تیس سالوں تک ملک کی خدمت کرنے والے محمد اجمل کو محض مسلمان ہونے کی دی جارہی ہے یہ سزا:ڈاکٹر منظور عالم

0
1127

نئی دہلی(پریس ریلیز۔2 اکتوبر؍2017) :تیس سالوں تک فوج میں خدمات انجام دینے والے محمد اجمل کو غیر ملکی قراردینے پر آل انڈیاملی کونسل نے سخت مذمت کی ہے اور اسے مسلمانوں کے خلاف ایک منصوبہ بند سازش قراردیاہے،جنرل سکریٹری ڈاکٹر منظور عالم نے ایک پریس ریلیز جاری کرکے کہاہے کہ یہ بات انتہائی شرمناک ہے کہ جو شخص تیس سالوں تک فوج میں سپاہی کے عہدہ سے لیکر جونیئر کمیشن آفیسر کے عہدہ تک کام کرتارہاہے ،کشمیر ،کارگل اور پنجاب میں پاکستان کی سرحد پر اپنی جان کی بازی لگاکر ملک کی خدمات انجام دیتارہاہے آج ریٹائر ڈ ہونے کے فور ابعد اسے غیر ملکی قراردے دیاگیا اور نوٹس بھیج کر شہری ہونے پر ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیاہے ۔
ڈاکٹر منظور عالم نے سوالیہ لہجے میں پوچھاکہ تیس سالوں تک حکومت ہند نے خدمات انجام دینے والے ایک فوجی کو صلہ میں کیا دیا ،غیر ملکی ہونے کی سرٹیفیکٹ ؟ ، دراندازکا لقب ؟کیا تیس سالوں تک حکومت میں ایک غیر ملکی فوجی تھا؟، اگر وہ ہندوستانی نہیں ہے تو اب تک ملک کی خفیہ ایجنسیاں کیا کررہی تھی ؟کیسے ایک غیر ملکی کی فوج میں بحالی ہوگئی ؟اگر آسام کی ریاستی سرکار کے مطابق محمد اجمل غیر ملکی ہے تو پھر اس کیلئے سب سے زیادہ ذمہ دار وہ تمام ادارے ہیں جنہوں نے انہیں فوج میں بحال کیا ۔انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ ریٹائرمینٹ کے بعد ہی اسے غیر ملکی کیوں کہاگیا ، آخر چند مہینوں میں ایسے کیا ثبوت مل گئے کہ جو شخص پچاس سال ہندوستان کا شہری ہے ،ملک کی آرمی میں خدمات انجام د ے رہاہے ،تمام تر ثبوت موجود ہیں وہ غیر ملکی بن گیا ؟ ۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ جب ایک فوجی کے ساتھ حکومت ہند کا یہ رویہ ہے تو عام مسلمانوں کے ساتھ حکومت کی سازش کو باآسانی سمجھاجاسکتاہے۔
ڈاکٹر منظور عالم نے یہ بھی کہاکہ حکومت محض مسلمان ہونے کی وجہ سے محمد اجمل کو ٹارگٹ کررہی ہے اور تمام تر ثبوت ہونے کے باوجود غیر ملکی کہ رہی ہے ،انہوں نے کہاکہ ملک کی عوام شدید پریشان ہے ،جہاں ایک طرف مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد پر ٹارگٹ کیا جارہاہے تو وہیں دوسری طرف پوری عوام حکومت کی کاکردگی سے تکلیف میں مبتلاہے ،جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد تجارت سے وابستہ لوگوبدترین مشکلات کا سامنا کررہے ہیں اور سب سے زیادہ مسائل کے شکار غریب اور متوسط طبقہ کے لوگ ہیں،انہوں نے کہاکہ سونے پر جی ایس ٹی صرف تین فیصد ہے جبکہ کھانے کی اشیاء پر 28 فیصد جی ایس ٹی ہے ،پٹرول کو جی ایس ٹی سے آزاد رکھاگیا ہے جس کا واضح مقصد بی جے پی حامی ایک گروپ کو فائدہ پہونچاناہے ،تجارت اور کاروبار تھپ پڑگیاہے ،ملک کی جی ڈی پی میں مسلسل گرواٹ آرہی ہے ،اقتصادی نظام خطرے میں ہے ،یہی وجہ ہے کہ اب حکومت اور پارٹی کے لوگ بھی مجبور ہوکرمودی حکومت کی کارکردگی پرسوال کرنے لگے ہیں اور دبے لفظوں میں کہ رہے ہیں کہ موجود حکومت ہندوستان کا نظام چلانے میں ناکام ہوچکی ہے ۔ملک کوکئی سطح پر خطرات لاحق ہیں ۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here