ون نیشن ون ریٹ قانون پورے ملک میں نافذ ہو

0
180
All kind of website designing

نیتی آیوگ کی میٹنگ میں وزیر اعظم سے نتیش کمار کا مطالبہ

پٹنہ ،02فروری:وزیر اعلی نتیش کمار نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک بھر میں بجلی کی قیمتوں کو بدستور برقرار رکھیں۔ ہفتہ کو نیتی آیوگ کی میٹنگ میں وزیر اعلی نے ‘ون نیشن ون ریٹ ‘ کا مطالبہ کیا ہے۔ اس میٹنگ میں وزیر اعلی نے کہا کہ بہار نے بجلی کے میدان میں بہت سے کام شروع کیے۔ ہر گھر کو بجلی فراہم کرنے کا منصوبہ تھا اور تمام لوگوں کو بجلی فراہم کی جاچکی ہے۔وزیر اعلی نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ہر گھر کو بجلی کی فراہمی میں بھی مدد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2018 کے مہینے میں ہر گھر میں بجلی پہونچا دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی اے کو سال 2005 سے بہار میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اس وقت بجلی کی کھپت 700 میگاواٹ تھی لیکن 2020 میں جون کے مہینے تک بجلی کی کھپت 5،932 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔نتیش کمار نے کہا کہ بہار حکومت عوام کو 5 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی امداد دیتی ہے۔ کوشش کی جارہی ہے کہ بہار کے عوام کو کم سے کم قیمت پر بجلی فراہم کی جائے۔ بہار حکومت نے پری پیڈ سمارٹ میٹر لگانا شروع کردیا ہے اب مرکزی حکومت بھی اس پر عمل پیرا ہے۔ اس کی وجہ سے اب بجلی کا غلط استعمال نہیں ہوگا۔بجلی کے غلط استعمال سے ماحولیات پر بھی بحران پیدا ہوتا ہے۔ لہذا شروع سے ہی بہار میں پری پیڈ اسمارٹ میٹروں کی بات کی جارہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ مرکزی حکومت کے پلانٹوں کے ذریعے مختلف ریاستوں میں بجلی دی جاتی ہے۔ اس کی شرح بھی مختلف ہوتی ہے۔ لہذا پالیسی بنانی چاہئے۔ یعنی پورے ملک میں ‘ون نیشن ، ون ریٹ’ ہونا چاہئے۔ بہار کو بجلی کافی مہنگی ملتی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو ریاستی حکومت سے زیادہ سبسڈی دینا پڑتی ہے۔ اگر پورے ملک کے لئے کوئی پالیسی بنائی جائے تواچھا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صنعت کو فروغ دینے کی کو شش بہت ضروری ہے ۔ ہم لوگوں نے بھی اس سلسلہ میں اپنی پالیسی بنائی ہے تاکہ ریاست میں صنعت کو فروغ ملے ۔ صنعت کو فروغ دینے کے سلسلہ میں15 برسوں سے ہم لوگ کوشاں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بہار ایک لینڈ لاک ریاست ہے ۔ اس کے سبب کئی طرح کی دشواری ہو تی ہے ۔ ہم لوگوں نے سال 2011 سے ہی کہا ہے کہ اڑیسہ میں ایک الگ بندرگاہ کی سہولت مہیا کرا دی جائے تو بہار سے کسی چیز کو بھی بھیجنے میں سہولت ہو گی ۔ اس تجویز کو ہم نے گزشتہ 10برسوں میں کئی بار رکھا ہے ۔ اس پر توجہ دی جائے تو کافی بہتر ہو گا ۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار کا کریڈٹ ڈپوزٹ ریشیوبہت ہی کم 36.1 فیصد ہے ۔ یہاں سے ڈپوزٹ 3.75 لاکھ کروڑ روپے رہتا ہے لیکن بینکوں سے 1.35 لاکھ کروڑ کا ہی قرض دیا جاتا ہے ۔ اس تعلق سے ہم لوگ ہمیشہ کہتے رہے ہیں ۔ پورے ملک میں سیڈی ریشیوکا اوسط 76.5 فیصد ہے ، کچھ ریاستوں کا تو 100 فیصد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی دیکھ لیا جائے کہ بہار جیسی ریاستوں کا جو پیسہ بینکوں میں جمع ہو تا ہے وہ ترقی یافتہ ریاستوں میں چلا جاتا ہے ۔ یہاں کا پیسہ ریاست کو ہی دینے کا التزام کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر پنچایت میں بینکوں کی ایک برانچ کھولی جائے ، اس کے لیے ہم لوگ پنچایت سرکار بھون کی عمارت دینے کو تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ پورے ملک میں صنعت کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو ان بنیادی چیزوں پر توجہ دینی ہو گی ۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مجھے بہت ہی اچھا لگا ہے جب اتھینال کی پیدوار کی بات کی گئی ہے ۔ ہم لوگوں نے سال 2007 میں ہی ایتھنال کی پیداوار کے لیے ایکٹ میں ترمیم کر کے مرکزی حکومت کو بھیجا تھا ۔ اس وقت کی مرکزی حکومت نے اسے قبول نہیں کیا تھا لیکن اب پوری بات ہو گئی ہے۔ اب گنے کے رس سے بھی ایتھینال بنا یاجائے گا ۔ ایتھینال کی پیداوار سے متبادل ایندھن ملے گا ۔ اس سے پٹرول اور ڈیزل پر انحصار کم ہو گا اور سہولت ملے گی ۔ یہ کام شروع کر نے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ، یہ بہت اچھی بات ہے ۔ ہمیں یاد ہے کا ایک شخص نے ریاست میں ایتھینال کی مصنوعات کے بارے میں تقریبا 21ہزار کروڑ روپے کی تجویز دی تھی لیکن اس وقت کی مرکزی حکومت نے اجازت نہیں دی ورنہ بہار میں بہت پہلے سے ہی ایتھینال کی پیدوار شروع ہو جاتی ۔ اب اس کی شروعات ہو رہی ہے ، یہ اچھی بات ہے ۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سال 2008 سے ہی ایگریکلچر روڈ میپ بنا کر ایگریکلچر کے شعبہ میں ہم لوگ کئی کام کر ہے ہیں ۔دھان ، گیہوں ،مکئی ، سبزی ، پھلوں سمیت تمام چیزوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے ۔ اب ہم لوگ آرگینک کھیتی کو بھی فروغ دے رہے ہیں ۔ بہار میں پیداوار اور پیداری (پروڈیکٹیویٹی)میں اضافہ ہوا ہے ۔گنگاند کے کنارے واقع 13اضلاع میں آرگینک کھیتی کے لیے ایگریکلچر انپٹ سبسڈی دی جارہی ہے ۔ ہم لوگوں آرگینک کھیتی کے لیے کسانوں کو راغب کر رہے ہیں ۔ آب و ہوا میں تبدیلی کے مد نظر فصل پیدا وار کے لیے موسم کے موافق ایگریکلچرپروگرام بھی چلایا جارہا ہے ۔ ماحولیات کے توازن کو لے کر جل ،جیون ،ہریال مہم بھی چل رہی ہے ۔ پانی اور ہریالی رہے گی تو ہی زندگی محفوظ رہے گی ۔ انہوں نے کہا کہ موسم کے موافق ایگریکلچرمہم کو 8اضلاع سے شروعات کر کے اب تمام اضلاع میں اسے نافذ کر دیاگیا ہے ۔ اس میں بورلانگ انسٹی ٹیوٹ آف ساتھ ایشاء ، ڈاکٹر راجندر پرساد مرکزی یونیورسٹی پوسا ، بہار ایگریکلچر یونیورسٹی سبور اور انڈین ایگریکلچر ریسرچ کونسل مشرقی علاقہ کی مدد لے رہے ہیں۔ موسم کے موافق کھیتی کر نے کے سلسلہ میں کسانوں کو راغب کر نے کے لیے ہم لوگ ان تمام چیزوں پر بہت کام کر رہے ہیں ۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرکزی حکومت کے ذریعہ زراعت سے متعلق جو تین ایکٹ لگا یاگیا ہے ، وہ کسانوں کے مفاد میں ہے ۔ یہ کسانوں کے خلاف نہیں ہے ۔ پہلے بھی نیتی آیوگ کی میٹنگ میں اے پی ایم سی ایکٹ میں ترمیم کر نے کے سلسلہ میں جو تجویز آئی تھی تو ہم نے کہا تھا کہ بہار میں تو اے پی ایم سی ایکٹ ہم لوگوں نے سال 2006 میں ہی بند کر دیا ہے ۔ پہلے لوگوں کو اپنا سامان فروخت کر نے میں دشواری ہو تھی تھی ۔ جب ہم لوگوں نے اے پی ایم سی ایکٹ کو ختم کر دیا تو سامان فروخت کر نے میںکسانوں کو کسی طرح کی دشوار نہیں ہونے لگی ۔ پہلے پروکیورمنٹ ہو رہا ہے ۔ ایک بار پروکیورمنٹ 24 لاکھ میٹرک ٹن ہوا تھا ، گزشتہ سال 20 لاکھ میٹرک ٹن اور اس مرتبہ ہم لوگوں نے تیزی سے کام کرایا ہے ۔ کل تک تقریبا 32.89 لاکھ میٹرک ٹن دھان خرید ہو چکی ہے ۔ ہم لوگوں نے پیکس کو ڈیولپ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ بلاک سطح پر ’ویار پار منڈل‘ اور پنچایت سطح پر پیکس کے توسط سے بڑے پیمانے پر بھی حصولی کا کام چل رہا ہے ۔ ہم لوگوں کی کو شش ہے کہ زراعت کو مزید فروغ دیں ۔ مرکز کے ذریعہ جو پالسی بنے گی اس سے مدد ملے گی ، اس سے ہم لوگوں کو اور فروغ ملے گا ، اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بجلی کے شعبہ میں ہم لوگوں نے کئی کام بہار میں شروع کیا ۔ ہر گھر بجلی پہنچانے کا منصوبہ بنا یا اور وہ پہنچ گئی اورتب تک مرکزی حکومت کیبھی منصوبہ بن گیا تو ان کی بھی مدد ملی ۔ سال 2018 کے اکتوبر ماہ میں ہی ہر گھر بجلی ہم لوگوں نے پہنچادی ہے ۔ جب ہم لوگوں کو سال 2005 میں کام کر نے کا موقع ملا ، اس وقت یہاں بجلی کی کھپت 700 میگاواٹ تھی اور جون 2020 کے اعدادو شمار کے مطابق مجموعی کھپت 5,932 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے ۔ ریاستی حکومت لوگوں کو 5 ہزارکروڑ روپے سے بھی زیادہ کی سبسڈی دیتی ہے ۔ لوگوں کو کم قیمت پر بجلی فراہم ہو اس کے لیے ہم لوگ کو شش کر رہے ہیں ۔ پری پیڈ اسمارٹ ہم لوگوں نے لگا نا شروع کر دیا ہے ۔ اب مرکزی حکومت بھی اسے نافذ کررہی ہے ، اس سے بہت فائدہ ہو گا ۔ پری پیڈ اسمارٹ میٹر کے لاگو ہو نے سے بجلی کا بے جا استعمال نہیں ہو گا ۔ لوگوں کو جتنی ضرورت ہو گی اتنی ہی بجلی کا استعمال کریں گے ۔ بجلی کا بے جا استعمال ہو نے سے ماحولیات پر بھی مسائل پیدا ہو تے ہیں اس لیے شروع سے ہی ہم لوگوں نے پری پیڈاسمارٹ میٹر کی بات کہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے پلانٹوں کے توسط سے جو الگ الگ ریاستوں میں بجلی جاتی ہے ، اس کی قیمت بھی الگ الگ ہے ۔ اس کے لیے ایک پالیسی بنانی چاہئے یعنی ’ون نیشن ون ریٹ‘ ہو ۔ ہم لوگوں کو بجلی بہت مہنگی ملتی ہے ، جس سے لوگوں کو ریاستی حکومت کی طرف سے زیادہ سبسڈی دینی پڑتی ہے ۔ پورے ملک کے لیے ایک پالیسی بنا دی جائے گی تو بہت اچھا ہوگا ۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انسانی وسائل کے فروغ کے لیے ہم لوگوں نے بہت کام کیا ہے ۔ مرکز کی طرف سے جو تجویز آئی ہے،وہ بہتر ہے ۔ جو نئی پالیسی آئی ہے جب اس پر بھی میٹنگ ہوئی ہے، جس میں ریاستی حکومت کی طرف سے اپنی بات کہی گئی ہے اور بعد میں بھی ہم لوگوں نے ایک مکتوب بھیجا ہے ۔ اچھی بات ہے کہ مکمل طور پر تعلیم کا فروغ ہو نا چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ آئین کے 73ویں اور 74ویں ترمیم کے مطابق پنچایتی راج اداروں کو اور میونسل کارپوریشن کو جو حقوق دیے گئے ہیں ، اس میں ایک حق تعلیم کا بھی ہے ۔ پرائمری تعلیم سے لے کر ہائی اسکول اور پلس ٹو تک کی تعلیم کا حق پنچایتی راج اداروں اور میونسل کارپوریشن کو ملا ہے ۔ ہم لوگوں نے انہیں یہ حق دے دیا ہے ۔ اسکولوں کے لیے عمارت کی تعمیر کرائی گئی ، عمارتوں کا مینٹننس کر واتے ہیں ۔ اساتذہ کی بحالی کی گئی ہے اور انہیں تنخواہ دی جارہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ آنجہانی اٹل جی کی حکومت کے وقت سے جو رقم طے کی گئی تھی ، اس وقت وہ ملتی تھی لیکن اب اتنی نہیں مل رہی ہے ۔ ہماری درخواست ہے کہ جو پالیسی ہے ، اسے دیکھ لیا جائے ۔ پنچایتی راج اداروں اور میونسپل کارپوریشن کو اساتذہ کی بحالی کا اختیار ملا ہوا ہے ، اس کو دیکھتے ہوئے جو نئی پالیسی لائی جارہی ہے اس میں یہ کام بہتر طریقہ سے ہو ، یہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ٹیچر کا ریکیورمنٹ ہم لوگوں نے کروایا ، انہیں تنخواہ دی جارہی ہے ۔’جامع تعلیم‘پروگرام کے تحت مرکزی حکومت کے تحت اساتذہ کی تنخواہ میں جو رقم ملتی ہے وہ رقم وقت پر اگر مل جائے تو ریاستی حکومت کو سہولت ہوتی ہے ۔ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے ہم لوگوں نے سائیکل منصوبہ ،پوشاک منصوبہ جیسے کئی منصوبے شروع کیے۔ ہمارے یہاں لڑکیاں تو پہلے تم کم بڑھتی تھیں لیکن اب تعلیم میں لڑکے اور لڑکیوں کی تعدادمساوی ہو گئی ہے ۔ گزشتہ سال میٹرک کے امتحان میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے بھی تھوڑی زیادہ تھی ۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کورونا انفکشن کی زدمیں پوری دینا آئی ۔ ابھی بھی ملک کی کچھ ریاستوں میں کورونا کا حملہ ہے ۔ ہم لوگوں کی ریاست میں تو بہت کم ہوا ہے ۔ ہم لوگ مکمل طور پر چوکس ہیں اور ٹسٹ بھی کرارہے ہیں ۔ملک میں ہی ویکسن کو ڈیولپ کیا گیا اور پورے ملک میں ٹیکا کاری تیزی سے ہو رہی ہے ۔ ہم کے لیے وزیر اعظم کو مبارکباد پیش کر تے ہیں ۔ بہار میں اگلے مرحلہ کی ٹیکا کاری میں 50سال سے زیادہ عمر کے لوگوں اور پچاس سال سے کم عمر والے لوگ جو دیگر سنگین مرض سے متاثر ہیں ان کے لیے بھی فراہم ہو جائے گا ۔ ہم یقین دہانی کراتے ہیں کہ اس معاملہ میں ہم لوگ پوری طرح مدد کریں گے اور مرکزکی جو رہنما ہدایت ہو گی اس پر عمل کریں گے ۔

وزیر اعلیٰ نے ریاست کے صحت کے شعبہ کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے بتا یا کہ بہار میں سال 2005-06 میں بچوں کی شرح اموات فی ایک ہزوار پر 61 تھی ، اب وہ کم ہو کر 32 ہو گئی ہے ۔ جب ہم لوگوں کو کام کر نے کا موقع ملاتھا تو بہار میں 2005-06 میں عمومی ٹیکا کاری 18فیصد تھی ، اب وہ بڑھ کر 86 فیصد ہو گئی ہے ۔ ہم لوگوں نے اب ٹاپ فائیو ریاستوں میں ٹیکا کاری کا جو فیصد ہے اس کے مطابق بہار کو پہنچانے کا نشانہ رکھا ہے ۔ زچہ کی شرح اموات ایک لاکھ کی آبادی پر312تھی اب وہ کم ہو کر 149ہو گئی ہے ۔ بہار میں زچگی کی شرح 4.3 تھی ، وہ اب کم ہو کر 3.2 ہو گئی ہے ۔ ہم لوگوں نے زچگی کی شرح کو کم کر نے کے لیے کئی کام شروع کیے ہیں ۔ ہم نے سروے کرایا تو پتہ چلا کہ اگر لڑکی میٹرک پاس ہے تو بہار میں زچگی کی شرح 2اور پورے ملک میں بھی زچگی کی شرح 2تھی ۔ اگر لڑکی انٹر پاس ہے تو پورے ملک میں زچگی کی شرح 1.7 تھی اور بہار میں 1.6 ہے ۔ اس سے حیرت انگیز ہے ۔ ہم لوگوں نے طے کر دیا کہ ہر پنچایت میں پلس ٹو تک کی تعلیم کا انتظام کریں گے تاکہ تمام لڑکیاں انٹر تک کی تعلیم آسانی سے حاصل کر سکیں ۔ یہ کام ہم لوگوں نے تقریا کر دیا ہے ۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم لوگ سولر پاور کے شعبہ میں کام کررہے ہیں ، یہ بہت اچھی بات ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر حگہ ہائیڈرو پاور پلانٹ کے لیے بھی کام ہو نا چاہئے ۔ ماحولیات کے تحفظ کے لیے ہم لوگوں نے ہریالی کو فروغ دینے کے لیے کام کر نا شروع کیا ۔ بہار ،جھارکھنڈ کی تقسیم کے بعد بہار میں گرین کوور 9فیصد ہی تھا ۔ اس بعد ہم لوگوں نے شجر کاری کے علاوہ دیگر کئی کام شروع کیے جس کی تفصیل ہے کہ اب وہ بڑھ کر 15فیصد ہو گئی ہے ۔ کورونا کے دور میں بھی ہم لوگوں نے 5جون 2020 سے 9اگست 2020 تک 2کروڑ 51لاکھ شجر کاری کر نے کا نشانہ رکھا تھا ،لیکن مجھے یہ بتاتے ہوئے بہت خوشی ہورہی ہے کہ کورونا کے باوجود نشانے سے زیادہ 3کروڑ 80لاکھ سے بھی زیادہ شجر کاری ہوئی ۔ اس طرح ہم لوگ ،جل ،جیون ہریالی ، ماحولیات کے تحفظ ، پانی کے تحفظ ،سولر پاور کو فروغ دینے ، موسم کے موافق ایگریکلچر کے فروغ ، آرگینک کھیتی اور شجر کاری کے لیے کام کررہے ہیں ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہندوستان کو ترقی یافتہ ملک بنا نا ہے ، خود منحصر ملک بنا نا ہے اور بہار کو ترقی یافتہ ریاست بنانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں نے ترقی یافتہ بہار کے لیے سات عزائم 2- طے کر کے اس پر کام شروع کر دیا ہے ۔ ہم لوگ اس پرتیزی سے کام کریں گے تاکہ بہار ترقی یافتہ بن سکے۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here