دنیا کولاحق حیاتیاتی دہشت گردی کے خطرات

0
384
All kind of website designing

۔(دوسری قسط)

مفتی احمد نادر القاسمی
اسلامک فقہ اکیڈمی، انڈیا

آج کرہ ارض پر آباد جاندار اوربالخصوص انسانوں کو خود اپنے کرتوتوں کی وجہ سے بے شمارخطرات لاحق ہیں اور اس میدان کے ماہرین نے جو اندیشے ظاہر کیے ہیں اگر ان کو سمجھناہے تو دنیا کی پہلی اوردوسری جنگ عظیم یعنی ١٩٣٠ سے ١٩٤٤ تک کے پیداشدہ بحرانی صورت حال کا گہرائی سے جائزہ لینا ہوگا ۔اس وقت دنیا کی ان طاقتوں کو بڑا غرور تھاکہ ہم نے انسانوں کو دنیا سے فنا کے گھاٹ اتار دینے کے بڑے بڑے مہلک ایٹمی ہتھیار بنالیے ہیں ۔اور جن ملکوں نے ان ہتھیاروں تک رسائی حاصل کرلی تھی یاکرلی ہے، ہمیشہ ایک دوسرے کو دھمکانے اور ڈرانے کا ذریعہ بھی بنالیا تھا ۔اور اسی روش پر دنیا اب بھی چل رہی ہے ۔دنیا کے توسیع پسندانہ عزائم ہیں کہ اس کی حرص وطمع کسی مقام پر بھی رکنے کا نام ہی نہیں لیتے ۔غرض یہ کہ دونوں جنگوں کے درمیان انسانی اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ کر جس دیدہ دلیری سے ایٹمی ہتھیار استعمال کیے گئے جسے میں دنیا کے دوگروپوں میں جاری جنگی صورت حال کے باوجود ایک دہشت گردانہ کارروائی اور انسانیت پرحملہ قرار دیا جانا چاہئے۔ جس کا جواز دنیا کی کسی فوج کو مد مقابل فوج کو محض ہتھیار ڈلوانے کیلئے بالکل فراہم نہیں ہوسکتا ۔مگر یہ کارروائی کی گئی اور اس کے نتیجہ میں لاکھوں انسان چشم زدن میں لقمہ اجل بن گئے ۔اور دنیانے بجائے اس کی گرفت کرنے کے اس کی سپریمیسی قبول کی اور آج تک سپریمیسی کاقلادہ دنیا کی گردن میں لٹکا ہوا ہے ،جو ایک اعلی درجے کی غلامی سے کم نہیں ہے ۔دنیا پر اس بالادستی کو برقرار رکھنے کا خوگر طبقہ صرف اسی پر بس نہیں کرنا چاہتا، بلکہ بقول علامہ اقبال ”اسکی تازہ پسندی“کا یہ عالم ہے کہ ہمیشہ اس میں نئی جان ڈالنے کی تدابیر پر غور وفکر اور انرجی وسرمایہ خرچ کرتا رہتاہے ۔اس فکرنے اب اس عالمی ایٹمی رجحان کو ایک نئے فریم ”حیاتیاتی دہشت گردی یاحیاتیاتی فیروساتی ہتھیار میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے ۔جس پر بشمول طبی سائنسی دنیا اور ماہرین نے ١٩٤٣ سے پچاس کی دہائی میں ہی منظم کام شروع کردیاتھا ۔اوراب جبکہ ٢١ویں صدی کے ٢٠٢٠ میں دنیا داخل ہوچکی ہے اس بائیوجیکل ہتھیار نے ٨٠ سال کے طویل سفر کے بعد اپنا رنگ بھی دکھانا شروع کردیاہے اور اکثر بڑی طاقتیں اس میدان میں نہ صرف یہ کہ کامیابی حاصل کرچکی ہیں ۔بلکہ موجودہ وقت میں ان ملکوں کےڈیفینس کے پاس حیاتیاتی ہتھیار ۔فیروسات اور وائرس کی شکل میں موجود بھی ہیں ۔اور دنیا کے کونے کونے تک ان کو پہونچانے کی صلاحیت کی تکنیک سے بھی لیس ہیں ۔اگر یہ حیاتی جنگ دنیا میں چھڑتی ہے جوبعید از قیاس بھی نہیں ہے تو اس کے اثرات دنیا کے انسانوں اور دیگر جاندار پر کیاپڑیں گے ۔؟ ایٹمی جنگ کا تو یہ اثر ہواتھا

مفتی احمد نادر القاسمی
مفتی احمد نادر القاسمی

کہ وہاں آج بھی بچے لنگڑے اور اپاہج پیدا ہورہے ہیں اورحیاتیاتی جنگ کا نقصان یہ ہوگا کہ بقول ماہرین اور ڈاکٹر ہشام طالب کے ۔جس طرح مختلف جڑی بوٹیوں سے تیارمنشیات کے استعمال کے بعد انسان کا ذہن ودماغ تبدیل ہوجاتاہے ۔اسی طرح اس لیبارٹی میں کلون اور تیار کیے گئے وائرس سے متاثر ہونے والے انسان کا مزاج اور طبعی وفطری نظام ہی تبدیل ہوکر رہ جائے گا اور ایک مدت تک یوں ہی زندہ لاش دیوانوں کی طرح پھرتارہے گا اور پھر موت کے منہ میں چلا جائے گا ۔یہ ہے اس حیاتیاتی اور بائیو جیکل وائرسی ہتھیار کی خطرناکی ۔جہاں تک بڑی بڑی طاقتیں ٨٠ سالوں کے طویل حیاتیاتی سائنسی سفر میں رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ اور اب آپ دیکھیں گے کہ کمزور ممالک کو بڑی طاقتیں تھریٹ کرنا بھی شروع کردیں گیں۔ جس طرح جارج ڈبلو بش کی ڈیفینس انتظامیہ نے صدام کو اسی نوعیت کے وائرس سے تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی ۔جسے دنیاجانتی ہے۔
اس وقت دنیا میں پایا جانے والا ”کرونا وائرس“اسی کا پیش خیمہ ہے۔یا کوئی قدرتی وبا ہے، اس کی حقیقت پر طبی دنیا کے ماہرین نے ابھی تک کوئی حتمی رائے نہیں دی ہے ۔ظاہری طور پر صرف اتنا سامنے آیاہے کہ یہ وائرل اور موسمی فلو ہے جس کی وجہ سے نزلہ کھانسی ۔سر یابدن میں معمولی تھکان، درد ۔کھانا ہضم نہ ہونا ۔پیشاب میں کمی۔ بلغم کی وجہ سے حلق میں خشکی ۔ہلکا یاتیز بخار کا احساس جو سینے میں بلغم جمنے سے ہوتاہے ۔اب وہ ممالک جنھوں نےWHO کی رام کہانی مان لی ہے، جو ایک عالمی پیمانے پر ہڑکمپ مچوانے اور حکومت verses غریب ومزدور عوام کو احساس بالادستی (محتاط لفظ )قائم کرنےکی ایک شکل ہے۔ انھوں نے وہ سب کچھ کیا اور کررہے ہیں جوWHO- IMF اور قرض فراہم کرنے والے دیگر ادارے مل کر کہ رہے ہیںWHO نے بڑی دانشمندی سے جنوری سے مئی تک یا اس سے زیادہ کاوقت منتخب کیا اس کام کے لیے، کیونکہ مشرق وسطی سمیت تمام ایشیائی ممالک میں بالترتیب موسم کی تبدیلی شروع ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میںوائرل فیور ۔نزلہ سردی کھانسی اور ربیع کے فصل آم میں منجر وغیرہ کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے کیڑے مکوڑے اور جراثیم بڑی مقدار میں پیدا ہوتے ہیں جن میں سے بعض فصلوں کو نقصان بھی پہنچاتےہیں اور بعض مفید بھی ہوتے ہیں ۔اگر اس وقت یہ ہنگامہ کھڑا کیا جائے تو لوگ بڑی آسانی سے اس کا یقین کرلیں گے ۔اور ہوابھی وہی ۔بہر حالWHO کے گیم پلان کے باوجود اگر سیاسی بصیرت رکھنے والے لوگ چاہتے تو لاک ڈاؤن کا اتنا بڑا اقدام کرکے دنیا کو گھروں میں قید نہ کرتے اور وہ بھی سوشل ڈیسٹینسنگ کے نام پر جو عملا ممکن ہی نہیں ۔ہرگھرمیں دس دس آدمی رہ رہے ہیں ۔سوشل ڈیسٹینس کہاں ہے ۔صرف یہ کہ بازار سے لوگوں کو کھدیڑ کر گھروں میں بند کردیا گیاہے ۔غریب بے کھانا بے پانی در در بھٹک رہاہے ۔انسانیت ننگی ہورہی ہے،بچے بلک رہے ہیں، عورتیں اپنے بچوں کی خاطر بدحال ہورہی ہیں ۔آج کی انسانیت یہی رہ گئی ہے ۔استغفر اللہ۔
غریبوں کو کورونا بیماری کے نام پر گھروں میں قید کیا جارہاہے۔بھوک کے مارے لوگ خودکشی کررہے ہیں ۔ راشن اور دودھ کی دکانیں ڈنڈے مار کر بند کرائی جارہی ہیں اورحکومت چند ٹکے کی خاطر دودو کلو میٹر تک شراب کی دکانوں پر لائن لگوارہی ہے اور سوشل ڈیسٹینسنگ کا مذاق بن رہاہے۔ کوئی حکومت سے پوچھے تو ذرا کہ کرونا پھیلنے کابھی کوئی کرائیٹیریا ہے کیا کہ تبلیغی لوگوں کے ایک جگہ جمع ہونے سے پورے دیش میں کورونا پھیل گیا اور شرابیوں کے اکٹھاہونے سے کوئی کرونا نہیں ۔کیونکہ اس کے ذریعہ تو پیسہ آئے گا تو وہاں کرونا کا کیامطلب۔بہر حال حکومت خوشی سے پھولے نہیں سمارہی ہے کہ دیکھا کیسے ہم نے چٹکی میں گھروں میں پورے دیش کو بند کردیا ۔ہم کچھ بھی کرسکتے ہیں ۔ہمارے ہاتھ میں ڈنڈا ہے ۔۔اگرحکومت چاہتی تو اس سے نمٹنے کے لیے لوگوں کو گائڈ لائن جاری کردیتی کہ معمولی نزلہ کھانسی بخار ہوتو اپنے قریب کے ہاسپٹل یاڈاکٹر سے رجوع کریں ۔اور اگر تیز بخار ہوتو سرکار کی طرف سے کیے گئے انتظام سے فائدہ اٹھائیں دواعلاج کرائیں ۔بہتر بات بھی ہوتی اور اس طرح ہمارے ملک میں افراتفری کی نہ تو صورت حال پیدا ہوتی اور نہیں کچھ ایساتھا ۔
جیساWHO نے ہمارے ملک کے تئیں گمبھیرتا جتائی اور ہم پھنستے چلے گئے۔اور آج تک اس کے بہکاوے میں اپنے دیش کی صورت حال پر غور کیے بغیر آتے چلے جارہے ہیں ۔اور ملک دن بدن سنکٹ کی طرف جارہاہے ۔
اسی طرح دنیا کے دوسرے ممالک کابھی حال ہے اندھا دھندWHO کی بات پر دیوانے ہوتے جارہے ہیں ، البتہ یہ دیکھنے کی بھی زحمت کی کہ عالمی ادارہ صحت کے پروپیگنڈاکے پس پشت کچھ ہے بھی یانہیں ۔یہاں بھٹک وہاں بھٹک ۔یہاں پانی وہاں دوا اور سینیٹائزر سڑکوں پر بکھیرتے جارہے ہیں ۔کچھ سمجھ ہی نہیں آرہاہے ۔ارے بھائی اگر کورونا کوئی وائرس بھی ہوگا تو ہماری ان نامعقول حرکتوں سے ختم تھوڑےہی ہوگا ۔ اس کا طریقہ توبس یہ ہے کہ خود کوصاف ستھرا رکھو۔ آدمی کی طرح سلیقے سے رہو۔ بے ہنگم طریقہ اختیار نہ کرو۔ بلاوجہ ادھر ادھر نہ پھرو۔ اگر کوئی تکلیف ہو بغرض علاج اپنے معالج سے رابطہ کرو اور صبرو سکون سے رب کریم سے وابستہ رہو۔ ۔یہ کوئی معقول طریقہ ہے کہ احتیاطی تدابیر کابہانہ بناکر گھربند ۔مسجد بند ۔مدرسہ بند ۔دکانیں بند کرو لاٹھی مارو جوتے چلاؤ حقہ پانی اور ناطقہ بند کرو۔شاید تاریخ انسانی میں پہلی بار کسی بیماری اور وباسے لڑنے کا ایسا بے تکا طریقہ اختیا کیا ہوگا ۔جوWHO کی گائڈ لائن پر دنیا نے کیا اس سے ایسامحسوس ہوتا ہے کہ دنیا کوبےوقوف بنانے منظم سازش کی گئی ہے اورہم بڑی آسانی بے وقوف بنتے چلے جارہے ہیں ۔
اب یہ وائرس بھی تین قسم کے ہوتے ہیں ۔ایک مصنوعی جو لیبارٹی میں تیار کیے گئے ہیں اورمحتاط طریقےپر اسے محفوظ رکھاگیا ہے ۔دوسرے وہ ہیں جو قدرتی طور سے جنگلات کی ناہمواری ناگہانی بارش اور سیلا ب ۔سمندر میں ابال ۔سمندر ی جانور اور بّری کیڑے مکوڑوں کے مرنے سے جو وائرس اور بیکٹریاز پیدا ہوتے ہیں اور اسکے ذریعہ جوبیماری پھیلتی ہے اس کووبا کہا جاتاہے ۔یہ وقتی ہوتا ہے ،جو چند دنوں میںختم ہوجاتا ہے۔اسی کی طرف احادیث میں اشارے کیے گئے ہیں۔ طاعون،ہیضہ ،ڈی ہائڈریشن الٹی دست وغیرہ ۔تیسرے وہ وائرس ہیں جو انسانی کارستانی ۔بڑے بڑے کیمیکل کے کارخانے بشمول ایٹمی پلانٹ سے خارج ہونے والے فضلات سے پیدا ہونے والے وائرس۔ایک اندازے کے مطابق اس کی فضا میں موجودگی کاعالم یہ ہے کہ پوری زمین اس کیمیکل وائرس سےبھر چکی ہے ۔ یہ جلدی زمین سے ختم بھی نہیں ہوتے ۔ بلکہ ہمارے ماحولیات کو نقصان بھی پہنچاتے رہتے ہیں اور ان کی وجہ سے مختلف امراض جیسے دائمی کھانسی ،دمہ اور تنفس کا عارضہ،شوگر اور مختلف قسم کے انفیکشنز ،الرجیز ، پاؤں میں بڑے بڑے چھالے،جلد کے کینسراور زمین میں متعدی جراثیم کے پھیلنے کی وجہ سے پھلوں اور اناجوں میں مہلک بیماریاں ۔دریا ؤں میں بہنے کی وجہ سے جانوروں کی اموات وغیرہ ۔(مستفاد از مقالہ ڈاکٹر اسلم پرویز ۔ماحولیات سے متعلق) اگرچہ یہ ہماراموضوع نہیں ہے ۔مگر تجرباتی طور پر ان چیزوں کو سمجھا جاسکتاہے (ہم آئندہ قسط میں بات کریں گےمختلف دہشت گردی جیسے علاج کے نام پر انجام دی جانےوالی ۔موروثی امراض کی سرجری کے ذریعہ منتقلی یعنی کیمیائی اور طبی دہشت گردی۔اور اس سے بچنے کی تدابیرپر۔انتظار کیجے۔تیسری قسط کا ) اللہ تعالی امت کو ہر سازش اور خطرات سے محفوظ رکھے ۔ نئی نسل کےعلما ٕ کو ادراک اور فراست کی دولت عطافرمائے کہ وہی اب ملت کا مستقبل ہیں ۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here