سماجی کارکن حافظ نوشاد اعظمی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے پرزور مطالبہ کیا

0
305
All kind of website designing
نئی دہلی،(ایجنسی) اترپردیش اسٹیٹ حج کمیٹی سے دوبار مرکزی حج کمیٹی کےلئے منتخب سابق ممبر حافظ نوشاد اعظمی نے ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی سے پرزور مطالبہ کیاکہ حج ڈپارٹمنٹ کو وزارت اقلیتی امور سے ہٹا کر وزارت خارجہ میں پھر سے بھیجاجائے۔ اعظمی نےاپنے میمورنڈم میں لکھاہے کہ میں دہلی سفر کے لائق نہیں ہوں ورنہ کسی ذرائع سے ملاقات کرکے آپ کو یہ میمورنڈم آپ کے ہاتھ میں دیتا۔اعظمی نے کہاکہ حج کے معاملات میں تقریباً مجھے بائیس سالوں سے یہ تجربہ رہاہے کہ حاجیوں کے لیے میں نے پرامن اورقانون کے دائرے میں رہ کراورغیر سیاسی تحریک چلائی جس میں کامیابی بھی ملی، حج ایکٹ 2002ءبنوانے کے لیے بھی میں نے کئی بار پارلیمنٹ پربڑے سے بڑا مظاہرہ کیا اورلوک سبھا وراجیہ سبھا میں بھی اس مانگ کواٹھوایا۔ جسے آنجہانی اس وقت کے موجودہ وزیراعظم اٹل بہاری باجپئی نے منظورکرتے ہوئے ملک کے حاجیوں کو یہ تحفہ دیاتھا۔
مسٹر اعظمی نے میمورنڈم کے آگے لکھاہے کہ حج کمیٹی 1959ءکے ایکٹ سے بنی تھی جب سے حج کمیٹی وزارت خارجہ کے تحت تھی، ایکٹ 2002ءمیں بھی حج کووزارت خارجہ ہی میں رکھاگیا میرا یہ تجربہ رہا ہے کہ عازمین حج کی جتنی قدر غیر مسلم افسران اور غیرمسلم وزیروں نے کی اور حج کمیٹی کےمشوروں کو ترجیح دیتے تھے۔ اورحج ایکٹ 2002 میں پورے ملک سے صوبائی حج کمیٹیوں سے9نمائندے آتے ہیں اور7نام مرکزی حکومت نامزد کرتی ہے جس میں 3عالم دین کا ذکر ہے، 2سنی اورایک شیعہ عالم کا ذکر ہے۔
میری جان کاری میں پورے دیش کے لوگوں نے ایکٹ2002ءکی تعریف کی۔ مسٹر اعظمی نے کہاکہ منموہن سنکھ کی حکومت میں اس وقت کے اقلیتی امورکےوزیر کے رحمان خان نے چند ممبر آف پارلیمنٹ سے جس میں آج کے اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی نے بھی ان کے اس میمورنڈم پر دستخط کیاتھا اس وقت وہ راجیہ سبھا کے ممبر تھے،حج کووزارت خارجہ سے ہٹاکر اقلیتی امور میں لانے کا مطالبہ کیا، بہرکیف منموہن سنکھ جی کی حکومت میں اس معاملہ کولےکر کافی اختلاف ہوا اوریہ فائل ٹھنڈے بستہ میں چلی گئی۔انہوں نے وزیر اعظم کے میمورنڈم میں کہاکہ 2014ءمیں آپ کی سرکار بننے کے بعد پھر سے وہ فائل آج کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے اپنے دلچسپی پر نکلوائی اور پی ایم او کے ذریعہ کابینہ میں ایک آڈر پاس کرالیا کہ حج وزارت خارجہ سے اقلیتی امور میں ٹرانسفر کیاجاتاہے جوکسی بھی طرح سے حاجیوں کے لیے صحیح نہیں تھا کیوں کہ 70% کام وزارت خارجہ کا اور 10% شہری ہوابازی ایئر انڈیا وغیرہ کا اور 20فیصد مرکزی حج کمیٹی اورملک کی صوبائی حج کمیٹی کرتی ہیں۔1959 سے یہ روایت بھی رہی ہے اور یہ ایک اصولی بات بھی ہے حج ایک غیر ملک کاسفر ہے اور وہ وزارت خارجہ میں ہی رہنا ضروری ہے۔ انہوں نے اپنے میمورنڈم میں یہ بھی لکھا کہ حج جب سے اقلیتی امور میں آیاہے تب سے حج ایکٹ 2002ءکی کھلی خلاف ورزی ہورہی ہے اور7ماہ سے مرکزی حج کمیٹی نہیں ہے اورملک کے کئی صوبوں میں جیسے اترپردیش،مہاراسٹر،دہلی اورکئی صوبوں میں صوبائی حج کمیٹیاں نہیں ہیں جس کو بنانے کی ذمہ داری وزارت حج کی ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ 1959ءسے پارلیمنٹ ایکٹ سے حج کمیٹی چل رہی ہے لیکن کسی بھی وزیر حج نے اپنے نام کی تختی حج ہاو س ممبئی میں نہیں لگوائی کیوں کہ حکومت کےجوائن سکریٹری ہی سرکار کے کمیٹی میں نمائندے رہتے ہیں مگر حج وزیر مسجد کے گیٹ سمیت کئی جگہ اپنے نام کا پتھر لگوایاہے جوروایت کےخلاف ہے اورمیرے علم میں غیر قانونی بھی ہے کیوں کہ حج کمیٹی آف انڈیا کادفتر اورحج ہاو س کی زمین ملک کے مسلمانوں کی امانت ہے اورحج کمیٹی کیسے کام کرے اس کے لیے سرکار کے ایک آفیشیل ممبر دیکھ ریکھ کرتے ہیں۔ انھوں نے وزیر اعظم سے مو دبانہ گزارش کی کہ اس معاملہ کو فوری طور پر دیکھنے کی زحمت کریں اورحج کو دوبارہ وزارت خارجہ میں بھیجنے کی زحمت کریں۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here