’’ترکوں کی پگڑی منظور ہے پوپ کا تاج نہیں‘‘ :  لوقاس نوتراس، تین بازنطینی حکمران کا مشیر

0
549
All kind of website designing

تین سوال اور ان کے جواب
آیا صوفیا کو جب محمد فاتح نے فتح کیا تو کیا اسکی حیثیت محض ایک چرچ کی تھی یا ایک امپائر کے سیاسی اور عسکری ہیڈ کوارٹرز کی؟
آیا صوفیہ کی حیثیت سبھی تاریخی روایات کے مطابق محض مذہبی عمارت کی نہ تھی، بلکہ ایک سیاسی اور عسکری ہیڈکوارٹرز کی بھی تھی۔ اس لئے اس کے ساتھ مذہبی عمارتوں والا سلوک کیا جانا ممکن نہیں تھا۔ مزید یہ کہ اس زمانے کی صلیبی جنگیں چرچ کے ذریعے ہی انجام دی جا رہی تھیں اور پوپ حضرات ہی جنگوں کے فیصلے لیا کرتے تھے، لہٰذا پوپ کی اور انکے مراکز کی حیثیت وہ نہ تھی جو غزالی کے مدرسے کی یا ابن عربی کی خانقاہ کی تھی، یا پھر بامیان کے بدھ مندروں کی۔ جس کو صدیوں کے اسلام کے بعد طالبان نے توڑنے کی کوشش کی، عبادت گاہ کو نقصان پہنچانا ممنوع ہے، تخت اقتدار کو نہیں، لیکن اس کے باوجود سلطان فاتح نے اسکا احترام باقی رکھا اور اسکو اسلامی عبادت کے لئے کھولے رکھا اور علامتی طور پر عیسائی حضرات کے لئے بھی اور اس فیصلے کی تائید بازنطینی علماء نے بھی کر دی تھی۔جن کو عثمانی حکومت نے تمام شہری حقوق کے ساتھ استنبگے میں رہنے کی تحریری اجازت دی تھی۔ واضح رہے کہ اسپین میں تحریری ہدایت کے ساتھ مسلمانوں اور یہودیوں کا اخراج ہوا تھا۔
کیا بازنطینی علماء آیا صوفیا کے کھو جانے پر ویسے ہی رنجیدہ تھے، جیسے آج بہت سے بھارتی بابری مسجد کی شہادت پر خاموش رہنے والے غم زدہ ہیں؟ بازنطینی حکمرانوں کو سب سے زیادہ نقصان رومن چرچ نے پہنچایا تھا اور وہ ترکوں کو رومن چرچ سے زیادہ قابل اعتماد سمجھتے تھے۔ ان کے ایک پادری کا بہت مشہور قول ہے ترکوں کی پگڑی منظور ہے، پوپ کا تاج نہیں! بازنطینی چرچ نے صلیبی جنگوں سے خود کو الگ رکھنے کی ہمیشہ کوشش کی۔ جس کے نتیجے میں چوتھی صلیبی جنگ نے عالم اسلام سے زیادہ استنبول کو برباد کیا اور وقت کے بادشاہ کا قتل ہوا اور آیا صوفیہ کی حرمت پامال کی گئی، یہ سب رومن چرچ کے ہزاروں صلیبیوں نے باہر سے آ کر کیا اور اس کے بعد ہی عثمانی اور بازنطینی حکمرانوں میں اشتراک کا دور شروع ہوا، کم از کم تین عثمانی حکمرانوں نے بازنطینی شہزادیوں سے شادیاں کیں، متعدد بار عثمانی حکمران بازنطینی حکمرانوں کے باہمی اختلافات اور خانہ جنگی میں مصالحت کراتے تھے ۔کبھی ایک فریق کے ساتھ ہو جاتے تھے اور کبھی بازنطینی حکمران عثمانی حکمرانوں کی خانہ جنگی میں ایک فریق کی حمایت کرکے فائدہ اٹھاتے تھے۔
کیا اسے میوزیم میں تبدیل کرنے کا فیصلہ سیکولرازم کے تحفظ کے لئے تھا یا مغربی دنیا سے تقرب کے لئے ایک قربانی تھی؟ اسی زمانے میں سلطان احمد مسجد کو بھی نیشنل لائبریری میں بدلنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ اسی زمانے میں اصلاحات کے نام پر کے گئے سبھی کاموں پر ترکی میںآج کمالسٹ پارٹی کا موقف بہت صاف ہے، وہ سب غلط تھا، کمالسٹ پارٹی کے سبھی بڑے رہنما نے اس فیصلے کا استقبال کیا ہے۔ چرچ کو مسجد میں تبدیل کرنے کا جملہ بہت سے ترکوں کو بھی پسند ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں ہے۔ یہ سلطان فاتح کے زمانے میں بازنطینی اور عثمانی حکمرانوں کے درمیان طے ہوئے معاہدے کی بحالی ہے ، جس کی حمایت اس زمانے کے بازنطینی حکمران اور علماء کر چکے تھے۔ آج اس کی مخالفت کرنے والے وہی مغربی ممالک ہیں جنکی صلیبی فوجوں نے اسی مسجد کو اور استانبول شہر کو سن بارہ سو چار1204 میں خاک و خون میں ملا دیا تھا، اور عثمانیوں نے اس ٹوٹے شہر کو سہارا دیا تھا۔
اب چست گواہان کے بارے میں
یہ کوئی مذہبی بحث ہی نہیں تھی، یہ خلافت کے احیاء کی بھی کوشش نہیں ہے، اور نہ ہی اس کے ہو جانے سے ترکی کے سارے مسائل کسی معجزے سے حل نہیں ہو جائیں گے۔

(ڈاکٹر عمیر انس، انقرہ یونی ورسٹی، ترکی کی فیس بک وال سے)

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here