کورونا کے حالات میں اسکول انتظامیہ ، اور والدین کو بچوں کی تعلیم کے مستعد رہنا ہوگا

0
606
اشتہار ویبنار
اشتہار ویبنار
All kind of website designing

بھارت بک سینٹر اعظم گڑھ کے زیر اہتمام کورونا کے دور میں بچوں کی تعلیم کے موضوع پر منعقدہ ویبنار میں ماہرین کی آراء

نئی دہلی ، پریس ریلیز:عالمگیر سطح پر اس وقت کورونا وائرس کی تباہ کاری نے نظام زندگی کو معطل کر کے رکھ دیا ہے۔موجودہ وبا زدہ حالات میں دنیا کے معاشرتی ، معاشی اور صحت کے خدشات نے امن سکون کو غارت کرکے رکھا ہوا ہے۔ اس کے باوجود معاش اور تجارت کا نظام سست روی کے ساتھ ہی سہی مگر دھیرے دھیرے پٹری پر لوٹ رہا ہے ، لوگوں کو خشک روٹی ہی سہی مگر اس کی دستیابی کے لیے حکومتوں اور مخیرین کے ہاتھ بڑھے ہیں اور اس کا فائدہ بھی نظر آرہا ہے۔اس صورت حال میںاگر بغور دیکھا جائے تو سب سے زیا نقصان نظام تعلیم کا ہوا ہے، وہ پرائمری اور مڈل کلاسز کی تعلیم سب سے زیادہ مؤثر ہوئی ہے۔اس لیے کہ ماہ جولائی کے پہلے مرحلے میں نافذ کئے گئے لاک ڈاؤن کے ساتھ ہی اسکولوں اور دیگر تعلیم گاہوں کے دروازے جو بند ہوئے ہیں تو اب تک ان کے دوروبام بند ہی پڑے ہوئے ہیں۔ظاہر سی بات ہے کہ اس صورت حال سے بچوں کی تعلیم کا متاثر ہونا فطری امر ہے اور اس کے جو نقصانات ہمارے نونہالوں کے مستقبل پرپڑنے والے ہیں وہ اور بھی زیادہ حوصلہ شکن اور خوفناک ہیں۔ اس لیے کہ کورونا کی تباہ کاری کا سلسلہ ہنوز پوری رفتار کے ساتھ بڑھتاہی جارہا ہے۔لہذا یہ امید بھی نہیں کی جاسکتی کہ دوبارہ یہ تعلیم گاہیں بہت جلد کھل سکیں گی اور بچوں کی تعلیم کا سلسلہ باضابطہ طور پر شروع ہوجائے گا۔ان حالات میں ملت کے بہی خواہان اور ماہرین تعلیم کی ذمے داری ہے کہ وہ سامنے آئیں اور دنیا کو بتائیں کہ گھروں میںمقید نونہالوں کے تعلیمی سلسلہ کو کیسے جاری کیا جائے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ ہمیں ان ممالک کی طرف دیکھنا ہوگا جو ہم سے پہلے کورونا کی وبا سے متاثر ہوئے تھے اور انہوں نے بچوں کی تعلیم کے سلسلے کو کیسے استوار کیا۔جب ہم اس پہلو پر دھیان دیتے تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک نے انفار میشن اور تعلیم کےلیے اور تعلیم کے لیےجدید اطلاعا ٹکنالوجی کا وسیع پیمانے پر استعمال شروع کردیا ہے اور اسی کے ذریعے ان ممالک کے گارجین اپنے بچوں کی تعلیم کے نظام کو معمول پر لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ مگر ہندوستان جیسے گھنی اور کثیر آبادی والے ملک میں جہاں کی زیادہ تر آبادی گائوں میں رہتی ہے اور وہ انٹر نیٹ ، اسمارٹ فون یا لیپ ٹاپ وغیرہ جیسے گزیٹ تک رسائی سے محروم ہیں ، یہ بات کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ اس صورت حال کے باوجودہمارے پاس موجودہ وقت میں اطلاعاتی تکنالوجی ہی وہ واحد راستہ ہے ،جس کے ذریعے ہم بچوں کے تعلیمی سلسلہ کو از سرنو پٹری پر لاسکتے ہیں، ورنہ ان کے مستقبل تاریک ہوجائیں اور دنیاکی ترقی کی دوڑ میں وہ سب سے پیچھے رہ جائیں گے۔ لہذ ا ملت کے مخیرین اور بہی خواہان کو اس جانب توجہ دینی چاہئے ، اس کے لیے اجتماعی طور پر سوشل ڈسٹنسنگ کا خیال رکھتے ہوئی کوئی انتظام کیا جائے۔ ان خیا لات کا اظہاربھارت بُک سینٹر اعظم گڑھ کے زیر اہتمام منعقدہ ایک قومی سطح کا ویبینار میں ماہرین تعلیم اور دانشوروں نے کیا۔ویبینار میں خاص طور ان تمام امکانات پر غور کیا گیا جس سے تعلیم کے سلسلے کو معطل ہونے سے روکا جاسکے۔ویبینار میں یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ موجودہ نازک حالات میں اعلی اور متوسط طبقات نے کسی حد تک آن لائن تعلیم کے طریقہ کو اختیار کرلیا ہے اور اس طرح ان کے بچوں کا تعلیمی سلسلہ معطل ہونے سے محفوظ ہورہا ہے۔ مگر دیہی آبادی اور غریب و مزدور طبقہ کے بچے کیسے اپنے تعلیمی سلسلہ کو منقطع ہونے سے بچاسکیں ،اس وقت ملت کے لیے سوچنے اور کوئی مثبت راہ نکالنے کا یہی ایک سلگتاہوا مسئلہ ہے۔ماہرین نے کہا کہ مستقبل قریب میں اسکولوں اور تعلیمی اداروں کے کھلنے کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا ہے۔لہذا اجتماعی کوشش کی جائے کہ کسی طرح بھی غریب و مزدور اور دیہی طبقہ کے طلبا کی آن لائن تعلیم تک رسائی آسان ہوجائے۔اس کے لیے تعلیم گاہوں کے ساتھ والدین اور انتظامیہ کو آئی سی ٹی کے استعمال کو اپ گریڈ اور سب کے یقینی بنانا ہو گا۔ ویبنار کے مہمان خصوصی مسٹر عبد اللہ صالح الشتوی تھے ، سعودی عرب سے آئے ہوئے مہمان سفیر ثقافتی امور اور مہمان خصوصی مسٹر شاہ عالم جمالی تھے جو پوروانچل کنسٹرکشن کے جنرل منیجر کے علاوہ یوپی قانون ساز اسمبلی کے ایم ایل اے بھی ہیں۔
خیال رہے کہ20 جون کو ایشیاء نیوز انٹرنیشنل میں شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیاتھا کہ ہندو ستا ن میں ابتدائی ، ثانوی اور ہائر سیکنڈری ایجوکیشن شامل 247 ملین بچے کا مستقبل بری طرح متاثر ہوا ہے ، اسی طرح 28 ملین آنگن باڑی پروگرام کے نظام بھی چوپٹ ہوچکے ہیں۔ غریب و مزدور طبقہ کے بچوں کے لیے یہ بات بھی تکلیف دہ ہے کہ وہ سب مڈ ڈے میل کی رسائ سے بھی محروم ہوچکے ہیں، جس کے نتیجے میں انہیں فاقوں سے دوچار اور قلت تغذیہ کے مسائل کا شکار بھی ہونا پڑسکتا ہے۔لہذا ملت کے بہی خواہان کو اس جانب بھی توجہ دینی ہوگی کہ اس کسادہ حالی دور میں بیماری کے برخلاف فاقے اور بھوک کی وجہ سے ان کی اموات کا سلسلہ دراز ہونے لگے۔ اس ویبینار میں ، مختلف موضوعات پر ماہرین اور اساتذہ نے تفصیل سے بات کی۔ اس ویبنار کے کلیدیمقرر مبارک کاپری تھے ، جو عالمی شہرت یافتہ ماہر تعلیم اور محرک خطیب ہیں،انہوں نے ہندوستان اور بیرون ملک 3200 سے زیادہ لیکچر دیے ہیں اور رسائل اور اخبارات میں 1500 سے زیادہ مضامین لکھ چکے ہیں۔ انہوں نے اقلیتوں کو اپنے اداروں کے برموقع اور بامقصد استعمال کے نقطہ نظر پر تبادلہ خیال کیا۔ انجینئر طارق اعظم ملائیشیا کے پیٹرناس ٹاور ، ٹوئن ٹاور کی تعمیر کے چیف انجینئر جو تعلیم اور تعلیم کے میدان میں ان کی شراکت کے لئے مشہور ہیں ، انہوں نے اس کی وضاحت کی کہ اخلاقی تعلیم کے ساتھ کس طرح پرائمری اور سیکنڈری تعلیم دی جانی چاہئے۔ ڈاکٹر محمد خالد ایسوسی ایٹ پروفیسرشعبہ اکنامکس اینڈ مینجمنٹ شبلی نیشنل ڈگری کالجنے اس وبا کے دوران مینجمنٹ اور اسکولنگ میں تسلسل اور رسائی کو یقینی بنانے کے طریقہ پر تفصیل سے گفتگو کی۔ معلم ، مصنف سماجی کارکن اور کاروباری کلیم الحفیظ نے بے روزگاری اور معاشی بحران ، معاشرتی بحران اور تعلیم میں عدم مساوات کی طرف توجہ مبذول کروائی اور اسکول انتظامیہ کو تجویز پیش کی کہ اس تباہی میں اپنے انسانی وسائل کا انتظام کیسے کریں۔ ان کا بہتر استعمال کرنا اور روزگار کو بھی یقینی بنانے پر انہیں غورو خوض کرنا چاہئے۔ مشکل صورتحال کی وجہ سے بہت سارے اسکولوں میں اساتذہ کی ملازمت یا غیر تدریسی عملے کی ملازمت میں کمی نے بڑی تعداد کومعاشی بحران میں لاکھڑا کیا ہے ، حالانکہ اس کے کوئی مثبت حل نکالنا ابھی مشکل معلوم ہوتا ہے۔ کلیم الحفیظ ایک انجینئر اور’’الحفیظ ایجوکیشن ٹرسٹ‘‘ اور شاہین اکیڈمی جیسے اداروں کے بانی ہیں ، جو JEE اور NEET جیسے امتحانات کی تیاری میں اقلیتی طبقہکے معاشی طور پر کمزور طلباء کو سبسڈی یا مفت کوچنگ فراہم کرتے ہیں۔کلیم الحفیظ ایک معروف غریب پرور اور ملی مخیرکے طور پر بھی جانے جاتے ہیں ۔ ویبنار میں مذکورہ شخصیات کے علاوہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کےایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر آفتاب عالم نے اسکول انتظامیہ ، اساتذہ اور طلباء کو تنقیدی نظریات سے آگاہ کیا پروگرام کے آخر میں جون پورکے ایک انٹر کالج میں معاشیات کے استاد سرتاج خان نے ای لرننگ کی اہمیت پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔ اس ویبنار میں استقبالیہ تقریر ڈاکٹر شاہنواز خان نے پیش کی اور شکریہ کے کلمات حکیم نازش احتشام اعظمی ، میڈیکل آفیسر ، حکومت دہلی حکومت نے پیش کیے ،جب کہ پروفیسر خورشید انصاری نے نظامت کے فرائض انجام دیے اور اس طرح کامیابی کے ساتھ یہ ویبینار اختتام پذیر ہوا۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here