اردو کی ترقی و تحفظ کے لیے نئے عزم کے ساتھ سب مل کر محنت کریں:حضرت امیر شریعت

0
302
اردو کی بقاء ، تحفظ اورترویج و اشاعت کے موضوع پر ا لمعہد العالی امار رت شرعیہ کے کانفرنس ہال میں منعقد تقریب میںشرکت کرتے اردو سے وابستہ افرادو دانشوران
All kind of website designing

امارت شرعیہ کے زیر اہتمام اردو تحریک سے وابستہ نمائندہ شخصیات کے مشاورتی اجلاس میں کئی اہم تجاویز منظور ، اردو کارواں
اور اردو دستہ کی بھی تشکیل

محمد نعمت اللہ

پٹنہ، 14 فروری: اردو کی بقاء ، تحفظ اورترویج و اشاعت کے موضوع پر ا لمعہد العالی امار رت شرعیہ کے کانفرنس ہال میں امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کی صدارت میں اردو تحریک سے وابستہ اہم افراد،ملی ، سماجی و سیاسی کارکنان، اردو کے اساتذہ ، دانشوران ا ور نمائندہ شخصیات کاایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہو ا۔اپنے صدارتی خطاب میں حضرت امیر شریعت مد ظلہ نے اردو کو پیش آئند مسائل اور اس کے حل پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ، آپ نے قومی تعلیمی پالیسی کے حوالہ سے اردو کو پیش آنے والے اندیشوں اور خطرات کی طرف بھی نشان دہی کی ، آپ نے اجلاس میں شرکت کے لیے تشریف لائے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج کی مجلس میں صر ف پٹنہ شہر کے حضرات نہیں ہیںصوبہ بہار کے مختلف حصوں سے اہل علم اور اردو سے محبت کرنے والے حضرات تشریف لائے ہیں، جونہ صر ف اردوداں ہیں، بلکہ اردوکے شیدائی ہیں ، اردوکے لیے کچھ کرتے ، کرتے رہنے اورکرگذرنے کاحوصلہ رکھتے ہیں، دلوں میں چھپا ہؤا یہ حوصلہ عمل کے سانچہ میں ڈھل جائے ، جوش اورہوش کے ساتھ کاریگری ہوتوبڑی بات بنے گی اوربہت سی بگڑی بن جائیگی ــاردوہم سے آرزومندی دردمندی ،فکر مندی کی طلبگار ہے ، اردوچاہتی ہے کہ جوانکی زبان پر ہے اسکے لئے وہ زبان کھولیں ، جوان کے خیالات ، احساسات جذبات کوعام کرتی ہے ، اوردوسروں کے کانوں میں رس اورمٹھاس گھولتی ہے،اسے طاقت پہونچائی جائے اردوکودودھ پینے والے مجنوں سے واسطہ رہاہے ، اب اسے خون دینے والے مجنوں کی بھی ضرورت ہے۔اردو کیسے بچے گی ، کس طرح پھلے پھولے گی اس کے لیے نسخۂ اکثیر بتاتے ہوئے آپ نے کہا کہ ہم اردوبولیں گے، لکھیں گے،اردوکوپھیلائیں گے، تواردوآگے بڑھے گی،ترقی کرے گی،آنے والی نسل کو اردو پڑھائیں گے، انہیں تہذیب سے آراستہ کریں گے، توسماج میں سائشتگی اورتمیز آئے گی، پروفیسررگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری نے غیر مسلم اردومصنفین کے اجلاس میں یادگار جملہ کہاتھا،’’ہم چاہتے ہیںکہ ہماری نئی نسل اردوسیکھے ، تاکہ انہیںڈرائنگ روم میں بیٹھنے اوربولنے کاسلیقہ آجائے‘‘۔ زبانیںتوسب پیاری ہیں،اردوکاکمال یہ ہے کہ جہاںسے بھی گذرتی ہے، سلیقہ چھوڑجاتی ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی کے حوالہ سے آپ نے کہا کہ اس پوری تعلیمی پالیسی میں کہیںاردوکاذکر نہیںہے ،جبکہ ابھی تک اتر بھارت میں رابطہ کاایک بڑاذریعہ اردوہے، جسے زبردستی ہندی کہاجاتاہے، اب نئی قومی تعلیمی پالیسی۲۰۲۰ء کے ذریعہ ایسی کوششوںکوآگے بڑھایاجائے گا، اوراردوکیلئے راہیںبندکی جائیںگی ۔آپ نے فرمایا کہ اردو کے سلسلہ میں حکومت جڑ کاٹ کر تنوں اور پتیوں پر بھوار برسا رہی ہے ۔ آپ نے شرکاء سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آپ حضرات اردووالے ہیں، اردوکیلئے جو ادارے اورشخصیتیں کام کرتی رہی ہیں، انہیںبھی یہاں جمع کرنے کی کوشش کی گئی ، پورے بہار میں صدالگادی گئی ، تاکہ اردو کا نیا کارواں تیار ہوسکے، نئے جوش اورنئے ارادہ کے ساتھ ، امارت شرعیہ نے محسوس کیا کہ اردوکے محاذ پر سناٹامہیب ہوتاجارہاہے، توایک جوابدہ ادارہ کی حیثیت سے اس کے نمائندے بہار کے اضلاع میں پہونچے ، عوام و خواص کو جھنجھوڑا، انہیں ذمہ داری یاد دلائی اور پورے بہار میں حرکت پید اکی ، اب یہ عوامی طاقت آپ کے ساتھ ہے ،اردو والے اس سے کام لیں ـــ امار ت شرعیہ تو فکر والوں، درد والوں کا کارواں ہے۔اب آپ کمان سنبھالیں، جوتنظیمیں، انجمنیںادارے ہیں،وہ احساس شکر کے ساتھ ادائے فرض کی نیت سے اپنی ذمہ داری نبھائیں اورمشترکہ کوششوںکی راہ اپنائیں، آپ چاہیں گے توامارت شرعیہ آپ کے ساتھ خادمانہ پیچھے پیچھے چلے گی۔تمہیدی گفتگو کرتے ہوئے امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے کہا کہ یہ میٹنگ ایسے وقت میں حضرت امیر شریعت کے حکم پر بلائی گئی ہے ،جو وقت اردو کے لیے کھڑے ہونے کا ہے ، اور اس کے لیے فکر کرنے کا ہے ، اس نشست پر پورے ملک کی نگا ہے ، آپ کے فیصلوں کا لوگوں کو انتظار ہے ، ہمیں امید ہے کہ یہ اجلاس پورے ملک میں اردو کی ترقی کے تعلق سے سنگ میل ثابت ہو گا۔ انشا ء اللہ آپ کے فیصلوں سے اردو کا مستقبل روشن ہو گا۔جناب اعجاز علی ارشد سابق وائس چانسلر مولانا مظہر الحق عربی فارسی یونیورسٹی نے کہا کہ اردو تحریک کے اندر زندگی پیدا کرنے کے لیے ایک طویل مدتی منصوبہ بنانے اور صبر و ضبط کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے، اس کام کے لیے ہمیں ترجیحات متعین کرنی ہوں گی، اپنی عددی قوت کا ثبوت دینا ہوگا اور دیوانگی کے ساتھ کام کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں کئی مفید مشورے دیے ۔ جناب صفدر امام قادری صاحب کالج آف کامرس پٹنہ نے کہا کہ امارت شرعیہ نے بروقت مستحسن قدم اٹھایا ہے ، میرا خیال ہے کہ اس کے لیے اردو کمیشن کا شعبہ قائم کیا جائے اور اعداد وشمار جمع کیے جائیں اور ایک لگاتار کام کرنے والی کمیٹی امارت شرعیہ کی سرپرستی میں تشکیل دی جائے ۔ انہوں نے آن لائن میتھڈ کی نزاکتوں کو سمجھنے اور ان کا حل سوچنے کی بھی تجویز رکھی ۔ جناب ڈاکٹر ریحان غنی صاحب نے کہا کہ ایک عرصے کے بعد امارت شرعیہ نے اردو تحریک کی اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کی ہے جو درمیان میں ٹوٹ گئی تھی،انہوں نے اردو کے تعلق سے مضبوط تحریک چلانے کا مشورہ دیا اور کہا کہ پرائمری سے لے کر یونیورسٹی کی سطح تک اردو کو لازمی طور پر شامل کرنے کی کوشش کی جائے ۔انہوں نے اردو اکیڈمی کی تشکیل نو اور اردو مشاورتی کمیٹی کو آئینی اختیارات دلانے کی بھی تجویز رکھی۔جناب امتیاز احمد کریمی ممبر بی پی ایس سی و سابق اردو ڈائرکٹر نے کہا کہ سرکاری دفاتر میں اردو کی درخواستیں بہت کم آتی ہیں ، اس لیے اردو کے نام پر بحال ملازمین دوسرے کاموں میں لگ جاتے ہیں ،اگر درخواستیں اردو میں دی جانے لگیں تو اردو مترجمین کو اپنے فرائض کو ادا کرنے کا موقع ملے گا، انہوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں سرکاری سطح پر اردو کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالی اور کئی مفید مشورے دیے۔ مولانا تقی الدین احمد ندوی فردوسی خانقاہ منیر شریف نے اردو قومی زبان ہے کسی خاص مذہب کی زبان نہیں ہے ، اس کو مذہب کے خول سے باہر نکال کر اجتماعی طور پر اس کے فروغ کے لیے کوشش کریں ، جناب عبد الباری صدیقی صاحب سابق وزیر حکومت بہار نے کہا کہ اردو کو روزگار کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے تبھی اس کو فروغ مل سکے گا۔ جناب انوار الہدیٰ صاحب سکریٹری اردو مشاورتی کمیٹی بہار نے کہا کہ آزادی کے بعد اردو زبان کے ساتھ سوتیلا پن کیا گیا ہے ، اردو میں نصابی کتابیں شائع نہیں ہوتیں ، اردو کتابوں کو شائع کرنے کا مطالبہ بڑھایاجاناضروری ہے۔معروف و معمر صحافی جناب خورشید انور عارفی صاحب نے کہا کہ امارت شرعیہ نے جو تحریک چلائی ہے یہ اس بات کی ضمانت ہے کہ یہ تحریک کامیاب ہو گی ، انہوں نے اردو کو اس کا حق دلانے کے لیے خاموش اورپُرامن احتجاج کا طریقہ اپنانے کا مشورہ دیا۔معمر صحافی جنا ب ریاض عظیم آبادی نے کہا کہ آج اسکولوں میں اردو پڑھنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے ، اس کو روکنے کی ضرورت ہے ، انہوں نے ایک کمیٹی بنا کر ہر علاقہ میں اردو کے تعلق سے سروے کرا نے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ سرکار کو اردو پڑھانے کے لیے اسکولوں میں اردو داں اساتذہ کو بحال کرنا چاہئے ۔جناب مشتاق احمد نوری صاحب نے کہا کہ ہر شخص اپنے گھر میں اردو پڑھے اور اپنے بچوں کو پڑھائے، اردو کے ذریعہ ہی ہماری تہذیب و تشخص کی بقا ہو سکتی ہے۔اس لیے ضرورت ہے کہ آج کی اس نشست کو اردو تحریک کی شکل دے دی جائے اور آج ہی سے اس کی ابتدا کر دی جائے۔ڈاکٹر احمد اشفاق کریم صاحب بانی کٹیہار میڈیکل کالج و الکریم یونیورسٹی نے کہا کہ ہم لوگوں نے اپنے بچپن میں ہر فن کی کتابیں اردو میں پرھیں ، آج ہمارے بچے اردو نہیں پڑھ رہے ہیں اس کے لیے ہم خود مجرم ہیں ۔انہوں نے اردو کو روزگار اور معاشیات سے جوڑنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔جناب سید دائم صاحب اورنگ آباد نے مشورہ دیا کہ اردو مادری زبان ہے ، اس کو ترقی دینے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس سے ماں کی طرح محبت کریں اور اردو رسم الخط کو زندہ رکھنے کی کوشش کریں ساتھ ہی اردو لکھنے کی عادت ڈالیں ۔ جناب اسلم جاوداں صاحب سکریٹری جنرل تحریک اردو نے کہا کہ اردو کے تعلق سے دو پہلو ہیں ایک اس کی بقاء اورتحفظ کااور دوسرے اس کی ترقی اور فروغ کا ،دونوں مسائل کو الگ الگ مرحلوں میں حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ہم سب کو احساس کمتری کو چھوڑ کر باہر نکلنا ہو گا اور اردو پر فخر کے ساتھ اپنی وابستگی دکھانی ہو گی ۔ جناب انوار الحسن وسطوی صاحب نے امارت شرعیہ کی تعلیمی تحریک اور تحفظ اردو تحریک کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی سطح پر نئے سرکولر کو ختم کرا کر اردو کی لازمیت دوبارہ بحال کرانے کی ضرورت ہے۔مولانا شکیل احمد قاسمی صاحب نے کہا کہ حضرت مولانا سجا د صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے جب ۱۹۳۷ء؁ میں بہار میں انڈیپینڈنٹ پارٹی کی حکومت بنائی تو سرکولر کے ذریعہ کارروائی کی زبان اردو رکھنے کا فیصلہ کیا، جس کی پروسیڈنگ ابھی بھی اسمبلی کی لائبریری میں موجود ہے ، اس سے پتہ چلتا ہے کہ امارت شرعیہ نے اول دن سے اردو کی بقاء و فروغ کی فکر کی ہے۔جناب توقیر عالم صاحب مظفر پور نے کہا کہ پریشر گروپ بنا کر حکومت سے اردو کے مسائل حل کرائے جائیں ۔جناب مولانا اعجاز احمد صاحب، جناب احسن رضا امجدی صاحب،مولانا صدر عالم ندوی ، جناب حبیب مرشد خان بھاگل پوری ،جناب شہنواز خان سابق ڈپٹی ڈائرکٹر لیبر کمیشن نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور مفید مشورے دیے۔اجلاس میں اس تحریک کو تسلسل کے ساتھ قائم رکھنے کے لیے تمام شرکاء کی اتفاق رائے سے اردو کارواں اور اردو دستہ کے نام سے دو کمیٹی تشکیل دی گئی، اردو کارواں کے صدر جناب اعجاز علی ارشد، نائب صدر پروفیسر صفدر امام قادری، جنرل سکریڑی جناب ڈاکٹر ریحان غنی اور سکریٹری جناب انوار الہدیٰ صاحب کو بنایا گیا۔ اور انہیں مجاز کیا گیا کہ وہ ضلعی سطح پر کمیٹیاں بنائیں اور اس کمیٹی میں مزید ممبران کا اضافہ کر لیں ، ساتھ ہی اردو دستہ کے لیے بھی ذمہ داروں اور ممبران کا انتخاب کر لیں۔تجاویز مفتی محمدثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ نے پیش کیا اور حلف نامہ کی خواندگی مفتی محمد سہراب ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ نے کی۔ اجلاس کا آغاز مولانا محمد حسان صاحب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، مولان قاری مجیب الرحمن صاحب نے نعت اور مولانا شمیم اکرم رحمانی صاحب نے اردو پر نظم پیش کی ۔ مولانا محمد عادل فریدی صاحب نے اردو کے تعلق سے ہورہی نا انصافیوں کا تذکرہ کیا اور ان کے حل کی تجویز پیش کی ۔ اجلاس کی نظامت قائم مقام ناظم امارت شرعیہ مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے کی ، اور حضرت امیر شریعت مد ظلہ کی دعا پر اس کا اختتام ہوا۔مولانا اس اجلاس میں جناب سلمان راغب،جناب خالد انوار ایم ایل سی،ذاکر بلیغ رحمانی، ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی، لطف اللہ قادری، ابو ذر کمال الدین، فضل اللہ قادری ، الیاس حسن عرف سونو بابو ، ارشاد اللہ صاحب چیر مین وقف بورڈ، سید امانت حسین ، حکیم افتخار احمد قاسمی، اشرف استھانوی،اعظمی باری، قاری آفتاب عالم چھپرہ، عظیم الدین انصاری، نجم الحسن نجمی، شمیم اقبال انور آفاقی،حاجی عارف رحمانی، مولانا عبد الدیان صاحب،عبد الواحد رحمانی، ضیاء القمر جماعت اسلامی ، مولانا انیس الرحمن مدھوبنی ،ڈاکٹر اظہار احمد ، مولانا ایوب نظامی ،آفتاب عالم چیرمین نگر پریشد،کے علاوہ بہار کے مختلف اضلاع سے محبان و وابستگان اردو، اردو اخبارات کے مدیران اور صحافی حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here