موجودہ ماحول میں نفلی قربانیوں کے بجائے غریبوں کی مالی امداد بہتر ہے

0
499
All kind of website designing

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

قربانی کے سلسلے میں ایک رجحان یہ پایا جاتا ہے کہ بعض علاقوں میں صاحبِ حیثیت مسلمان ایک سے زیادہ قربانیاں کرتے ہیں ۔ عام حالات میں یہ غلط نہیں ہے ۔ بعض فقہا (احناف) کے نزدیک ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر چاہے وہ مرد ہو یا عورت ، قربانی واجب ہے ۔ اس طرح اگر ایک گھر میں تین چار کمانے والے ہوں تو ہر ایک کی طرف سے قربانی ہوتی ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ سے ایک سے زیادہ قربانی ثابت ہے ۔ حجۃ الوداع کے موقع پر

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی
ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

آپؐ نے سو(100) اونٹ ذبح کیے تھے ۔ دیگر برسوں میں آپؐ دو مینڈھوں کی قربانی کیا کرتے تھے ۔
بعض حضرات اپنی قربانی کے ساتھ اپنے مرحوم رشتے داروں کی طرف سے بھی قربانی کرتے ہیں ۔ بعض فقہا نے اسے جائز قرار دیا ہے۔البتہ کورونا کے موجودہ ماحول میں غریبوں کی مالی امداد کے پیش نظر ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ صاحبِ حیثیت مسلمان صرف واجب قربانی کرنے پر اکتفا کریں ، ہر گھر میں صرف ایک قربانی ہو اورنفلی قربانی یا مرحومین کی طرف سے قربانی کرنے کے بجائے اس کی رقم صدقہ کردیں ۔
ایک گھر میں ایک قربانی کا ثبوت بعض احادیث سے ملتا ہے ۔حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے ان کے شاگرد نے دریافت کیا : رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کیسے قربانیاں ہوتی تھیں؟ انھوں نے جواب دیا : ’’ایک آدمی ایک بکرے کی قربانی کرتا تھا ، جو اس کی طرف سے اور اس کے گھر والوں کی طرف سے کفایت کرتی تھی ۔ لوگ خود کھاتے تھے اور دوسروں کو بھی کھلاتے تھے ۔ لیکن بعد میں لوگ فخر و مباہات کے لیے زیادہ سے زیادہ قربانیاں کرنے لگے ۔ ‘‘
(موطا مالک: 1396، ترمذی:1505، ابن ماجہ:3147)

کورونا کی وجہ سے قربانی کو موقوف کرنے کا مشورہ دینا درست نہیں

بعض حضرات کہتے ہیں کہ کورونا کی شدّت اور خطرناکی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ بہت بڑی تعداد میں لوگ اس سے متاثر ہو رہے ہیں ۔ اس کا مقابلہ صرف یوں ممکن ہے کہ سماجی فاصلہ برقرار رکھا جائے اور صفائی ستھرائی پر خصوصی توجہ دی جائے ۔ جانوروں کی مارکیٹ لگانے کی اجازت دی جائے تو سماجی فاصلہ کے ضابطہ پر عمل ممکن نہیں ۔ ذبح کرنے سے قبل انہیں باندھنے رکھنے میں اور ذبح کرنے کے بعد ان کی آلائشیں ٹھکانے لگانے میں بڑی زحمتیں پیش آتی ہیں اور گندگی ہوتی ہے ۔ اس لیے کورونا سے تحفظ کے پیش نظر بہتر ہے کہ امسال قربانی نہ کی جائے اور اس کے بہ قدر رقم کا صدقہ کردیا جائے؟
یہ مشورہ بہ ظاہر بہت معصوم اور ضرر سے بچانے والا معلوم ہوتا ہے ، لیکن حقیقت کی دنیا سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ کورونا کی موجودگی کے باوجود دنیا کا ہر کام ہو رہا ہے ۔ مارکٹس کھل رہی ہیں اور خرید و فروخت ہو رہی ہے ۔ نکاح کی تقریبات منعقد ہو رہی ہیں ۔جنازے اٹھ رہے ہیں اور تجہیز و تکفین کے لیے لوگ جمع ہورہے ہیں ۔ مذہبی تقریبات کا انعقاد ہو رہا ہے ، خاص طور سے ہندو تقریبات میں ہزاروں سے بڑھ کر لاکھوں کی بھیڑ ہوتی ہے ۔ کورونا کی وجہ سے ان کاموں کو روک دینے کا مشورہ کوئی نہیں دیتا ، بلکہ صرف سماجی فاصلہ برقرار رکھنے اور دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کی جاتی ہے ۔ پھرقربانی کے سلسلے میں یہ بات کیوں نہیں کہی جاتی؟ اور اسے یک لخت موقوف کردینے کا مشورہ کیوں دیا جاتا ہے؟

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here