آل انڈیا ملی کونسل کے زیر اہتمام مولانا ابوالکلام آزاد کی یوم وفات پر پروگرام منعقد

0
326

مولانا آزاد اقلیتوں کو یہ یقین دہانی کرانے میں کامیاب رہے کہ ہندوستان ہی ان کا اصل وطن اور ملک ہے

دیوبند،ایجنسی : ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزادؒ کی یوم وفات کے موقع پر آل انڈیا ملی کونسل سہارنپور کے زیر اہتمام جامعہ رحمت گھگھرولی میںایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں علاقہ کے سرکردہ افراد نے شرکت کی۔ اس دوران آل انڈیا ملی کونسل ضلع سہارنپور کے صدر مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت کی سیاست میں جن مسلم لیڈران نے اپنی نمایاں چھاپ چھوڑی ان میں مولانا ابو الکلام ؒ آزاد کا نام سنہرے الفاظ میں درج ہے۔ انہو ںنے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد ؒ11 نومبر 1888 ؁کو شہر مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے،آزادی کی تحریک میں آپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ہندو مسلم اتحاد کے لئے ہمیشہ پیش پیش رہے۔ مولانا نے اپنے جوشیلے انداز بیان والی تقاریر کے ذریعہ اہل وطن میں ایک نئی روح پھونک کر حصول آزادی کے لیے بیداری پیدا کی،آزادی کے ساتھ تقسیم ہند کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی کو کم کرنے میں انھوں نے نمایاں رول ادا کیا، وہ اقلیتوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب رہے کہ ہندوستان تمہارا ملک ہے اور تم اسی ملک میں رہو،1947 میں جامع مسجد دہلی سے مولانا نے اپنی تاریخی تقریر میں کہا تھا کہ یہ فرار کی زندگی جو تم نے ہجرت کے مقدّس نام پر اختیار کی ہے، اُس پر غور کرو،تمہیں محسوس ہو گا کہ یہ غلط ہے،اپنے دِلوں کو مضبوط بناؤ اور اپنے دماغوں کو سوچنے کی عادت ڈالو اور پھر دیکھو کہ تمہارے یہ فیصلے کتنے عاجلانہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی اور پنڈت جواہر لال نہرو انکی بلند فکر و خیال کے قائل تھے اور ملک کے ہر مسئلے پر آپ کی رائے لیتے،وہ بھارتی تاریخ کے پہلے وزیر تعلیم تھے،انہوں نے بھارت کے بحیثیت وزیر تعلیم اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر ایسا عمل شروع کیا جس کا مقصد نسلوں کی تعمیر واصلاح تھا اس مقصد کے تحت انہوں نے قوم کو تعلیم کے حصول کیلئے تیار کیا اورکہا جب تک ہماری قوم تعلیم سے روشناس نہیں ہوگی تب تک زمانے سے قدم ملاکر چلنے کی اہل نہیں ہوگی،انہوں نے1951ء میں کھڑک پور انسٹی ٹیوٹ آف ہائر ٹیکنالوجی کو بھی قائم کیا جو بعد میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کھڑک پور کے نام سے مشہور ہوا۔ مولانا عبدالمالک مغیثی نے کہا کہ مولانا ایک عالم دین،سیاست داں،صحافی،مصلح،ادیب اور خطیب بھی تھے،مولانا آزاد کا بیسویں صدی کے بہترین اردو مصنفین میں سے شمار کیا جاتا ہے، مولانا آزاد نے کئی کتابیں لکھیں جن میں غبار خاطر، انڈیا ونس فریڈم (انگریزی)، تزکیہ، ترجمان القرآن سر فہرست ہیں۔ضلع صدر ملی کونسل نے مزید کہا کہ مولانا کے خیال میں آزاد بھارت میں تعلیم کا سب سے اہم مقصد نئی نسل میں ذہنی بیداری پیدا کرنا تھا،مولانا ابو الکلام آزاد نے کہا تھا کہ تمام پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد میں نے سمجھا ہے کہ ہمارے لئے ہر حال میں ضروری کام عوام کی تعلیم ہے یہی کام سب سے زیادہ اہم ہے اور اسی کام سے ہمیں اب تک دور رکھا گیا ہے,مولانا کہا کرتے تھے کہ تعلیم کا واحد مقصد روزی،روٹی کمانا نہیں، بلکہ تعلیم سے شخصیت سازی کا کام بھی لیا جانا چاہئے اور یہی تعلیم کا سب سے مفید پہلو ہے اور اسی سے معاشی وتمدنی نظام بھی بہتر ہوسکے گا۔ مولانا ابو الکلام آزاد، آزادی کے قریب گیارہ برس بعد اس دارِ فانی سے 22 فروری 1958 کو ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئے،یقیناً آپکی وفات سے جہاں ملک نے ایک نایاب ہیرا کھویا وہیں مسلم قوم نے گویا اپنی آواز کھوئی،انھوں نے اپنے ایک فعال وقابل رہنما کو کھویا،جس کی بھرپائی آج تک نہیں ہو پائی،لیکن حالات کی ستم ظریفی دیکھیں کہ جس مرد مجاہد نے وطن عزیز کی بقا کی خاطر بے شمار قربانیاں دیں آج انھیں ایک طرح سے دانستہ یا نا دانستہ طور پر فراموش کیا جا رہا ہے! انہوں نے کہا کہ مولانا کے اقوال اور انکی تحریرات ہمیں ہمارے مستقبل کے لئے فکرمند بنارہی ہیں اور ہمیں یہ پیغام دے رہی ہیں کہ اگر ہم اپنے خوابوں کو صحیح معنوں میں شرمندئہ تعبیر کرنا چاہتے ہیں اور سادہ خاکوں میں رنگ بھرنا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کے میدان میں آگے آنا ہوگا اور ملت کی سرفرازی کی راہیں خود تلاش کرنی ہونگی، اور اس کے لئے تعلیمی بیداری مہم چلانی ہوگی۔ اس موقع پر مولانا عبدالخالق ، مفتی دلنواز، مفتی ہاشم، قاری ریاست، ماسٹر ارشاد، قاری ثوبان، قاری اسجد وغیرہ موجود رہے۔ پروگرام کی صدارت عبدالمالک مغیثی نے کی اور نظامت مفتی دلنواز قاسمی نے انجام دی۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here