می ٹو معاملہ: کبوترباز ایم جے اکبر کا مقدمہ!

0
223
Alamati Photo
All kind of website designing

عدالت ایم جے اکبر سے متعلق ہتک عزت کیس سے متعلق فیصلہ 17 فروری کو سنائے گی

نئی دہلی ، (ایجنسی)۔ دہلی کی راوزایونیو عدالت نے سابق مرکزی وزیر ایم جے اکبر کے ذریعہ صحافی پریہ رمانی کے خلاف دائر ہتک عزت کافیصلہملتوی کردیا ہے۔ اب عدالت اس معاملے پر اپنا فیصلہ 17 فروری کو دے گی۔ گذشتہ یکم فروری کو ایڈیشنل میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ رویندر کمار پانڈے نے فیصلہ سناتے ہوئے دونوں فریقوں کو عدالت میں اپنے تحریری دلائل داخل کرنے کی ہدایت دی تھی ، لیکن دونوں فریقوں نے تحریری دلائل داخل نہیں کیے۔
بدھ کے روز عدالت نے دونوں فریقوں کو 5 دن میں عدالت میں اپنے تحریری دلائل داخل کرنے کا حکم دیا۔ یکم فروری کو سماعت کے دوران پریہ رمانی کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ ربیکا جان نے کہا تھا کہ ایم جے اکبر کے خلاف جنسی استحصال کے الزامات درست ہیں۔ اس کے بارے میں جو ٹویٹس کی گئیں وہ ہتک عزت والے نہیں تھے اور عوامی مفاد میں کیے گئے۔بیکا جان نے کہا تھا کہ غزالہ وہاب اور پلوی گوگوئی کے الزامات سے ایم جے اکبر کو پریشانی کیوں نہیں ہوئی۔ اس کے الزامات زیادہ سنگین تھے۔ ربیکا جان نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آپ پک اینڈ چوز کرتے ہیں تو آپ کو چوز نہیں کرنے کی وجہ بتانی ہوگی۔ ایم جے اکبر رمانی کے پیچھے اس لئے پڑ ے کیونکہ وہ ایک سافٹ ٹارگیٹ تھیں۔ ربیکا جان نے کہاکہ پریہ رمانی نے ذاتی وجوہات کی بنا پر ٹویٹر اکاؤنٹ کو انیکٹیو کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پریہ رمانی نے ایماندارانہ بیان دیا تھا۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here