بھوکوں کو کھانا کھلانا _ بہت بڑا کارِثواب

0
1406
علامتی تصویر
All kind of website designing

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

آج کل لاک ڈاؤن سے جو صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے وہ خون کے آنسو رُلانے والی ہے _ اپنے گھر کے باہر نکلیے تو ہر طرف قدم قدم پر ایسے مرد ، عورت ، بوڑھے ، جوان ، لڑکے ، لڑکیاں، بچیاں ، بچے نظر آتے ہیں جو فاقوں سے دوچار ہیں _ ان کے مُرجھائے ہوئے چہرے ان کی بے چارگی کی چغلی کھاتے ہیں _ انہیں دیکھ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ ارشاد یاد آجاتا ہے :
” سب سے افضل صدقہ یہ ہے کہ تم کسی بھوکے کو کھانا کھلادو _”( بیہقی فی شعب الایمان :3367، الترغيب و الترھیب :92/2)
امن اور شکم سیری اللہ تعالیٰ کی دو بہت بڑی نعمتیں ہیں (قریش :4) ان کے مقابلے میں خوف اور بھوک اللہ کی نعمتوں پر ناشکری کی سزا بھی ہے جس سے اللہ انسانوں کو دوچار کرتا ہے (النحل :112) اور اس کی طرف سے کی جانے والی آزمائشیں

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی
ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

بھی ہیں ، جو انسانوں کو لاحق ہوتی ہیں _ (البقرۃ :155) انسان اپنی دیگر ضروریات کو ٹال سکتا ہے ، اس کے پاس روپیہ پیسہ نہ ہو تو کچھ صبر کرسکتا ہے ، مکان نہ ہو تو کھلے آسمان کے نیچے گزارا کرسکتا ہے ، لیکن بھوک کو زیادہ وقت تک ٹالنا اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا _ بچوں کا معاملہ اور بھی دگرگوں ہوتا ہے کہ وہ بھوک برداشت نہیں کرپاتے ، چنانچہ رونے پیٹنے اور واویلا کرنے لگتے ہیں اور انہیں دیکھ کر والدین کا کلیجہ پھٹنے لگتا ہے _ رفاہی کاموں کی بے شمار صورتیں ہیں ، لیکن آج کل بھوکوں کو کھانا کھلانا ایک انتہائی اہم اور ضروری کام ہے، جس کی طرف اصحابِ خیر کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے _
مقامِ غور ہے کہ اجمالی طور پر کہا جاسکتا تھا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو ، غریبوں اور محتاجوں کی ضروریات پوری کرو ، ان کے کام آؤ ، لیکن اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر مسکینوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب کیوں دی؟ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و سلم) نے کھانا کھلانے کو عظیم صدقہ کیوں قرار دیا؟
قرآن مجید میں مسکینوں کو کھانا کھلانے کی مختلف صورتوں کا بیان ہے _جو شخص روزہ نہ رکھ سکے اس کا فدیہ مسکین کو کھانا کھلانا ہے _(البقرۃ :184) قسم کا کفّارہ 10 مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے _(المائدۃ :89) حرم میں کوئی شخص شکار کرلے تو اس کا کفّارہ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے _(المائدۃ :95) ظِہار (بیوی کو ماں کہہ دینے) کا کفارہ 60 مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے _(المجادلۃ :4) پریشانی کے دن یتیموں اور مسکینوں کو کھانا کھلانے کو عظیم عمل کہا گیا ہے _( البلد :14 _ 16)اہلِ جنت کا ایک وصف یہ بیان کیا گیا کہ وہ دنیا میں اللہ کو خوش کرنے کے لیے مسکینوں ، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے تھے _(الدھر :8)اور جہنم کا ایندھن بننے والوں کا ایک جرم یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ نہ خود مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے اور نہ دوسروں کو اس نیک کام پر ابھارتے تھے _(الفجر :18، الماعون :3)
اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :
” بھوکے کو کھانا کھلاؤ _” ( بخاری :3046)
” کھانا کھلانے والے جنت میں جائیں گے _”(مسند أحمد :8295)
” جو شخص کسی بھوکے کو کھانا کھلائے گا ، اللہ تعالیٰ اسے جنّت کے پھلوں میں سے کھلائے گا _” (المجموع للنووی :235 /6)
” صدقہ کی ایک صورت یہ ہے کہ تم بھوکے کو کھانا کھلاؤ اور پیاسے کو پانی پلاؤ _” (سیر اعلام النبلاء :للذھبی :459 /16)
“وہ شخص مومن نہیں جو خود تو آسودہ ہو ، لیکن اس کا پڑوسی بھوکا ہو _” (الترغيب و الترھیب :323/3)
ان تمام آیات اور احادیث میں خاص طور پر کھانا کھلانے کا تذکرہ ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے وجوہِ خیر میں اس عمل کو بارگاہ الٰہی میں بہت زیادہ پسندیدگی سے دیکھا گیا ہے _
سوشل میڈیا کے ذریعے یہ جان کر بہت زیادہ خوشی ہوئی کہ پورے ملک میں اصحابِ خیر نے بھوکوں کو کھانا کھلانے کے خصوصی انتظامات کیے ہیں اور بلا تفریق مذہب و ملّت وہ سب کو فیض یاب کررہے ہیں _ آج دہلی کے بعض علاقوں میں جماعت اسلامی ہند کی جانب سے کھانے کے پیکٹس کی تقسیم کے سلسلے میں اپنے احباب جناب انعام الرحمٰن خاں اور عزیزی محمد اسعد فلاحی کے ساتھ جانے کا موقع ملا تو یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ بہت سے لوگ اس کارِ خیر کو انجام دے رہے ہیں _ وہ اپنی گاڑیوں میں پکے ہوئے کھانے کے پیکٹس بھر کر لاتے ہیں اور مسافروں ، راستہ چلتے ہوئے لوگوں اور جھگیوں جھونپڑیوں کے مکینوں میں تقسیم کرتے ہیں _
حقیقت ہے کہ یہ لوگ اس وقت کی بہت بڑی ضرورت پوری کررہے ہیں _ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو خوش کررہے ہیں اور جو کچھ کررہے ہیں اس کا بدلہ صرف جنّت ہے _

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here