنگال بھی ان کے خطرے سے محفوظ نظر نہیں آرہا ہے۔ یہ دونوں مسلمانوں کے ووٹ کو بھی تقسیم کرنے کی پالیسی رکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اسدالدین اویسی صاحب بھی میدان میں آجائیں تاکہ مسلمانوں کے ووٹوںکی تقسیم ہو اور اپوزیشن کا نقصان ہو اور بی جے پی کو فائدہ پہنچے۔ اسدالدین اویسی صاحب یا ان کی پارٹی کس طرح بی جے پی کے جال میں پھنس جاتی ہے کہنا مشکل ہے۔ مگر بی جے پی کو ان کی پارٹی سے غیر معمولی فائدہ پہنچتا ہے۔ جو لوگ اسدالدین اویسی صاحب کی شخصیت اور ان کی تقریروں یا بیانات تلے پناہ چاہتے ہیں میرے خیال سے وہ دھوکے میں ہیں۔ ان کو مہاراشٹر اور بہار کے اسمبلی انتخابات سے بہت کچھ سبق لیناچاہئے۔ جو سبق نہیں لینا چاہتے ہیں اسی جوش اور جذبے کو یہاں بھی دہرانا چاہتے ہیں۔ وہ حقیقت میں شعوری یا غیرشعوری طور پر بی جے پی کے مقصد کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ کہہ کر کہ ’ان کو بھی الیکشن میں حصہ لینے کا حق ہے‘۔ یقینا حق ہے، مگر کیا بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کا بھی حق ہے؟ اگر اس حق کو بھی یہ کہہ کر تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے الیکشن میں حصہ لینے میں کس کو فائدہ پہنچتاہے کس کو نقصان پہنچتا ہے اس سے ان کوغرض نہیں ہے تو وہ دراصل مسلمانوں کے مفادات اور ملک کے مفادات کو نظر انداز کرتے ہیں۔ ایسے شخص کو سمجھانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس لئے مسلمانوں کا عقل عام سے کام کرنا چاہئے اور بی جے پی کو جو پارٹی یا جو امیدوار ہراسکے اسی کو ووٹ دینا چاہئے۔ یہی چیز ملک کیلئے بھی مفید ہے اور مسلمانوں کیلئے بھی بہتر ہے۔ فرقہ پرستی خواہ کسی کی طرف سے ہو وہ نقصان دہ ہے۔ مسلمان یا مسلمانوں کی کوئی پارٹی اگر مسلمانوں کے نام پر فرقہ پرستی کرتی ہے تو اسے حلال یا سود مند سمجھنا نادانی، حماقت اور جہالت ہے۔ مسلمانوں کو یا ان کی کسی پارٹی کو اس نادانی سے بچنا چاہئے۔
E-mail:[email protected]

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here