فراغ روہوی نہیں رہے۔۔۔۔۔

0
304

امتیاز وحید

گزشتہ 13، جولائی 2020 کو کلکتہ کے معروف شاعر اور ادیب فراغ روہوی(1956-2020 ) کا انتقال ہوگیا۔ محمد علی صدیقی معروف بہ فراغ روہوی ابن انعام الحق صدیقی ،موضع روہ، نوادہ بہار کے رہنے والے تھے اور تجارت کی غرض سے کافی عرصہ سے کلکتہ میں مقیم تھے۔ تعلیم بی کام پارٹ I تک تھی۔ 1985 سے شاعری کا آغاز کیا۔ شاعری میں کلکتہ کے استاد الاساتذہ حضرت قیصر شمیم کے شاگردوں میں سرفہرست تھے۔
درمیانہ قد، گندمی رنگ، کلین شیو اور بھاری بھرکم آواز رکھنے والا یہ شاعر کلکتہ کے ادبی حلقوں میں خاصا مقبول،فعال اور سرگرم تھا۔ تعلقات کا دائرہ خاصا وسیع تھا۔ یہاں سے دلی تک ادبی حلقوں میں ان کی شناسائی تھی۔ ہم جیسے نوواردان کلکتہ پر ان کی مہربانیاں خوب تھیں۔ قیصر شمیم کی شاگردی کا دم بھرتے تھے اور ساتھ ہی نوواردان ادب کی استادی بھی فرماتے تھے۔ ادب میں بڑے تیز گام تھے۔ شعر اور نثر دونوں محاذ پر ان کی فعالیت دیدنی تھی۔ ان کے مجموعہ کلام میں۔۔۔
چھیاں چھیاں (ماہیے) 1999،ذرا انتظار کر (غزلیں) 2002،مرا آئینہ مدینہ (نعتیہ کلام) 2003،جب ہم بھی بڑے ہوجائیں گے (شاعری برائے اطفال) 2012،ہم بچے ہیں پڑھنے والے ( 2012)، جنوں خواب (رباعیات) 2013،در خواب پہ دستک (غزلیں)،2015،دوہا درپن (دوہے)،2015،تو کہاں میں کہاں (حمدیہ کلام)،2016،ہماری نظم اور کتاب میلہ (شاعری برائے اطفال)،2016،بوجھ سیکھی ری بوجھ (کہہ مکرنی)،ہاتھ نہ جل جائے (ہائیکو)،ہم رنگ غزل چہرہ (ماہیے)،2017 اور دیوان (غزلیں) 2018 قابل ذکر ہیں۔
اکادمیوں کی جانب سے انعامات و اعزازات کی فہرست بھی طویل ہے، جن میں بہار، یوپی، اور بنگال کی اردو اکادمیاں شامل ہیں۔ اسی طرح مختلف ادبی انجمنوں اور پلیٹ فارم سے ان کی قدر شناسی کا باب بھی خاصا روشن ہے۔ اسی طرح متنوع صحافتی، اداراتی، ادارہ جاتی ادبی اور غیر ادبی سرگرمیوں سے ان کی وابستگی رہی ہے۔
سردست وہ ایک اردو سہ ماہی رسالہ۔۔۔ ترکش۔۔ نکال رہے تھے۔ ازیں قبل وہ ماہنامہ تبصرہ کلکتہ کے مدیر رہے۔ ماہنامہ کلید خزانہ کے علاوہ ماہنامہ صورت انٹرنیشنل کے مدیر اعزازی بھی رہے۔
فراغ روہوی بڑے زندہ دل اور ہمدرد انسان تھے۔ احباب کے مسائل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا، بے غرض بڑھ کر کسی کے کام آنا، یار باشی اور خورد نوازی جیسی خوبیوں سے متصف زندگی سے بھرپور شخص کی موت کا مجھے بے حد تکلیف ہے۔ کچھ عرصے سے مرحوم عارضہ قلب اور شوگر سے جوجھ رہے تھے۔ لاغر ہوگیے تھے۔ بالآخر آج دایمی مفارقت کے سفر پر روانہ ہوگیے۔ اللہ مرحوم کے حسنات کو قبول فرمائے اور پس ماندگان کو صبر جمیل عطافرمائے۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here