جوبائیڈن کی حلف برداری کے لیے واشنگٹن ڈی سی میں پولیس کا سخت پہرا ، کیپیٹل کمپلیکس بنا چھاونی

0
244
All kind of website designing

بائیڈن کی تقریب حلف برداری میں حملے کا خطرہ نہیں: کرسٹوفر

واشنگٹن (ایجنسی) : بدھ کے روز نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن اور نومنتخب نائب صدرکملا ہیرس کی حلف برداری سے قبل امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ حلف برداری کی تقریب میں ٹرمپ کے حامیوں کی طرف سے پریشانی پیدا کرنے کے امکان کے پیش نظر ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ واشنگٹن ڈی سی کو کیمپ میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ معلومات کے مطابق ، امریکی کیپیٹل کمپلیکس میں لاک ڈاؤننافذ کردیا گیا ہے۔در حقیقت ، پچھلے کچھ دنوں سے ، سیکیورٹی ایجنسیوں کو اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ حلف برداری کی تقریب سے پہلے ہی تشدد ہوسکتا ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مذکورہ بالا اقدامات اس کے پیش نظر اٹھائے گئے ہیں۔عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ داخلی سلامتی کے خطرات کی وجہ سے دارالحکومت کمپلیکس میں لوگوں کے داخلے اور باہر جانے دونوں پر پابندی عائد ہے۔اس وقت نیشنل گارڈ کے پچیس ہزار سے زیادہ اہلکار اور سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں پولیس اہلکار اور ملازمین کویہاں تعینات کیا گیا ہے۔ امریکی پارلیمنٹ ہاؤس ، پنسلوینیا ایونیو اور وائٹ ہاؤس کے آس پاس کے بڑے علاقوں کو عام لوگوں کے لئے بند کردیا گیا ہے۔ ان مقامات پر آٹھ فٹ اونچے بیریکیڈس لگائے گئے ہیں۔ پورا شہر ہائی الرٹ ہے۔
دریں اثنا امریکا کے وزیر دفاع کرسٹوفر ملر کا کہنا ہے کہ امریکا کے نومنتخب صدر جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری میں سیکورٹی پرتعینات اہلکاروں کے حملے کا خدشہ نہیں۔کرسٹوفر ملر نے کہا کہ کوئی خفیہ اطلاعات نہیں کہ بائیڈن کی تقریب حلف برداری میں سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سیحملے کاخدشہ ہو۔انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی پرتعینات تمام 25 ہزار نیشنل گارڈز کی اسکریننگ ہورہی ہے، سیکیورٹی پرتعینات اہکاروں کی اسکریننگ معمول کی بات ہے۔دوسری خبر ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپ اور برازیل سے آنے والوں کیلئے سفری پابندی ختم کردی ہے۔ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکیوں کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کیلئے یہ بہترین اقدام ہے۔دوسری جانب بائیڈن پریس سیکریٹریٹری نے کہا کہ ٹرمپ کیاعلان کے باوجود امریکا سفری پابندیاں ختم نہیں کرے گا۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here