ایسا ہوتا ہے وقت کا ولی

0
938
All kind of website designing

اطلس و کمخواب کے قالین اور غالیچوں میں ڈھونگی ملتے ہیں، ولی نہیں!

میم ضاد فضلی

علماء نے ’’ ولی اللہ‘‘ کی کثیر علامات بیان فرمائی ہیں ، جیسے متکلمین یعنی علمِ کلام کے ماہر علماء کہتے ہیں ’’ولی وہ ہے جو صحیح اور دلیل پر مبنی اعتقاد رکھتا ہو اور شریعت کے مطابق نیک اعمال بجالاتا ہو ۔
بعض عارفین نے فرمایا کہ ولایت قربِ الٰہی اور ہمیشہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ مشغول رہنے کا نام ہے یعنی اس کی ذہن ول اور دماغ میں ہر وقت استحضار کی کیفیت طاری رہتی ہے،ظاہر سی بات ہے کہ جب ہمیشہ اللہ سامنے نظرآنے لگے اور اس کی محبت اور خوف قلب و جگر معمور ہوتو اس سے اللہ کی نافرمانی کے صدور کا امکان نہ کہ برابر رہ جاتا ہے۔جب بندہ اس مقام پر پہنچتا ہے تو اس کو کسی چیز کا خوف نہیں رہتااور نہ کسی شے کے فوت ہونے کا غم ہوتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ ولی وہ ہے جس کو دیکھنے سے اللہ تعالیٰ یاد آئے، یہی طبری کی حدیث میں بھی ہے۔
ابنِ زید نے کہا کہ ولی وہی ہے جس میں وہ صفت ہو جو اس سے اگلی آیت میں مذکور ہے۔ ’’ الَّذِینَ اٰمَنُو ا وَکَانُو ا یَتَّقُو نَ‘‘ یعنی ایمان و تقویٰ دونوں کا جامع ہو۔
بعض علماء نے فرمایا کہ ولی وہ ہیں جو خالص اللہ کے لئے محبت کریں۔ اَولیاء کی یہ صفت بکثرت اَحادیث میں ذکر ہوئی ہے۔
بعض بزرگانِ دین نے فرمایا: ولی وہ ہے جو طاعت یعنی فرماں برداری سے قربِ الٰہی کی طلب کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بطور خاص اس کی کار سازی فرماتا ہے یا وہ جس کی ہدایت کا دلیل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کفیل ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کا حقِ بندگی ادا کرنے اور اس کی مخلوق پر رحم کرنے کے لئے وقف ہوگیا ۔ (تفسیر خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۶۲، ۲/۳۲۲-۳۲۳ )
ہمارا المیہ یہ ہے کہ قرآن وسنت میں بتائی گئی ہدایات اور ولی کی شناخت کے لیے نشاندہی فرمائی گئی علامات کو یکسر فراموش کردیا۔ہم نے سمجھ لیا کہ ولی وہ ہے جس کے آگے پیچھے دائیں بائیں معتقدین اور حاشیہ بردار مریدین کی طویل قطار لگی ہو، جس سے شرف ملاقات کے لیے مقربین کی سفارش اور ان کی جی حضوری اور تملق کی راہ اختیار کرنی پڑے۔جس کے کرتے چمک دار اور دودھ سے بھی زیادہ سفید ہوں، جس کے کپڑے لاکھوں روپے کی خوشبو اور عطر سے معطر ہوں اور تین کلومیٹر کی دوری سے اس کے طویل قافلے کڑوڑ روپے کی گاڑی اور خوشبو نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی طرف آپ کی توجہ کھینچ لے ۔عقل کے ماروں اور حضرت کے وظیفہ پر اپنی توند بڑھانے والوں نے ولی کا مطالب یہی نکالا۔ حالاں کہ معاملہ اس کے برعکس ہے، ولی اس دنیا وی چمک دمک اور لاکھوں مریدین اور مہنگی گاڑیوں اور قیمتی خوشبوؤں سے انہیں کیا لینا دینا۔۔۔۔جس کے دل میں اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے اللہ کو راضی کرنے کی فکر گھر کرلے اور اللہ کا خوف اس قدر جماہواہو کہ ہر قسم کی نافرمانیوں اور حرام کاریوں کے تصور سے بھی اس کا کلیجہ کانپ جائےحقیقت میں ولی وہی ہے۔
کسی صاحب نے مولانا مودودی کی زندگی کا سبق آموز واقعہ لکھا ہے ، دل کی آنکھوں اس واقعہ کو پڑھیے اور دعا کیجیے !کہ زندگی کے کسی موڑ پر اللہ کا سچا ولی آپ کو مل جائے ۔
’’سید ابولاعلی مودودیؒ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ نے کبھی کسی ولی اللہ کو دیکھا ہے ؟ سید مودودیؒ نے جواب دیا ہاں ابھی دو دن پہلے ہی لاہور اسٹیشن پر دیکھا ہے ۔ ہماری گاڑی جیسے ہی رکی تو قلیوں نے دھاوا بول دیا اور ہر کسی کا سامان اٹھانے اور اٹھا اٹھا کر بھاگنے لگے لیکن میں نے ایک قلی کو دیکھا کہ وہ اطمینان سے نماز میں مشغول ہے ۔ جب اس نے سلام پھیرا تو میں نے اسے سامان اٹھانے کو کہا اس نے سامان اٹھایا اور میری مطلوبہ جگہ پر پہنچا دیا، میں نے اسے ایک روپیہ کرایہ ادا کردیا ، اس نے چار آنے اپنے پاس رکھے اور باقی مجھے واپس کردئیے ۔ میں نے اس سے عرض کی کہ ایک روپیہ پورا رکھ لو لیکن اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا “نہیں صاحب میری مزدوری چار آنے ہی بنتی ہے‘‘۔
آپ یقین کریں ہم سب ولی اللہ بننے اور اللہ کے ولیوں کو ڈھونڈنے میں دربدر ذلیل و خوار ہوتے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں مشکل ترین ریاضتوں ، مشقتوں اور مراقبوں سے گزرنا پڑےگا ۔ سار ی ساری رات نوافل میں گزارنی پڑےگی یا شاید گلے میں تسبیح ڈال کر میلے کچیلے کپڑے پہن کر اللہ ٗ کی صدائیں لگانا پڑے گی۔ تب ہم ولی اللہ کے درجے پر پہنچ پا ئیں گے ۔ آپ کمال ملاحظہ کریں ہماری آدھی سے زیادہ قوم بھی اس کو ہی’’ پہنچا‘‘ ہوا سمجھتی ہے جو ابنارمل حرکتیں کرتا نظر آئے گا ، جو رومال میں سے کبوتر نکال دے یا عاشق کو آپ کے قدموں میں ڈال دے ۔
اللہ کا دوست بننے کے لیے تو اپنی انا کو مارنا پڑتا ہے ۔ قربانی ، ایثار اور انفاق کو اپنی ذات کا حصہ بنانا پڑتا ہے ۔
جنید بغدادی اپنے وقت کے نامی گرامی شاہی پہلوان تھے ۔ ان کے مقابلے میں ایک دفعہ انتہائی کمزور ، نحیف اور لاغر شخص آگیا ۔ میدان تماشائیوں سے بھرا ہوا تھا ۔ بادشاہ اپنے پورے درباریوں کے ساتھ جنید بغدادی کا مقابلہ دیکھنے آچکا تھا ۔مقابلہ شروع ہونے سے پہلے وہ کمزور آدمی جنید بغدادی کے قریب آیا اور کہا دیکھو جنید ! کچھ دنوں بعد میری بیٹی کی شادی ہے میں بے انتہائی غریب اور مجبور ہوں ۔ اگر تم ہار گئے تو بادشاہ مجھے انعام و اکرام سے نوازے گا ۔ لیکن اگر میں ہار گیا تو اپنی بیٹی کی شادی کا بندو بست کرنا میرے لیے مشکل ہوجائیگا ۔مقابلہ ہوا اور جنید بغدادی ہار گئے ۔ بادشاہ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا اس نے دوبارہ اور پھر سہہ بارہ مقابلہ کروایا اور تینوں دفعہ ہار جنید بغدادی کے حصے میں آئی ۔بادشاہ نے سخت غصے میں حکم دیا جنید کو میدان سے باہر جانے والے دروازے پر بٹھا دیا گیا اور تمام تماشائیوں کو حکم دیا گیا کہ جو جائیگا جنید پر تھوکتا ہوا جائیگا ۔ جنید بغدادی کی انا خاک میں مل گئی لیکن ان کی ولایت کا فیصلہ قیامت تک کے لیے آسمانوں پر سنا دیا گیا ۔
ولی تو وہ ہوتا ہے جو لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کردے۔جو کسی کو جینے کی امنگ دے دے ۔ چہرے پر خوشیاں بکھیر دے ۔ جب کبھی بحث کا موقع آئے تو اپنی دلیل اور حجت روک کر سامنے والے کے دل کو ٹوٹنے سے بچالے اس سے بڑا ابدال بھلا کون ہوگا ؟
رسول خداﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ سے فرمایا :
’’معاذؓ !تمھیں وہ عمل نہ بتاوں جو بغیر حساب کتاب کے تمھیں جنت میں داخل کروادے ؟‘‘ معاذؓ نے عرض کیا، ضرور یا رسول اللہﷺ ۔ آپ نے فرمایا :’’معاذ ! مشقت کا کام ہے کروگے ؟‘‘ ضرور کروں گا یارسول اللہﷺ ،معاذ نے جواب دیا ۔ آپﷺ نے پھر فرمایا :’’معاذ مسلسل کرنے کا کام ہے کروگے ؟‘‘ معاذؓ نے جواب دیا کیوں نہیں یا رسول اللہﷺ ۔ آپ نے فرمایا:’’ اے معاذ ! اپنے دل کو ہر ایک کے لیے شیشے کی طرح صاف اور شفاف رکھنا، بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوجاوگے‘‘ ۔
معروف کرخیؒ نے فرمایا جس کا ظاہر اس کے باطن سے اچھا ہے وہ مکار ہے اور جس کا باطن اس کے ظاہر سے اچھا ہے وہ ولی ہے ۔ ولایت شخصیت نہیں کردار میں نظر آتی ہے ۔ابراہیم بن ادھمؒ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور چند دن رہنے کی اجازت مانگی آپ نے دے دی ۔ وہ کچھ دن ساتھ رہا اور انتہائی مایوس انداز میں واپس جانے لگا ۔ ابراھیم بن ادھمؒ نے پوچھا کیا ہوا برخوردار ! کیوں آئے تھے اور واپس کیوں جارہے ہو ؟ اس نے کہا حضرت آپ کا بڑا چرچا سنا تھا ۔ اس لیے آیا تھا کہ دیکھوں کہ آپ کے پاس کونسی کشف و کرامات ہیں ۔ اتنا بول کر وہ نوجوان خاموش ہوگیا ۔ ابراھیم بن ادھمؒ نے پوچھا پھر کیا دیکھا ؟ کہنے لگا میں تو سخت مایوس ہوگیا ۔ میں نے تو کوئی کشف اور کرامت وقوع پذیر ہوتے نہیں دیکھی ۔ ابراھیم بن ادھمؒ نے پوچھا نوجوان ! یہ بتاؤ اس دوران تم نے میرا کوئی عمل خلاف شریعت دیکھا ؟ یا کوئی کام اللہ اور اس کے رسول کے خلاف دیکھا ہو ؟ اس نے فورا ًجواب دیا نہیں ایسا تو واقعی کچھ نہیں دیکھا ۔ابراھیم بن ادھمؒ مسکرائے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولے بیٹے ! میرے پاس اس سے بڑا کشف اور اس سے بڑی کرامت کوئی اور نہیں ہے ۔
جو شخص فرائض کی پابندی کرتا ہو ۔
کبائر سے اجتناب کرتا ہو ۔
لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرتا ہو ۔
آپ مان لیں کہ اس سے بڑا ولی کوئی نہیں ہوسکتا ہے ۔اللہ کے ولی کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ صاحب حال ہوتا ہے ۔نہ ماضی پر افسوس کرتا ہے اور نہ مستقبل سے خوفزدہ ہوتا ہے ۔ اپنے حال پر خوش اور شکر گذار رہتا ہے ۔جو اپنے سارے غموں کو ایک غم یعنی آخرت کا غم بنا کر دنیا کے غموں سے آزاد ہوجائے وہی وقت کا ولی ہے ۔
ایک صحابیؓ نے پوچھا یارسول اللہﷺ ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا صبر کرنا اور معاف کرنا ۔آپ یقین کریں تہجد پڑھنا ، روزے رکھنا آسان ہے لیکن کسی کو معاف کرنا مشکل ہے ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اسلام کا حسن یہ ہے کہ بھوکوں کو کھانا کھلائواور ہمیشہ اچھی بات زبان سے نکالو ۔جو صبر کرنا سیکھ لے ، بھوکوں کو کھانا کھلائے ، ہمیشہ اچھی بات اپنی زبان سے نکالے اور لوگوں کے لیے اپنے دل کو صاف کرلے اس سے بڑا ولی بھلا اور کون ہوسکتا ہے ؟
یاد رکھیں جو لوگوں سے شکوہ نہیں کرتا جس کی زندگی میں اطمینان ہے وہی ولی ہے ۔ جس کے دل کی دنیا میں آج جنت ہے وہی وہاں جنتی ہے اور جس کا دل ہر وقت شکوے ،شکایتوں ، حسد ، کینہ ، بغض ، لالچ اور ناشکری کی آگ سے سلگتا رہتا ہے،وہاں بھی اس کا ٹھکانہ یہی ہے ۔
فرائض کی پابندی کیجیے ،
کبائر سے اجتناب کیجیے ،
حال پر خوش رہیے ،
لوگوں کی زندگیوں میں آسانیا ں پیدا کیجیے ،
اور وقت کے ولی بن جائیے ۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here