انفار میشن ریوولوشن کے ساتھ اخلاقی انقلاب بھی ضروری: گورنر پٹیل

0
279
گورنر اور وزیر برائے اعلیٰ تعلیم آن لائن ہوئے شامل
گورنر اور وزیر برائے اعلیٰ تعلیم آن لائن ہوئے شامل
All kind of website designing

رانی درگاوتی یونیورسٹی کی 32 ویں کانوکیشن تقریب منعقد

بھوپال ، (ایجنسی) گورنر محترمہ آنندی بین پٹیل نے کہاہے کہ ابتدائی سطح سے لے کر یونیورسٹی سطح تک کے سبھی تعلیمی اداروں کو قدیمی تہذیب اور اقدار کے تئیں مخلص رہناہوگا۔ مواصلاتی انقلاب کے ساتھ اخلاقی انقلاب بھی ضروری ہے۔ قدیمی علم کا بہتر استعمال اور قومی سطح پر جدیدیت دونوں میں ہم آہنگی ہونا چاہئے۔ تاکہ ملک اور ثقافت کے موافق شہریوں کی مکمل ترقی ہو جو ملک- سماج کی ضروریات کی تکمیل کرنے میں قادر ہوں۔ محترمہ پٹیل آج گورنر ہائوس لکھنو سے رانی درگاوتی یونیورسٹی کے 32ویں کانوکیشن تقریب کو خطاب کررہی تھیں۔ ریاست کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم ڈاکٹر موہن یادو بھی پروگرام میں شامل ہوئے۔
گورنر محترمہ پٹیل نے کہا کہ موجودہ دور عالمی مسابقت کا دور ہے، اس دور میں وہی آگے ہوسکتا ہے ، جو مقابلہ میںکھرا اترے۔ امتیازیت کا معمار بھی وہی ہوسکتا ہے جو اپنی عظیم روایات کی ہم آہنگی جدید تکنیک کے ساتھ کرکے پانے میں باصلاحیت ہو۔ تعلیمی اداروں سے ہی شہری تعلیم یافتہ اور بااخلاق ہوتے ہیں۔ قوم کی ہمہ جہت ترقی کے لئے تعلیم اور تکنیکی مہارت میں ہم آہنگی ضروری ہے۔ اس سمت میں سرکار نے قومی تعلیمی پالیسی کے تحت معیاری تعلیم کے لئے وسیع سطح پر پالیسی میں تبدیلی اور اختراع کئے ہیں۔ انہیں زمین پر لانے کے لئے وسیع سوچ کے ساتھ یونیورسٹی سطح پرکوشش ضروری ہے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلباء اور پروفیسروں کو تعلیم میں نیا پن او رجدیدیت کا دھیان ضرور رکھنا چاہئے۔ ساتھ ہی اپنی ثقافتی وراثت ، خوشحال روایات اور ابدی اقدار کے سرمایہ کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ تعلیمی اداروں کو سماج اور ملک کے سلگتے مسائل کے تئیں بیدار اور حساس نیز ان کے حل میں تعاون کے لئے بیدار رہنا چاہئے۔ آج کے گلوبلائزیشن دور میں ہم تعلیم کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے ہیں۔ اسے کچھ نصابی کتابوں تک محدود بھی نہیں رکھ سکتے ہیں۔ اس لئے ہمارا نصاب ایسا ہونا چاہئے جو طلباء کو سماجی روابط کے تئیں متنبہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ قوم کا نوجوان طبقہ سماج کے سب سے زیادہ جواب دہ طبقہ کی نمائندگی کرتا ہے۔ وہ طاقت و حوصلہ سے بھرپور ہوتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے مناسب سمت اور مہارت کے مطابق روزگار مل سکے۔ اس کے لئے ہی صحیح تعلیم اور قابل استاد کی ضرورت ہے۔ ایک کتاب، ایک مثالی استاد ہزاروں لاکھوں نوجوانوں کے ذہن کو مثبت اور تخلیقی سمت کی جانب راغب سکتا ہے۔
وزیر برائے اعلیٰ تعلیم ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ کورونا کے دور میں ہندوستانی تہذیب کی زندگی کے اقدار ، ثقافت کو عالمی سطح پر نئی پہچان ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمار ی اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں قابل فخر تاریخ ہے۔ باصلاحیت طلباء سماج کی دانشمندانہ سرمایہ کے پیامبر ہیں۔ طلباء اپنے علم سے سماج کو سمت دیں۔ اپنے اخلاقی اقدار کے ذریعہ سماج کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت بھی ان میں ہے۔ وائس چانسلر کے ڈی مشرا نے یونیورسٹی کی پیش رفتوں کی تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی نے سماجی ، اقتصادی طور سے پسماندہ طبقے کے 26ٹی بی کے مریضوں کی تعلیم اور صحت کی ذمہ داری لی ہے۔ ان میں سے 21مکمل طور پر صحت یاب ہوگئے ہیں۔ اکادمک ترقی کے لئے بھارتیہ گیان شودھ پیٹھ رانی درگاوتی ، شودھ پیٹھ اور گرونانک شودھ پیٹھ قائم کیا ہے۔ طلباء کی صحت اور ا?نکھوں کی جانچ کرانے کے ساتھ ہی صحت اور صفائی کے تئیں بیداری کے کام کئے گئے ہیں۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here