مودی کی آنکھیں نہ مسلمانوں کے قتل عام پر چھلکیں

0
300
File Photo
File Photo
All kind of website designing

نہ کسانوں اور مزدوروں کی بے بسی اور موت پر مگر …

عبدالعزیز
روٹھا تھا جس غرور پر وہ بھی تو یاد کر
آنکھوں میں تری آج یہ آنسو فضول ہیں

گزشتہ روز ( 9 فروری) راجیہ سبھا میں غلام نبی آزاد کے ایوان بالا سے سبکدوش ہونے پر وزیراعظم نریندر مودی الوداعی تقریر کرتے ہوئے جذباتی نظر آئے۔ ان کے آنسو بھی چھلک پڑے جس انداز ایک سانحہ کی یاد میں ان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ گجرات کے چند تاجروں کے کشمیر میں انتہا پسندوں کے ہاتھوں قتل ہونے کے واقعہ پر بے قابو دکھائے دیئے۔ بار بار پانی پیتے رہے۔ خاکسار سوچنے لگا کہ مودی جی سیاست داں سے کہیں زیادہ بڑے فنکار اور اداکار ہیں مگر وہ غالباً راکیش ٹکیت کے آنسوئوں کی نقل کر رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ شاید ان کے جذبات اور آنسوئو ں کی قدر بھی اسی قدر ہوجا ئے گی اور ایک انقلاب برپا ہو جائے گا جس طرح راکیش ٹکیت کے آنسو ئوں نے کسانوں میں انقلاب برپا کردیا لیکن بناوٹ اور مصنوعیت لاکھ کوشش کے باوجود چھپ نہیں سکتی ؎ ’’حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے – کہ خوشبو آنہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے‘‘۔ جس شخص نے محض ایک روز پہلے اسی مقام پر کھڑے ہو کر کسانوں کی تحریک کا مذاق اڑایا ہو۔ ڈھائی سو کسانوں کی موت اور لاکھوں کسانوں کی بے بسی پر ایک لفظ بھی نہ کہا ہو۔ دیکھنے والے اور سمجھنے والوں نے تو دیکھا اور سمجھا کہ جہاں آنسوؤں کی برسات ہونی چاہئے تھی وہاں ایک قطرہ آنسو کا ٹپکنا تو دور کی بات ہے ہمدردی کے دو الفاظ بھی نہیں نکلے بلکہ اسے ( گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام) صحیح justify ٹھہر اتے ہوئے سر آئیزک نیوٹن کے قانون کششِ (Law of Gravitation)کو نامہ نگار وں کے سامنے پڑھ کر سنایا opposite reaction and Every action has equal ( ہر عمل کا یکساں اور برخلاف ردعمل ہوتا ہے)۔
انگریزی روزنامہ ’دی ٹیلیگراف‘ نے ایک لمبی فہرست شائع کی ہے جب مودی جی سنگین سے سنگین تر واقعات پر مہر بہ لب رہے، دنیا کہتی رہی:اے مودی ! تیرے شہر کے آداب عجب ہیں۔ مقتول سزا وار ہے۔ قاتل انعام کا حقدار ہے۔ فہرست ملاحظہ فرمائیں: کورونا وبا کے دوران ایک غریب دلت خاندان کی جواں سال لڑکی کی اجتماعی عصمت دری اور بہیمانہ قتل نودیپ کور، نتاشا نرور، عمر خالد، سدھا بھا ردواج، اسٹن سوامی اور سیکڑوں سماجی کارکنان جو آوازِ حق بلند کرنے کی پاداش میں برسوں یا مہینوں سے جیل میں بند ہیں۔ صحافی صدیق کپن کئی ماہ سے بے قصور قید ہیں۔ منور فاروقی ایک ماہ تک قید بامشقت کی سزا جھیلتے رہے۔ جمہوریت کشی کی ایسی بے شمار وارداتیں ہیں۔ ماب لنچنگ کی بے شمار وار داتیں ہوئیں اور گئو رکھشکوں کے ہا تھوں قتل ہوئے۔ ان سب پر مودی خاموش رہے۔ کتنے صحافیوں اور دانشوروں کو ستایا اور قتل کیا گیا مگر مودی کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکلا۔یوں تو پورے ہندستان میں انسانیت پر جبر و ظلم ہوتا رہا لیکن خاص طور پر دلتوں اور مسلمانوں پر کسی اور کی طرف سے نہیں بلکہ مسٹر نریندر مودی کی جماعت اور سنگھ پریوار کی طرف سے کوئی ایسا ظلم نہیں ہے جو نہ ہوا ہو۔ دادری کے محمد اخلاق کے گھر کے فریج میں گوشت رکھا ہوا ہے، سنگھ پریوار کے لوگوں نے یہ الزام لگاکر ان کو گھر سے باہر گھسیٹ کر جس طرح بے دردی اور سنگ دلی کے ساتھ مار دیا گیا اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ ملک میں ماب لنچنگ کا سلسلہ سالوں تک چلتا رہا۔ پونے کے ایک نوجوان انجینئر کو محض اس لئے قتل کردیا گیا کہ اس کے سر پر ٹوپی تھی اور کرتا پیجامہ پہنے ہوئے تھا۔ اس طرح کے سیکڑوں واقعات ہیں جو ایک ایک کرکے گنائے اور لکھے جاسکتے ہیں۔ کہیں بھی کسی کو بھی ایسے سنگین جرم پر سزائیں نہیں دی گئیں۔ جہاں کہیں گرفتاری ہوئی مجرموں کو جلد رہا کردیا گیا۔ بی جے پی کے ایم پی اور ایم ایل اے نے مجرموں کو پھولوں کے ہار پہنائے۔ مسلمان تو مسلمان دلتوں کے ساتھ بھی اسی طرح کے مظالم روا رکھے گئے۔ بلند شہر کے ایک پولس افسر کے ساتھ جو کچھ ہوا دنیا جانتی ہے۔ اس کو صرف اس لئے قتل کردیا گیا کہ وہ نظم و نسق کو قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ قاتل جب جیل سے باہر آئے تو انھیں بھی سنگھ پریوار والوں نے پھولوں کی مالا پہنائی۔ مظفر نگر کے فسادیوں اور مجرموں کو ایم پی اور ایم ایل اے کے ٹکٹ دیئے گئے۔ جلسہ عام میں مودی جی نے خود ہی ان مجرموں کو پھولوں کے ہار پہناکر عزت افزائی کی۔ یہ سب واقعات کو دنیا بھول سکتی ہے لیکن جن خاندانوں کے لوگ مارے گئے ہیں وہ آخر کیسے بھول سکتے ہیں۔ کشمیر میں جو کچھ ہوا یا جو کچھ ہورہا ہے اس کی مثال بھی ملنی مشکل ہے۔
5 اگست 2019ء میں جموں وکشمیر کے خصوصی اختیارات ختم کردیئے گئے اور پورے کشمیر کو قید خانے اور جیل میں تبدیل کردیا گیا۔ شہریوں کیلئے ساری سہولتیں ختم کردی گئیں۔ انٹرنیٹ بند کردیا گیا۔ موبائل کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی۔ گھروں میں لوگ محصور ہوگئے۔ سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں چھوٹے بڑے سیاستداں یا تو گرفتار کرلئے گئے یا پھر نظر بند کردیئے گئے۔ آٹھ نو لاکھ فوجی پورے کشمیر میں تعینات کردیئے گئے۔ ہر دس آدمیوں پر ایک فوجی کو نگراں بنا دیا گیا۔ بچے، بوڑھے، عورت، مرد سبھی پریشان حال تھے۔ دوائیں تو لینے کی سہولت نہیں تھی۔ اسپتال جانے کے راستے بھی مسدود تھے۔اس طرح پورے کشمیر کی حالت جیل سے بھی بدتر تھی۔ جب لاکھوں انسان پریشان و بدحال ہوں۔ بچے اور بوڑھے پر بھی رحم نہ ہو۔ مریض اور زخمی کو بھی دوا لینے یا ڈاکٹر تک جانے کی سہولت نہ ہو تو آخر کشمیر جسے جنت بے نظیر کہا جاتا ہے وہ کیا جہنم کدہ نہیں بن گیا تھا۔ دنیا جانتی ہے کہ جنت بے نظیر کو جہنم کدہ میں تبدیل کرنے والا کون تھا؟ مودی جی تھے۔ آج جو کشمیر کے غلام نبی آزاد کا راجیہ سبھا سے سبکدوش ہونے پر ہمدردی کے الفاظ زبان پر لارہے ہیں اور آنکھوں کو اشکبار کرنے کی سعی و جہد کر رہے ہیں۔ غلام نبی آزاد ان لوگوں میں سے ہیں جن کو مودی جی کسی وجہ سے نظر بند تک کرنے کی ضرورت تک محسوس نہیں کی۔ ہاں یہ ضرور کیا کہ پہلی بار جب کشمیر کے ہوائی اڈہ پر پہنچے تو انھیں اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں سے بھی ملنے یا بات چیت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ جولوگ مرگئے تھے یا مار دیئے گئے تھے ان کے ورثاء کے پاس جانے اور تعزیت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ آج دنیا پوچھ سکتی ہے کہ وہ لوگ بھی تو کشمیر کے تھے ان کے مرنے یا قتل ہونے پر مودی جی کے آنسو کہاں تھے؟ آج ایک کشمیری پر کیمرے کے سامنے آنسو بہانے کی اداکاری یا فنکاری آخر کیسے دنیا سمجھے گی کہ یہ دردِ دل کے آنسو ہیں۔ یہ سیاسی آنسو نہیں ہیں۔
مودی جی ایک ایسے شخص ہیں کہ وہ اپنی بیوی کیلئے بھی ہمدردی کے دو الفاظ نہیں رکھتے بلکہ یہ چھپانے کی کوشش کرتے ہیں کہ دنیا میں کوئی ان کی بیوی بھی ہے۔ اور اگر وہ الیکشن میں حصہ نہیں لیتے اورشادی شدہ یا غیر شادی شدہ ہیں انتخابی فارم میں لکھنا ضروری نہیں ہوتا تو شاید دنیا کو یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ ان کی کوئی بیوی بھی ہے جو ان کی محبتوں اور ہمدردیوں سے محروم ہیں۔ وہ ماں سے ملنے ضرور جاتے ہیں لیکن کیمرے کے ساتھ۔ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جسے نہ اپنوں سے پیار ہے نہ غیروں سے لگاؤ ہے وہ گجرات کے ان چند تاجروں کے سانحہ قتل کو یاد کرکے یا اپنے ایک سیاسی دوست کے راجیہ سبھا سے سبکدوش ہونے پر آنسو بہانے کا دکھاوا کر رہا ہے۔ آنسو غم اور خوشی کے موقع پر عموماً نکل آتے ہیں لیکن کسی پتھر دل سے آنسو کا نکلنا حقیقت میں اتنا ہی مشکل ہے جتنا کہ سوئی کے سوراخ سے کسی اونٹ کا گزرنا۔ یہ بات سچ ہے کہ چراغ پہلے گھر میں جلائے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ’’اول خویش بعدہ درویش‘‘ یعنی پہلے اپنوں کی خبرگیری اور ہمدردی کی جاتی ہے پھر غیروں کا نمبر آتا ہے۔
بائبل میں لکھا ہوا ہے کہ جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم خدا سے محبت کرتے ہیں لیکن اپنے بھائی سے محبت نہیں کرتے وہ جھوٹے ہیں۔ اسی اصول پہ اگر پرکھا جائے تو جو لوگ اپنوں کیلئے ہمدردی نہیں رکھتے اور غم میں آنسو نہیں بہاتے وہ غیروں کیلئے اگر آنسو بہاتے ہیں اور غم کا مظاہرہ کرتے ہیں تو اسے حقیقت میں وہی تسلیم کرسکتے ہیں جو اندھی تقلید کرتے ہیں ۔ یقینا مودی جی کی آنکھوں سے غلام نبی آزادی کیلئے یا مقتول گجراتیوں کیلئے جو آنسو چھلکے ہیں اس سے مودی بھکت ضرور متاثر ہوں گے لیکن ان کی اشکبار آنکھوں سے شاید ہی کوئی غیر متاثر ہوگا۔
E-mail:[email protected]

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here