ادائیگی زکوٰۃ کے لیے رمضان کا انتظار ضروری نہیں

0
685
All kind of website designing

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی
سکریٹری شریعہ کونسل جماعت اسلامی ہند

مال دار مسلمان ، جن پر زکوٰۃ فرض ہے اور وہ فرض جانتے ہوئے اسے نکالنے کا اہتمام کرتے ہیں ، ان کا یہ معمول بن گیا ہے

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

کہ وہ ہر سال ماہ رمضان کا انتظار کرتے ہیں ، اسی میں اپنی تجارت ، دوکان اور پس انداز کیے ہوئے مال کا حساب کرتے ہیں اور جتنی زکوٰۃ ان پر واجب ہوتی ہے اسے مستحقین اور ضرورت مندوں کو دیتے ہیں _ یہ چیز اس قدر معروف ہوگئی ہے کہ دینی مدارس کے محصّلین بھی رمضان ہی میں ان تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں _ نہیں کہا جا سکتا کہ اس رجحان کو رواج دینے میں خود ذمے دارانِ مدراس کا حصہ ہے کہ مدراس رمضان میں بند رہتے ہیں اور ان کے اساتذہ فارغ رہتے ہیں ، اس لیے انہیں نزدیک اور دور کے مقامات کا سفر کرنے کا موقع حاصل رہتا ہے _ یہ بھی ممکن ہے کہ احادیث کی رو سے رمضان میں ہر عمل کا اجر سات سو گنا تک بڑھ جاتا ہے ، بلکہ بے حدّوحساب ہوجاتا ہے ، اس شوق میں زکوٰۃ نکالنے والے زیادہ اجر و ثواب کے لالچ میں رمضان کا انتظار کرتے ہیں _ کوئی بھی وجہ ہو ، ادائیگی زکوٰۃ کو رمضان تک ٹالنا اور اسی میں نکالنے پر اصرار کرنا درست نہیں ہے _
فرضیت زکوٰۃ کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں : ایک یہ کہ آدمی کے پاس بہ قدرِ نصاب مال ہو اور دوسرے وہ مال اس کے پاس سال بھر محفوظ رہا ہو _ اگر کسی شخص پر ربیع الاول کے مہینے میں زکوٰۃ فرض ہوگئی اور وہ 6 ماہ تاخیر کرکے اسے رمضان میں ادا کرتا ہے تو وہ ادائیگی زکوٰۃ میں تاخیر کا قصوروار ہوگا _ اگر رمضان سے قبل ہی اس کا انتقال ہوگیا تو اس پر زکوٰۃ فرض ہوجانے کے باوجود ادا نہ کرنے کا گناہ ہوگا _
امام نووی نے لکھا ہے : ” زکوٰۃ فرض ہونے کے بعد اس کی فوراً ادائیگی ضروری ہے _ اگر صاحبِ نصاب اس کی فوری ادائیگی پر قادر ہو تو اس کے لیے اس میں تاخیر کرنا جائز نہیں ہے _ یہ بات جمہور علما نے کہی ہے _ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” زکوٰۃ ادا کرو _” اس حکم کا تقاضا ہے کہ اس پر فوراً عمل کیا جائے _” (المھذب :308 /5)
شیخ ابن عثیمین نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے : ” زکوٰۃ اور دیگر صدقات فضیلت والے مہینے میں نکالنا افضل ہے ، لیکن جب سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ فرض ہوجائے تو ضروری ہے کہ فوراً نکال دی جائے اور رمضان تک اسے مؤخر نہ کیا جائے _ مثلاً اگر ماہ رجب میں سال پورا ہو تو رمضان تک انتظار نہ کرے اور اگر ماہ محرّم میں سال پورا ہو تو اگلے رمضان تک اسے نہ ٹالے _ جس مال پر رمضان میں سال پورا ہو اس کی زکوٰۃ رمضان میں نکالی جائے _ البتہ اگر کبھی مسلمان بھکمری کا شکار ہوجائیں ، اس بنا وہ سال پورا ہونے سے پہلے ہی زکوٰۃ نکالنا چاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے _”( مجموع الفتاوی :295 /18)
یقیناً ماہِ رمضان کو دیگر مہینوں کے مقابلے میں فضیلت حاصل ہے _ اس میں اعمالِ خیر کا اجر بہت زیادہ بڑھا دیا جاتا ہے _ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اجر دینے والا اللہ تعالیٰ ہے _ ایک بندہ کب ، کس کی ، کس حالت میں مدد کر رہا ہے؟ یہ دیکھتے ہوئے وہ غیر رمضان میں نکالی جانے والی زکوٰۃ و صدقات کا اجر بہت زیادہ بڑھا کر دے سکتا ہے ، اتنا ہی جتنا رمضان میں نکالنے پر ملتا ، بلکہ ، ممکن ہے ، اس سے بھی زیادہ _

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here