فساد فی الارض کیا اور کیوں ؟

0
920
All kind of website designing

فساد فی الارض کو دو زاویوں سے سمجھا جاسکتاہے ، ایک عملی فساد۔جیسے فحاشی عریانیت۔چوری ڈاکہ زنی ،قتل وغارت گری ،ظلم وناانصافی ،حرام خوری ، ناحق کمزوروں کامال دبالینا اوران کو واجب حق نہ دینا ۔ملک کی رعایا کے ساتھ انصاف اور مساوات سے کام نہ لینا ۔طاقت اور منصب کا غلط استعمال کرنا ، دوسرے کی چیز کو نقصان پہنچانا،ناحق قتل کرنا، مذہبی اور نسلی بنیاد پر کسی کے ساتھ تعصب برتنا،انسانی حقوق سے محروم کرنا،اس پر اترانا یاکسی کی جان لینا ۔کسی کو ذلیل اور رسوا کرنا، کسی کی حیثیت کم کرنے کے لیے اس کا تمسخر اور طنز کرنا، کسی پربہتان اور الزام تراشی کرنا۔غیبت کوشعاربنانا،جھوٹی گواہی کے ذریعہ کسی کو ناحق مجرم بنانا اس کا عرصہ حیات تنگ کرنا،کسی انسان کو اپنے آپ سے کمتر سمجھنا ،جوا شراب اورسود جیسی قبیح اور ملعون چیزوں کا سماج میں عام ہونا،رحم مادر میں پلنے والی معصوم جانوں کو رزق یاکسی اور خوف سے پیداہونے سے پہلے ہی فنا کردینا، روئے زمین سے وسائل زندگی کے کم ہونے کے خوف سے انسانی آبادی کوکم کرنے کی تدبیریں کرنا ۔مردوخواتین کے درمیان جنسی تفریق کے رجحان کو ہوادینا ،روئے زمین کی دولت کا منصفانہ طریقے پر انسانوں کے درمیان تقسیم نہ ہونا،کسی ملک کی دولت ومعیشت پر قبضہ کے لیے اس پر حملہ اور تاراج کرنا اور پھر اس کے نتیجے میں بے گناہوں کا خون بہانا،کسی سماجی گروہ کو نشانہ بنانے کے لیے تخریب کاری کرنا تاکہ اس تخریب کو اس کے سر منڈھ سکیں ایک دوسرے کوبرابھلانے کہنے کو ایک عام سی چیز مان لینا ۔ ذرائع ابلاغ کے ذریعہ غلط بات کی تشہیر کرنا ،سیاسی انتقام میں کسی کی کردار کشی کرنا ہربرائی کو کسی کمونٹی کے سر تھوپنا،کسی جاندار کو محض تفریح طبع کاسامان بنانا،سماج کے جوان اور طاقتور افراد کو اہمیت دینا اور بزرگوں اور کمزوروں کو بے قیمت تصور کرنا،انسانی کمیونٹی میں بھید بھاؤاور اونچ نیچ کامعیار قائم کرنا۔انسان اور جاندار کو کام آنے والی چیزوں اور وسائل کو تباہ وبرباد کرنا، جیسے پانی،فصل اور باغات وغیرہ۔یا ایسی چیزیں تیار کرنا جو روئے زمین کےلیے مہلک ہوں ۔ دنیا کو گندگی کے ڈھیر میں تبدلیل کرنا انسانی آبادی کے بیچ پیدا ہونے والی گندگیوں کو زمین کی نچلی سطح میں دفنانے کے بجائے سطح زمین پر چھوڑدینا تاکہ ساراماحول پراگندہ ہوجائے۔یہ تمام اس طرح کی چیزیں ہیں جن کا تعلق انسان کے عمل اور ایکٹی ویٹی سے ہے، اسے عملی فساد کہاجاتاہے ۔اس کا ارتکاب خواہ دنیا کاکوئی انسان کرے،مسلم کرے غیرمسلم کرے،عیسائی کرے یا کمیونسٹ کرے ۔یہ سب فساد فی الارض ہے اور اسلام اور اللہ کے آخری پیغمبر محمدﷺ کی واضح تعلیمات کے خلاف ہے ۔خالق کائنات روئے زمین پر پیدا ہونے والی ایسی فسادی اور عملی صورت حال کوپسند نہیں فرماتا۔اورہرممکن اس سے بازرہنے کی ہدایت کرتاہے:”ولاتبغ الفساد فی الارض إن اللہ لایحب المفسدین“(سورہ قصص 77) تاکہ انسان مامون زندگی بسر کرسکے۔قرآن کریم کی پچاس آیتوں میں مختلف زاویے سے فساد کی مذمت کی گئی ہے اور انسانوں کو اس سے بچنے اور روئے زمین کو ایسی عملی آلائشوں سے پاک کرنے اور پاک رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے۔یہی نہیں اگر آپ اس کی سنگینی اور اس پر اللہ کی ناراضگی کا اندازہ لگانا چاہیں تو اس بات سے لگا سکتےہیں کہ زمین میں فساد پھیلانے والوں پر لعنت کی گئی ہے اور لعنت کہتے ہیں اللہ کی نعمتوں اور اس کی رحمتوں سے دور ہونے کو ۔”ویفسدون فی الأرض أولئک لھم اللعنۃ ولھم سوء ٕ الدار“(سورہ رعد 25) اب سبق آموز بات یہ ہے کہ ان آیتوں پر غور کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ انسان اگر اپنی دنیا کی زندگی کو بہتر بناناچاہتاہے اور مصائب اور پریشانی سے نجات چاہتاہے تاکہ یہ دنیا کی عارضی زندگی پرسکون رہے تو سب سے پہلے اسے زمین کو فساد اور فساد کے ان تمام ذرائع سے جن سے فساد پیداہوتاہے اس

مفتی احمد نادر القاسمی
مفتی احمد نادر القاسمی

سے پاک کرناہوگا ۔انسان کو اپنے انسان ہونے کی حد میں رہنا ہوگا۔اورانسان ہی رہتے ہوئے انصاف کی ڈگر پہ قائم رہنا ہوگا۔
دوسرا فساد ذہنی،فکری اور اعتقادی فساد ہوتاہے ۔جیسے بدظنی،کج فکری ،بدخواہی، بدنیتی ، تعصب ،حسد ، کینہ بغض۔ایک دوسرے کے تعلق سے بے بنیاد اور غلط بات کا دل میں بٹھالینا ۔دل ہی دل میں کسی سے نفرت کرنا ۔بغیر کسی وجہ کے برا تصور کرنا۔دوسرے کے نقصان کی تمنا کرنا اور کوئی نقصان پہنچ جائے تو اس پر خوش ہونا۔دین متین کے مسلمات کے خلاف کوئی رائے قائم کرلینا۔قران وسنت اور دین کی ثابت شدہ بنیادی چیزوں کو ہلکاتصورکرنا ۔یا استخفاف بالدین کا مرتکب ہونا ۔دینی احکام پر بے جا اور محض اپنی سمجھ اور دانشمندی کو بنیاد بناکر رائے زنی کرنا۔دینی معاملات میں طے شدہ اصول وضوابط سے ہٹ کر محض اپنی سمجھ پربات کرنا محض دنیوی مصلحت کو سامنے رکھ کر دینی احکام کی بے جا تاویل کرنا۔ علم وتحقیق کے نام پر ذہنی اپج کواعلی درجے کی معرفت قرار دینا ۔عام زندگی میں اپنے حواریین کو خوش کرنے کے لیے کوئی جھوٹی بات گڑھنا ،ھوٹے پروپیگنڈے کا سہارا لینا وغیرہ ۔۔یہ وہ فکری فساد ہے جو انسان کی سرشت اورفطرت سلیمہ متحملہ کو بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں اور اس کی روحانی دنیا تباہ ہوکر رہ جاتی ہے ۔علامہ ابن قیم جوزیہ نے” زاد المعاد“ میں ۔انسان کی روحانی دنیا کو تباہ کردینے والی ان تمام بیماریوں کو امراض قلب کے ضمن میں ذکر فرمایاہے اور اس بات پرتوجہ دلانے کی کوشش کی ہے کہ پہلے اندر کی دنیا کو ٹھیک کرو ۔اگر وہ درست ہوجائے تو تمہارا دنیا کاہر عمل صراط مستقیم کا آئینہ دار ہوگا۔۔”ألاإن فی الجسد لمضغۃ إذا صلحت صلح الجسد کلہ وإذا فسدت فسد الجسد کلہ ألا وھی القلب“ وہی ہر عمل کے درست اور نادرست ہونے کا سرچشمہ ہے ۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ زمین مین کسی بھی طرح کے فساد پھیلانے والوں کے خلاف اہل حق کو غلبہ عطا کرے آمین۔اس دعا کے ساتھ ۔رب۔انصرنی علی القوم المفسدین۔

      طالب دعا احمد نادر القاسمی۔
   اسلامک فقہ اکیڈمی، نئی دہلی، انڈیا

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here