زینب الغزالی کی تفسیر ‘نظرات فی کتاب اللہ ۔۔۔۔ ایک تعارف

0
1192
All kind of website designing

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

مخالفینِ اسلام اور خاص طور پر اہلِ مغرب کی جانب سے یہ بات بڑے زور وشور سے کہی جاتی رہی ہے کہ اسلام نے حصولِ علم کے میدان میں عورت کی حوصلہ شکنی کی ہے اور اسے تعلیم وثقافت کی مجلسوں سے دور رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کی پوری تاریخ میں علوم وفنون کے ارتقا میں مسلمان عورت کا کوئی قابلِ ذکر کردار نظر نہیں آتا۔ دینی علوم ہوں یا طبیعیاتی علوم؛ دونوں میدانوں میں وہ حاشیہ پر نظر آتی ہے اور کہیں بھی اس کی موجودگی دکھائی نہیں دیتی۔ یہ بات اتنی قوت اور تسلسل سے کہی جاتی رہی کہ اسے ایک ثابت شدہ حقیقت تسلیم کرلیا گیا اور اس کے نقد وجائزہ اور محاکمہ کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ حالاں کہ اسلام نے حصول علم کے معاملے میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا ہے۔ مردوں کی طرح عورتیں بھی تمام طرح کے علوم حاصل کرسکتی ہیں اور اپنی علمی وعقلی صلاحیتوں سے سماج اور انسانیت کو فائدہ پہنچاسکتی ہیں۔ صدرِ اول میں خواتین نے اس میدان میں سرگرم کردار انجام دیا ہے۔ بعد کی صدیوں میں اگر ان کا کردار محدود ہوگیا اور وہ پس پردہ چلی گئیں تو اس کا قصوروار اسلامی تعلیمات کو قرار دینے کے بجائے اس کے اسباب ان تمدنی اور سماجی حالات میں تلاش کرنے چاہیں جو اس کے ذمہ دار ہیں۔ بہ ہر حال اس وقت ہم اردو داں حلقہ میں قرآن کریم کی ایک ایسی تفسیر پیش کرتے ہوئے خوشی ومسرت محسوس کررہے ہیں، جو ایک خاتون کی علمی وذہنی کاوش کا نتیجہ ہے۔ ہماری مراد عصر حاضر میں سرزمینِ مصر سے تعلق رکھنے والی عظیم داعیہ ومجاہدہ زینب الغزالی الجبیلی (م ۲۰۰۵ء) کی تفسیر ’نظرات فی کتاب اللہ‘ سے ہے۔
زینب الغزالی کی ولادت جنوری ۱۹۱۷ء میں مصر کے ایک گاؤں میں ہوئی۔ ان کے والد علمائے ازہر میں سے تھے۔ انھوں نے ان کی بہت اچھی دینی تربیت کی۔ وہ ان کے سامنے نام ور صحابیات کے واقعات بہت اثر انگیزانداز میں بیان کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ انھوں نے زینب کے سامنے مشہور صحابیہ حضرت نسیبہ بنت کعب المازنیہ رضی اللہ عنہا، جنھوں نے غزوۂ احد میں نہایت بے جگری سے رسول اللہ ﷺ کا دفاع کیا تھا، نام ور عرب خاتون باحثہ البادیہ اور آزادیٔ نسواں کی علم بردار مصری خاتون ہدیٰ شعراوی کے حالات بیان کیے۔ پھر سوال کیا کہ تم ان میں سے کس کو اپنا نمونہ بناؤگی؟ زینب نے فوراً حضرت نسیبہ رضی اللہ عنہا کا نام لیا۔ ابھی وہ گیارہ سال کی تھیں کہ والد کا سایہ ان کے سر سے اٹھ گیا۔
زینب الغزالی نے سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ذاتی طور پر علمائے ازہر سے بھی کسبِ فیض کیا۔ان کے اساتذہ میں شیخ عبد المجید اللبان، شیخ محمد سلیمان النجار اورشیخ علی محفوظ خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ ابتدا میں زینب کا تعلق ہدیٰ شعراوی کی قائم کردہ تنظیم الاتحاد النسائی سے ہوگیا، جو آزادیٔ نسواں کے میدان میں بہت سرگرم تھی، لیکن جلد ہی انھوں نے اس سے علیحد گی اختیار کرلی اور ۱۹۳۷ء میں جمعیۃ السیدات المسلمات قائم کی۔ اس وقت ان کی عمر صرف بیس سال تھی۔ اس تنظیم نے مصری خواتین کی دینی تربیت و اصلاح کے میدان میں اہم خدمات انجام دیں۔ پورے مصر میں اس کی شاخیں قائم تھیں۔ السیدات المسلمات کے نام سے اس کا ایک مجلہ نکلتا تھا، جو خواتین کے درمیان بہت مقبول تھا۔ اس تنظیم کی خدمات ربع صدی کے عرصہ کو محیط ہیں۔ اس سے وابستہ خواتین کی تعداد تیس لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔ زینب مسجد ابن طولون میں ہر ہفتہ خواتین کے درمیان قرآن مجید کا درس دیا کرتی تھیں۔ اس میں تین ہزار سے پانچ ہزار تک خواتین شریک ہوتی تھیں۔
اسی زمانے میں مصر میں الاخوان المسلمون کے نام سے ایک تحریک ابھری ، جسے نوجوانوں میں بہت مقبولیت حاصل تھی۔ اس کے بانی شیخ حسن البنا شہید رحمۃ اللہ علیہ نے خواتین میں کام کرنے کے لیے الگ شعبہ قائم کیا تو ان کی خواہش ہوئی کہ زینب الغزالی اپنی الگ تنظیم ختم کرکے اخوان کے شعبۂ خواتین ’الاخوات المسلمات‘ کی ذمے داری سنبھال لیں۔ اس وقت موصوفہ اپنی تنظیم کی مجلس شوری سے مشورے کے بعد اسے توڑنے پر آمادہ نہ ہوئیں۔ بعد میں جب شاہ فاروق کے دور میں پہلی مرتبہ اخوان حکومتی عتاب کا شکار ہوئے تو زینب الغزالی نے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے سیدات مسلمات کو ختم کرکے اخوات مسلمات کی قیادت کے تحت کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اس وقت امام حسن البناؒ نے دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے موصوفہ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی علیٰحدہ تنظیم قائم رکھیں، اس لیے کہ مستقبل میں اس کا علیٰحدہ وجود ضروری ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ 1948 میں جب اخوان کو خلافِ قانون قرار دیا گیا، پھر 1954ء میں جمال عبد الناصر کے زمانے میں اخوان پر دوبارہ کاری ضرب لگائی گئی تو ان حالات میں سیدات مسلمات ہی واحد تنظیم تھی جو میدان میں سرگرم عمل تھی اور قید وبند کے شکار اخوان کے خاندانوں کو سہارا دے رہی تھی۔ اس وقت پورے مصر میں اس کی ایک سو بیس شاخیں تھیں اور غریب اور ضرورت مند خاندانوں کی مالی امداد اس کا شعار تھا۔ آخر کار جمال عبد الناصر نے 1964ء میں السیدات المسلمات پر بھی پابندی عائد کردی اور زینب الغزالی کو داخلِ زنداں کردیا۔ جیل میں ان پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے گئے اور تشدد اور ایذا رسانی کا ہر حربہ آزمایا گیا، لیکن ان کے پائے ثبات میں ذرا بھی لغزش نہ آئی اور وہ صبر وعزیمت کا پہاڑ بنی رہیں۔ انھیں پچیس سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی، مگر چھ سال کے بعد 1971ء میں انور سادات کے زمانۂ صدارت میں انہیں رہائی مل گئی۔
جیل سے رہائی کے بعد زینب الغزالی اخوان کے ترجمان الدعوۃ میں خواتین اور بچوں کے کالم کی ایڈیٹر رہیں۔ انھوں نے دعوت واصلاح، خواتین کی ذمہ داریاں اور دائرہ کار، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے مسائل اور دیگر تحریکی موضوعات پر خوب لکھا۔ ان کی متعدد کتابیں اور مقالات کے مجموعے شائع ہوچکے ہیں اور مختلف زبانوں میں ان کا ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔
زینب الغزالی کے علمی کاموں میں سب سے زیادہ اہمیت ان کی تفسیر ’نظرات فی کتاب اللہ‘ ، کو حاصل ہے۔ اس کا شمار بیسویں صدی عیسوی میں دعوتی وتحریکی اسلوب میں لکھی جانے والی اہم تفسیروں میں ہوتا ہے۔ لیکن ایک دوسرے پہلو سے بھی اس کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ غالباً یہ کسی خاتون کے قلم سے لکھی جانے والی واحد مکمل تفسیر ہے۔ اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں یہ شرف کسی اور خاتون کو حاصل نہیں ہوا ہے۔ جیل کی تنہائیوں میں قرآن کریم ہی زینب الغزالی کا روحانی سہارا تھا۔ وہ تلاوتِ قرآن کے دوران برابر اس کے معانی میں غور وخوض کرتی رہتیں اور جو کچھ اللہ تعالی ان پر القا کرتا اسے مصحف کے حواشی اور بین السطور میں لکھ لیتیں۔ جیل سے رہائی پر ان کا وہ مصحف تو انھیں نہیں مل سکا، لیکن بعد میں جب انھوں نے تفسیر لکھنی شروع کی تو حافظہ پر زور دے کر ان معانی وافکار کا استحضار کیا اور انھیں اپنی تفسیر میں شامل کیا۔ محترمہ غزالی گزشتہ صدی کی نویں دہائی کے اوائل ہی میں اس تفسیر کو مکمل کرچکی تھیں۔ جامعہ ازہر کے استاذِ تفسیر عبد الحی الفرماوی نے اس کا مراجعہ کیا اور اس کی پہلی جلد (711 صفحات)، جو سورۂ ابراہیم تک کی تفسیر پر مشتمل تھی، دار الشروق قاہرہ سے 1994/ 1414 میں شائع ہوئی۔ بعد میں اس کے مالک الاستاذ محمد المعلم کے انتقال کے بعد دوسری جلد شائع نہیں ہوسکی تھی۔ ابھی حال میں مکمل تفسیر (1300 صفحات) کی اشاعت دار التوزیع والنشر الاسلامیۃ قاہرہ سے ہوئی ہے۔
تفسیر ’نظرات فی کتاب اللہ‘ کی امتیازی خصوصیات کو درج ذیل نکات کی شکل میں بیان کیا جاسکتا ہے:
1 _ ۔اس تفسیر میں قدیم ماثور کتبِ تفسیر سے استفادہ کیا گیا ہے، مثلاً تفسیر ابن کثیر، تفسیر قرطبی، تفسیر ابی سعود وغیرہ۔ خاص طور سے محترمہ نے تفسیر ابن کثیر سے اپنے گہرے تاثر کا اظہار کیا ہے۔ جدید تفسیروں میں انہوں نے تفسیر آلوسی اور تفسیر قاسمی سے استفادہ کیا ہے۔ تفسیر رازی بھی ان کے پیش نظر رہی ہے۔ سید قطب کی تفسیر ’فی ظلال القرآن‘ کا بھی وہ جابہ جا حوالہ دیتی ہیں، بلکہ دعوتی اور ادبی اسلوب دونوں میں قدر مشترک ہے۔
2 _ ۔یہ تفسیر، ماثور تفسیر کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔ آیات کی تفسیر میں اسی مضمون کی دیگر آیات پیش کی گئی ہیں، صحیح احادیث اور اقوال صحابہ کی روشنی میں تشریح کی گئی ہے اور تائید میں تابعین اور علمائے سلف کے حوالے دیے گئے ہیں، مثلاً سورۂ بقرہ کے آغاز میں ’تقویٰ‘ کی تشریح میں پہلے سورۂ آل عمران کی ایک آیت پیش کی ہے، پھر ایک حدیث نقل کی ہے اور آخر میں حضرت عمر، حضرت علی اور حضرت عبد اللہ بن عمر و رضی اللہ عنہم کے اقوال ذکر کیے ہیں۔
3 _ ۔اس تفسیر میں عموماً لغوی اور تاریخی تفصیلات اور فقہی اختلافات سے گریز کیا گیا ہے اور آیات کے عام مفہوم پر اکتفا کیا گیا ہے۔ مثلاً آیت ’حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَۃِ الْوُسْطٰی‘ (البقرۃ:۲۳۸) کی تفسیر میں محترمہ نے لکھا ہے: ’’صلوٰۃ وسطیٰ سے کون سی نماز مراد ہے؟ اس میں اختلاف ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے خود اسے متعین نہیں کیا ہے، تاکہ مسلمان تمام نمازوں کی حفاظت کریں۔ کون سی نماز دوسری نمازوں سے افضل ہے؟ اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔‘‘
4 ۔ اس تفسیر کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں آیات کی تفسیر حالاتِ حاضرہ سے جوڑ کر کی گئی ہے۔ مثلاً سورۂ بقرہ کی آیات(۲۶۱-۲۷۴) میں تفصیل سے انفاق اور صدقہ وخیرات کا تذکرہ ہوا ہے، پھر سود کی حرمت بیان کی گئی ہے۔ (آیات: ۲۷۵-۲۷۶) اس کے بعد زکوۃ ادا کرنے والوں کے لیے اللہ تعالی کے اجر وانعام کا وعدہ کیا گیا ہے۔ (آیت: ۲۷۷) اس ذیل میں محترمہ نے لکھا ہے: ’ہمارے درمیان اب فریضۂ زکوۃ کی ادائی میں بہت زیادہ لاپروائی ہونے لگی ہے اور یہ چند نیک لوگوں کا انفرادی عمل بن کر رہ گیا ہے، جسے وہ کھلے یا چھپے انجام دیتے ہیں۔ اور سود پر مبنی نظام کی تاریکیاں سماج میں چھا گئی ہیں، جن میں لوگ ٹامک ٹوٹیاں ماررہے ہیں اور اس کے کڑوے کسیلے پھل کھا رہے ہیں۔‘‘
5 ۔ دیگر تفسیروں کے مقابلے میں اس تفسیر کا ایک امتیاز یہ ہے کہ یہ ایک خاتون کی تحریر کردہ ہے۔ اسی لیے اس میں حقوقِ نسواں سے تعلق رکھنے والی آیات کی عمدہ تفسیر ملتی ہے اور قاری کے سامنے نسائی اپروچ نمایاں ہوکر سامنے آتا ہے مثال کے طور پر سورۃ البقرۃ: ۲۳۴ میں جن عورتوں کے شوہروں کی وفات ہوجائے، ان کی عدت چار ماہ دس دن بیان کی گئی ہے۔ اس کی تفسیر میں محترمہ لکھتی ہیں کہ ’’حاملہ عورت کا حکم اس سے مختلف ہے۔ اگر شوہر کی وفات کے چند دنوں کے بعد وضع حمل ہوجائے تو اس عورت کی عدت مکمل ہوگئی۔ اب وہ آزاد ہے، سوگ کا لباس پہننا ضروری نہیں، وہ اب زیب وزینت اختیار کرسکتی ہے اور دوسری شادی کی خواہش کا اظہار کرسکتی ہے۔ اس کے اس رویے پر ہمیں اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا‘‘۔ تائید میں انھوں نے حضرت سبیعہ الاسلمیہ (زوجہ حضرت سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ) کا واقعہ نقل کیا ہے کہ ان کے شوہر کی وفات کے چند دنوں کے بعد ان کا وضع حمل ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تمہاری عدت پوری ہوگئی۔ اب اگر تم چاہو تو دوسرا نکاح کرسکتی ہو۔ (مسلم)
6 ۔ حقیقت میں یہ ایک دعوتی تفسیر ہے۔ محترمہ نے قرآن کریم کے معانی اور احکام کو حالاتِ حاضرہ سے جوڑ کر بیان کیا ہے۔ وہ مسلمانوں میں پائی جانے والی کم زوریوں کی نشان دہی کرتی ہیں اور اللہ کے دین کی طرف رجوع کرنے اور کتاب وسنت کو مضبوطی سے پکڑنے کو ان کا علاج بتاتی ہیں۔ فرد کی اصلاح وتربیت، خاندان اور سماج کی صالح بنیادوں پر تعمیر اور امت مسلمہ کی تشکیل کا پہلو کبھی ان کی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہوتا۔ گزشتہ قوموں کے واقعات اور خاص طور پر اہل کتاب سے متعلق آیات کی تشریح وتفسیر کرتے ہوئے وہ مسلمانوں کے لیے درس وعبرت کے پہلو کو ضرور نمایاں کرتی ہیں۔
یہ واضح رہے کہ مرحومہ زینب الغزالی کی اس تفسیر میں بعض مقامات پر ان کے نقطۂ نظر سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً ایک جگہ انہوں نے لکھا ہے: ’’جنت آپؐ ہی کے لیے تخلیق کی گئی ہے اور آپؐ ہی کے ذریعے ہم جنت میں داخل ہوں گے۔ آپؐ کے علاوہ کسی دوسرے کے ذریعے ہم اس جنت کو دیکھ نہیں پائیں گے۔‘‘ (تفسیر سورۂ النساء:۱۴۰) یا اصحاب السبت میں سے جو لوگ برائی سے روکتے تھے اور جو لوگ خاموس رہے تھے، دونوں کو انہوں نے عذاب سے نجات پانے والا قرار دیا ہے۔ (تفسیر سورۂ الاعراف:۱۶۵) جب کہ اہل تفسیر صرف ان لوگوں کو نجات یافتہ قرار دیتے ہیں جو برائی سے روکتے تھے۔ اس طرح کے چھ اور مقامات ہوسکتے ہیں۔
مقامِ مسرت ہے کہ مکمل تفسیر کی اشاعت کے کچھ ہی عرصہ کے بعد یہ اردو قارئین کے ہاتھوں میں پہنچ رہی ہے۔ ڈاکٹر عبد الحمید اطہر ندوی ذی علم، با صلاحیت اور محنتی نوجوان ہیں۔ اس سے قبل متعدد عربی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کرچکے ہیں۔ امید ہے ان کی اس علمی کاوش کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا اور اس سے بھرپور استفادہ کیا جائے گا۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here