فاعتبروا یا اولی الالباب

0
473
All kind of website designing

سارا انصاف قیامت پہ ہی موقوف نہیں!

مفتی احمدنادر القاسمی،اسلامک فقہ اکیڈمی، انڈیا

اے عراق کی مظلوم ومقہور روحو! اے ارض فلسطین کی ماؤں کی گود میں تڑپ تڑپ کر رب ذوالجلال کی آغوش جانے والو پھولو! اے مصر کی جام شہادت نوش کرنے والے بیٹیو اور اپنوں کے ظلم کی چکی میں برسہا برس سے پسنے والے بھائیو! اے صحابہ کرام کی آماج گاہوں دمشق وشام کے لاچار مکینو! اے افغان کی گھاٹیوں اور وادیوں کے سفید پوش شہیدو! اے برما اور روہنگیا کے مسکین وبدحال اور کباب کی طرح بھنے جانے والے جسمو! اور ناقابل برداشت کراہوں اور دریا وسمندر کی طغیانی میں انجام سے بے خبر کشتی کے حوالے کردیے گئے بچوں کی چیخو! اور روئے زمین کے تمام ستم رسیدہ انسانو ! اے افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤ ں میں پانی کی ایک ایک بوند اور روٹی کے ایک ایک ٹکڑے کے لیے ترستی اور لاچارپرندوں کی طرح جان اپنے رب کے حوالے کرتی ہوئی کلیو! اے گجرات اوربرصغیر کی بلکتی ہوئی ماؤ ں کی گود سے چھینے اور نیزوں پر اچھالے گئے جگر کےٹکڑو ! تم تو دنیا سے حق اور انصاف کی بھیک مانتے ہوئے ہمیشہ کے لیے اپنے پالن ہار سر سبزوشاداب دنیا میں مظلومیت پر قربان ہوکر چلے گئے۔اس وقت آسمان خاموش تھا۔زمین تماشائی تھی۔

مفتی احمد نادر القاسمی
مفتی احمد نادر القاسمی

مگراب قدرت کی طرف سے وقت انتقام آیاہے تو اپنی سعید روحوں سے کہو !اے میری دائمی جنت کی مکین روحو! ذرا ان مقتلوں کوبھی جھانک کر دیکھو ۔اپنی غیر انسانی حرکتوں پر جشن منانے والوں اور آسمانوں سے آگ برسانے والوں کی ظلم و بربریت کے خلاف رب کی پکڑ کی گھڑی میں ذرا ان کا مشاہدہ تو کرو ۔مظلوموں پر یہ کیسا سماں ہے ۔کیسی ویرانی ہے ۔زندہ ہوکے بھی مردوں جیسی کیفیت سے دوچار ہیں ۔یہ وہی لوگ تھے نا جنھوں نے تم سے زمین پر زندہ رہنے تک کا حق چھین لیا تھا ۔اپنے رب کا وعدہ دیکھو ! اس نے کہا تھا نا کہ وہ ظلم کا حساب ضرور لیتاہے ۔ذرا اپنے محلوں سے جھانک کر ان سے سوال تو کرو کہ تمہی نے کہا تھانا کہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں آنکھ نہیں دکھا سکتی۔ تمہیں اپنے لوہے اور آگ کے ہتھیاروں اونچی اونچی پہاڑ جیسی بلڈنگوں اور کاغذ کے ٹکڑوں پر بڑا ناز تھا نا۔دیکھو اس کائنات کے خالق کی پکڑ کتنی سٹک اور بے آواز ہوتی ہے، جو سمندر کی گھٹاٹوپ تاریکیوں کی بھی چیخیں نکال دیتی ہے۔ آج کورونا وائرس کے انفیکشن کا بہانہ بناکر اپنے گناہوں اور ظلم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کررہے ہونا ۔ نہیں چلنے والا ہے یہ بہانہ ۔یہ مظلوموں کے حساب کی گھڑی ہے۔میرے رب کا تو وعدہ ہے، وہ ظالموں کو دوہرا عذاب دے گا ۔دنیا میں بھی اور آخرت میں تو ہے ہی ۔ ذرا ٹھہرواور سنو!
ساراانصاف قیامت پہ ہی موقوف نہیں
زندگی خود بھی گناہوں کی سزادیتی ہے
تمہیں معلوم نہیں میرے رب نے ہی کہا ہے:”ومااصبتکم من مصیبۃ الابما کسبت ایدی الناس ولیذیقھم بعض الذی عملوا لعلھم یرجعون“
توتم نے ابھی بھی سوچا نہیں کہ آج جوکچھ بھی ہے وہ تو تمہارے کرتوت کاہی تو نتیجہ ہے ۔یاد رکھو اگر یہ وائرس بیمار ی ہے تو تم اس کی دوا ضرور ڈھونڈھ لوگے۔ کیونکہ میرے رب نے کہا ہے کہ ہم نے دنیا میں کوئی بیماری ایسی پیدا نہیں کی جس کی میں نے دوا پہلے ہی زمین پر پیدا نہ کردی ہو۔ جاننے والاجان لیتا ہے اور جو نہیں جان پاتا محروم رہ جاتا ہے۔مگر تم اس کو بھول رہے رہو کہ اگر یہ میرے رب کی پکڑ ہے اور یقینا پکڑ ہے تو اس کی دوا نہیں تلاش کرسکتے۔ چاہے پوری دنیا مل کر ہاتھ پاؤں مارتی رہے ۔اس کے سوا اور کچھ نہیں کرسکتے کہ تم ایک دوسرے کو صرف الزام دیتے رہ جاؤگے کہ یہ بیماری تم نے پھیلائی ہے۔ تمہاری وجہ سے ہی پھیل رہی ہے ۔یہ فلاں ملک اور فلاں قوم سے ہم میں آئی ہے اور آرہی ہے ۔کیونکہ تم اپنے کرتوت پر نظر ثانی اور احتساب نہیں کررہے ہو ۔اس لیے اب تمہارے پاس الزام تراشی کے سوا کچھ نہیں ۔اور بہانے بازی اور اپنی غلطیوں کو چھپانے اور دوسروں کے سر تھوپنے کی یہ تمہاری پرانی اور پیدائشی بشری کمزوری ہے ۔میں پھر کہ رہا ہوں یاد رکھو یہ بیماری نہیں ہے۔ یہ روئے زمین پر برسوں سےروا رکھے جانے والے ظلم ،ناانصافی ،حدود اللہ کی پامالی، خدابیزاری اور انسانیت کی توہین کا نتیجہ ہے۔ جس نے اللہ کے غضب کو پکارا ہے اور آج وہ ان مظلوم روحوں کی آہ وبکا پر مسیحا بن کر اور روئے زمین سے ظلم کا حساب چکانے آیا ہے ۔یہ گھروں میں بند ہونے سے نہیں ٹلنے والا ۔چاہے چھ ماہ اور چھ سال بھی خود کو قلعوں میں بند کرلو اس سے یہ ختم نہیں ہوگا۔ کوئی احتیاطی تدابیر اور سنیٹائز نگ اس کو ختم نہیں کرسکتی ۔یہ تہ بہ تہ ہے تمہاری ساری تدبیریں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔یہ تو اسی وقت ختم ہوگا، جب مظلوموں کا خدا معصوم بچوں،کمزور عورتوں اور بے زبان مخلوقوں پر رحم اور ترس کھاکرتمہیں معاف کردے، تب ہی انسانیت کو اس سے نجات مل سکتی ہے ۔ یہ کسی فقیر اور متوالے کی بات اس کو سمجھو۔
اور ہاں اس کو اہل کتاب یہودی ونصاری اور اہل دانش خوب جانتے ہیں۔ تم نے دیکھا نہیں اٹلی کا حکمراں جواہل کتاب ہےوہ سجدے میں گر گیا ۔امریکہ اہل کتاب ہے، اللہ کی کتاب میں نجات ڈھونڈھ رہا ہے ۔یہودی خوب جانتاہے ۔مگر اسے اپنے آپ کو اللہ کا بیٹا اور دوست ہونے کا زعم ہے۔ اس لیے ابھی اس میں اکڑ ہے ۔مگر جانتا خوب ہے کہ ماجرا کیاہے ۔رہ گئے ہمارے لوگ تو ان کو وائرس کا پاٹھ پڑھا دیا گیا ہے ۔اسی کو رٹ رہے ہیں ۔اور شیر اور سانپ کے خوف کی طرح دروازے بند کرکے سوچ رہے ہیں کہ بچ جائیں گے۔ الميہ یأن للذین آمنوا أن تخشع قلوبھم لذکر اللہ وما نزل من الحق۔ولایکونوا کالذین اوتوا الکتاب من قبل فطال علیھم الامد فقست قلوبھم وکثیرمنھم فاسقون “سورہ الحدید۔15
۔فاعتبروا یااولی الالباب۔اس کاتو ایک ہی علاج ہے ۔”وقلت استغفروا ربکم انہ کان غفارا۔یرسل السما ٕ ءعلیکم مدرارا۔ویمددکم باموال وبنین ویجعل لکم جنات ویجعل لکم انھارا“سورہ نوح
اپنے رب سے معافی مانگو اپنے کرتوتوں کا احتساب کرو۔روئے زمین کوظلم سے پاک کرنے کا عہدکرو ۔۔اللہ تعالی ہماری خطا معاف کردے ۔انسانیت کو راہ حق کی ہدایت دے آمین ۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here