قدرت کی معمولی چپت نے سپر پاور امریکہ کو نانی یاد دلادی!

0
361
All kind of website designing

کورونا وائرس کے ہاتھوں پیدا ہونے والی صورتِ حال نے پوری دنیا کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ واحد سپر پاور بھی پریشان ہے۔ پریشان کیسے نہ ہو؟ معیشت کا پہیہ مکمل طور پر رک چکا ہے۔ پیداواری عمل معطل ہے۔ تجارتی سرگرمیاں ماند پڑتے پڑتے اب تھم سی گئی ہیں۔ تعلیمی ادارے بند ہیں۔ صارفین کا اعتماد خطرناک حد تک مجروح ہوچکا ہے۔ اگر کورونا وائرس کی وبا کے ہاتھوں پیدا ہونے والی خرابیاں امریکا کو مالیاتی اور زری طور پر دیوالیہ کرنے کے ساتھ ختم ہوئیں تو ایک ایسے معاشی بحران کو روکنا ممکن نہ ہوگا، جو امریکا کے ساتھ ساتھ باقی دنیا کو بھی لپیٹ میں لے اور معاملات کو انتہائی خرابی تک پہنچادے۔
کورونا وائرس نے عالمی معیشت کے بنیادی ڈھانچے کی بہت سی خامیوں اور کمزوریوں کو بے نقاب کردیا ہے۔ وبا کے ہاتھوں عالمی معیشت کی مشکلات کئی گنا ہوچکی ہیں۔ اس وبا کے پھیلنے سے قبل ہی امریکا میں یہ خیال عام تھا کہ رواں بجٹ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا گراف ایک ہزار ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ اب یہ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ امریکا میں کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ دو ہزار ارب ڈالر کی حد چھوُ جائے گا اور دیگر قرضے بھی معیشت پر غیر معمولی بوجھ کی صورت موجود رہیں گے۔
کاروباری سرگرمیاں ماند پڑچکی ہیں۔ بینکاری نظام بھی ڈھنگ سے کام نہیں کر رہا۔ اس کے نتیجے میں حکومت کو ٹیکس اور ڈیوٹی کی مد میں ہونے والا خسارہ الگ ہے۔ ۲۰۰۸ء کی کساد بازاری میں وفاقی ٹیکسوں کی مد میں امریکی خزانے کو ۴۰۰؍ ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔ اس بار امریکی خزانے کو وفاقی ٹیکسوں کی مد میں اِس سے کہیں زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سماجی بہبود کے کھاتے میں اس بار غیر معمولی رقوم خرچ کرنا پڑیں گی۔ اس کے لیے الگ سے فنڈ مختص کرنے کی بھی ضرورت نہیں رہی کیونکہ نظام کچھ ایسا ہے کہ ضرورت کے مطابق فنڈنگ خود بخود بڑھ جاتی ہے۔

۲۰۰۸ء کا زمانہ

امریکی بجٹ میں کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ کتنا رہے گا، اس حوالے سے ماہرین مختلف اندازے قائم کر رہے ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتِ حال انتہائی خطرناک ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بجٹ خسارہ چار سے پانچ ہزار ارب ڈالر کا ہو۔ اگر ایسا ہوا تو امریکی معیشت کو مکمل تباہی سے بچانا انتہائی دشوار ہوگا۔
۲۰۱۹ء میں امریکا کی خام قومی پیداوار کے حوالے سے تخمینہ ۲۱ ہزار ارب ڈالر تک لگایا گیا تھا۔ تب کورونا وائرس کی وبا کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ اب معاملات یکسر تبدیل ہوچکے ہیں۔ معیشتی سرگرمیاں ماند پڑچکی ہیں۔ ایسے میں خام قومی پیداوار سے متعلق تخمینوں کا غلط ہو جانا بھی حیرت انگیز نہ ہوگا۔ اب یہ کہا جارہا ہے کہ ۲۰۲۰ء میں ۱۵ فیصد کی کمی سے امریکا کی خام قومی پیداوار ۱۸؍ہزار ارب ڈالر تک رہے گی۔ ایسی صورت میں امریکا کا کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ خام قومی پیداوار کے ۲۸ فیصد تک جا پہنچے گا۔
بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اعداد و شمار بھی حتمی نوعیت کے نہیں۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ امریکا کا کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ اس بار اتنا بڑا ہوگا کہ اُس کے شدید منفی اثرات سے بچنے کے لیے فنڈنگ کا اہتمام تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سود کی شرح میں اضافے کا امکان دکھائی نہیں دیتا اور سچ تو یہ ہے کہ سود کی شرح میں کمی ہی واقع ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب زیادہ منافع کی امید ہی نہ ہو تو سرمایہ کاروں کو کس طور متوجہ کیا جاسکے گا۔ امریکا میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والوں کو زیادہ سے زیادہ سرمایہ لگانے پر آمادہ کرنا اب جُوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔ امریکا میں زیادہ سرمایہ کاری چین اور خلیجی ریاستوں، بالخصوص متحدہ عرب امارات کی ہے۔ چین کو بیرونی طلب میں کمی کا سامنا ہے یعنی برآمدات کا گراف نیچے آرہا ہے۔ دوسری طرف خلیجی ریاستوں کی تیل کی آمدن کا گراف بھی گر رہا ہے۔ ایسے میں امریکی پالیسی سازوں کو سوچنا پڑے گا کہ امریکی معیشت کے لیے توانا رکھنے کے لیے سرمایہ کہاں سے آئے گا۔ چین اور سعودی عرب دنیا بھر میں سرمایہ کاری کی ری سائیکلنگ کے حوالے سے سب سے اہم عوامل کا درجہ رکھتے ہیں۔ اگر اُن کی طرف سے سرمائے کا بہاؤ متاثر ہوا تو عالمی منڈی میں امریکی ڈالر کی پوزیشن کمزور ہوجائے گی۔
اب سوال یہ ہے کہ امریکا کو اپنی معیشت کا تیا پانچا روکنے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔ اس مرحلے پر امریکا کے لیے وہی آپشن بچا ہے، جو ۲۰۰۸ء کی کساد بازاری کے موقع پر بچا تھا یعنی یہ کہ کسی بھی اور سرمایہ کار کے آگے بڑھنے کا انتظار کیے بغیر امریکا کو اپنے ٹریژری بونڈ خود خریدنا پڑیں گے۔ امریکا کا مرکزی بینک اس حوالے سے کلیدی کردار ادا کرے گا۔
ایسا نہیں ہے کہ امریکا میں صرف کرنٹ اکاؤنٹ کا یا بجٹ خسارہ سر پر کھڑا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا میں کارپوریٹ سیکٹر کے قرضوں کا بحران بھی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ یہ قرضے کم و بیش دس ہزار ارب ڈالر کے ہیں جو امریکی معیشت کے مجموعی ٹرن اوور کا ۵۰ فیصد سے بھی زائد ہے۔ معاملات کو مزید خراب کرنے والی حقیقت یہ ہے کہ ان میں بیشتر قرضے نان انویسٹمنٹ گریڈ کی کمپنیوں کے جاری کردہ ہیں اور اِن قرضوں کی حیثیت کچرے سے زیادہ کچھ نہیں۔
امریکی معیشت کا پہیہ رک چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں سیالیت بھی متاثر ہوئی ہے۔ معیشت مزید خرابی کی طرف جائے گی۔ بہت سے ادارے دیوالیہ ہو جائیں گے۔ یہ سب کچھ امریکی بینکاری نظام کے منہ پر زوردار تمانچہ ہو گا۔ سینڈیکیٹیڈ قرضوں ’’بونس‘‘ سمجھیے۔
کارپوریٹ بونڈ کے ایک بڑے حصے کا بلا واسطہ یا بالواسطہ تعلق توانائی کے شعبے سے ہے۔ توانائی کا شعبہ بھی مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ عالمی پیداوار کے ۲۰ فیصد کے مساوی ’’ایکسیس کیپیسٹی‘‘ ہے۔

مساوات میں چین کو لائیے

چین کے اپنے مسائل ہیں۔ چینی قیادت نے کچھ عرصے سے اپنے چند بنیادی معیشتی مسائل کو حل کرنے کے بجائے چھپانے کو ترجیح دی ہے۔ یہ حقیقت نظر انداز کردی گئی ہے کہ کوئی بھی مسئلہ حل کرنے سے حل ہوتا ہے، چھپانے سے ختم نہیں ہو جاتا اور نہ ہی اُس کے اثرات میں کچھ کمی واقع ہوتی ہے۔
یورپی یونین نے معاملات کو سلجھانے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔ یوروپین سینٹرل بینک (ای سی بی) کے ذریعے کچھ وزن ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جرمنی اور چند دوسرے ارکان ایسا کرنے کے خلاف ہیں۔ کوئی بھی اپنی کرنسی کو داؤ پر لگانے کے لیے تیار نہیں۔ ای سی بی نے حال ہی میں ۸۵۰ یورو مالیت کے سرکاری اور کارپوریٹ بونڈ خریدنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یورپی یونین میں اندرونی سطح پر کس نوعیت کے مسائل پنپ رہے ہیں۔

حقیقی معاشی بحران

ایسا لگتا ہے کہ واشنگٹن کے قانون ساز ہر حال میں کساد بازاری کو روکنا چاہتے ہیں۔ یہ بجائے خود ایک بہت بڑی غلطی ہوگی۔ کسی بھی معاشی خرابی کو مصنوعی طریقوں سے روکنے کی کوشش مزید مسائل کو پیدا کرنے یا پہلے سے موجود مسائل کو مزید سنگین کردیا کرتی ہے۔ حکومتی سطح پر چاہے کتنا ہی بڑا بیل آؤٹ پیکیج دیا جائے، معیشتی خرابی کو روکنا ممکن نہیں ہوتا۔ بیل آؤٹ پیکیج کے نتائج کچھ مدت کے بعد ظاہر ہونے لگتے ہیں اور خرابیاں کھل کر سامنے آنے لگتی ہیں۔
امریکا اور یورپ لاک ڈاؤن کی حالت میں ہیں۔ معاشی سرگرمیاں رکی ہوئی ہیں۔ صنعتی یونٹ بند ہیں اور تجارتی اداروں کو تالا لگا ہوا ہے۔ لوگوں کی نقل و حرکت بھی محدود یا برائے نام ہے۔ کوشش یہ کی جارہی ہے کہ خام قومی پیداوار میں کمی واقع نہ ہو۔ ایسا تو ممکن ہی نہیں۔ جب معیشت کا پہیہ رکا ہوا ہوگا تو خام قومی پیداوار میں کمی لازمی طور پر واقع ہوگی۔ اس کمی کو روکنے کی کوشش کرنے کے بجائے اس بات کی کوشش کی جانی چاہیے کہ یہ کمی عارضی ہو۔
اس وقت کوشش یہ کی جارہی ہے کہ کسی نہ کسی طور کوئی بہت بڑا بیل آؤٹ پیکیج میدان میں لایا جائے۔ کورونا وائرس کے ہاتھوں پیدا ہونے والی صورتِ حال پر دولت برساکر اُس کے اثرات کو محدود رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جب یہ وبا ختم ہوگی اور معیشتی سرگرمیاں بحال ہوں گی تب مکمل بحالی کا عمل غیر معمولی اقدامات کا طالب ہوگا۔
کیا امریکا مالیاتی اور زری اعتبار سے دیوالیہ ہوچکا ہے؟ اگر کورونا وائرس کے ہاتھوں پیدا ہونے والا بحران امریکا کو مالیاتی اور زری اعتبار سے دیوالیہ چھوڑ کر رخصت ہوا تو بھرپور معاشی بحران حقیقت بن کر ابھرے گا۔ اس وقت امریکی پالیسی ساز جو کچھ کر رہے ہیں اُسے دیکھتے ہوئے یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ امریکا مالیاتی اور زری سطح پر شدید ناکامی سے دوچار ہوگا۔
دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ جنہیں مالیاتی امداد کی غیر معمولی ضرورت ہے اُنہیں مدد فراہم کی جائے اور جن کی پوزیشن ذرا بھی بہتر ہے، اُن سے کہا جائے کہ دو ماہ تک خرابی کے اثرات کو کسی نہ کسی طور جھیلیں۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ معیشت کو کم از کم دو ماہ تک ہولڈ پر رکھا جائے۔ صرف ضرورت مندوں کی مدد کی جائے۔ صحتِ عامہ کے معاملات پر خاطر خواہ توجہ دی جائے۔

اسٹاک مارکیٹ کو بھول جائیے

واشنگٹن میں بہت سوں کی رائے یہ ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کا کریش کر جانا اصل مسئلہ ہے۔ یہ سوچ غلط ہے۔ معیشت کی کارکردگی کا جائزہ لیتے وقت صدر ٹرمپ اسٹاک مارکیٹ کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں۔ کچھ مدت سے اسٹاک مارکیٹ میں جو کچھ ہوتا رہا ہے اُس کے نتیجے میں اگر عارضی بنیاد پر کوئی بہتری لانے کی کوشش کی گئی یا اسٹاک مارکیٹ کو مصنوعی تنفس فراہم کرنے کی کوشش کی گئی تو معاشی اعتبار سے اعتماد بحال ہونے کے بجائے مزید گرے گا۔ اگر معیشت کو حقیقت میں بحال کرنا ہے، تو اعتماد کی بحالی کو سب سے زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے۔

دی ٹرمپ فیکٹر

کسی بھی بڑی بحرانی کیفیت کے شدید منفی اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت کے اعتبار سے ٹرمپ انتظامیہ پر عوام کا اعتماد بہت نچلی سطح پر ہے۔ اعتماد کے فقدان کا تعلق صرف مہارت تک یعنی معاشی پالیسی سازوں اور اندرون و بیرون ملک پروفیشنل سرمایہ کاروں تک محدود نہیں۔ اس وقت ۵۰ فیصد سے زائد امریکیوں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ اس منصب کے لیے موزوں نہیں۔ کورونا وائرس سے نمٹنے کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے اب تک جو کچھ بھی کیا ہے وہ باقی لوگوں کو چھوڑیے، اُن کے پسندیدہ ’’فوکس نیوز‘‘ ٹی وی چینل کو دیکھنے والوں کے اعتماد میں بھی اضافہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ شدید تنقید کے باوجود اب بھی معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے، حقائق کو غلط انداز سے بیان کر رہے ہیں اور پالیسی کے حوالے سے غلطیوں پر غلطیاں کرتے جارہے ہیں۔
اسٹاک مارکیٹ ہی کو سب کچھ گرداننے والے صدر کی سوچ کے آگے ہتھیار ڈالنے کے بجائے امریکی پالیسی سازوں کو معیشت کی تمام خامیوں اور خوبیوں کا جائزہ لیتے ہوئے متوازن اور قابلِ قبول پالیسی ترتیب دینی چاہیے۔ پالیسی سازوں کو یہ بات کسی بھی حال میں نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ یہ سب کچھ کسی ریئلٹی ٹی وی کا پروگرام نہیں۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here