ورلڈ یونانی فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ’’طب یونانی ، مسائل و وسائل ‘‘کے عنوان پر نیشنل سیمینار کا انعقاد

0
1130
سیمینار کے دوران حکیم وسیم احمد اعظمی کی مرتبہ کتاب’’ وفیات اطبائے ہند وپاک ، جلد اول کی رسم اجرا کا منظر
All kind of website designing

طبی ادب کے فروغ کے لیےشرکانے قومی کونسل اور جامعہ ہمدرد کی کو ششوں کو سراہا

نئی دہلی ، پریس ریلیز: ورلڈ یونانی فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے اشتراک اور جامعہ ہمدرد کے تعاون سے ’’ طب یونانی، مسائل و وسائل‘‘ کے موضوع پر ایک پروقار قومی سمینار جامعہ ہمدرد کے کنونشن سینٹر میں منعقد کیا گیا۔اس تاریخی سمینار کی صدارت اسکول آف یونانی میڈیسن جامعہ ہمدردکے ڈین پروفیسر آفتاب احمد نے کی ۔ جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر سید محمد فیصل اقبال نے انجام دیے۔مہما ن خصوصی کے طور پر نیشنل میڈیسن پلانٹ بورڈ حکومت ہند کے سی ای او ڈاکٹر جے ایل این شاستری نے شرکت کی ۔ساتھ سمینار کے مہمان ذی وقار کی شکل میں محمد خالد (اے ڈی سی ) حکومت دہلی، پروفیسر محمد ادریس ،پرنسپل آیور ویدک اینڈ یونانی طبیہ کالج قرول باغ دہلی، تقریب کی رونق کو دوبالا فرمارہے تھے۔ پروگرام کا آغاز ڈاکٹر خبیب احمد کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ بعد ازاں ڈاکٹر محمد اکرام نے گلدستہ پیش کر کے تمام مہمانوں کا شاندار استقبال کیا۔ڈاکٹر وسیم احمد اعظمی سابق ڈپٹی ڈائریکٹر (سی سی آر یو ایم ، لکھنؤ) نےاپنا پر مغز اور کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت حال تو یہی ہے کہ آج سے پچاس برس پہلے معاشرے کے وہی افراد درس و تدریس سے وابستہ ہوا کرتے تھے جن کا ذہنی و فکری رجحان طب یونانی کی طرف ہوا کرتا تھااور وہ اس وسیع میدان علم میں اپنی خصوصی فکر کے حامل ہوتے تھے۔ان کے پڑھنے پڑھانے کی گہری اور مخلصانہ دل چسپی اور لگن ہوتی تھی۔
مذکورہ بالا خصوصیات کے حامل افراد دیگر شعبہ حیات کو خیرآباد کہہ کر اس میدان خار زار میں آیا کرتےاور نمایا خدمات انجام دیا کرتے تھے۔لیکن آج کی المناک صورت حال یہ ہے کہ ایک بڑی تعداد تلاش معاش کی غرض سے ادھر کا رخ کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مقدس پیشہ سے ان کی مناسبت کا کوئی خاص لگاؤ نہیں ہوتا۔ڈاکٹر وسیم احمد اعظمی نے طب کے اہم ترین شعبہ درس و تدریس پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس فن میں تحقیق کی بنیاد مسیح الملک حکیم اجمل خانؒ نے ڈالی تھی، لیکن اس کی مدت حیات زیادہ مدت تک برقرار و قائم نہیں رہ سکی ۔
پروفیسر آفتاب احمد نے اپنے صدارتی خطبہ میں یونانی میڈیسن کے فائدے اور موجودہ حالات میں اس کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں ڈاکٹر محمد خالد نے کہا کہ جو گزر گیا اس کی مرثیہ خوانی سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہمیں مسائل پر کم جبکہ وسائل پر زیادہ بات کرنی چاہیے۔مگر مسائل کو یکسر نظر انداز بھی نہ کیا جائے بلکہ اس کی تلاش کی جائے اور اس کا حل نکالنے کی مخلصانہ سعی کی جائے۔
ڈاکٹر محسن دہلوی آخرمیں تمام مہمانوں ،سینئر فیکلٹیز جامعہ ہمدراور میڈیکل افسران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اطبا نے طب کے تعلق سے جو کچھ بھی ہمارے حوالے کیا ہے ، اس کی حفاظت اور اسے مفید سے مفید تر بناکر پیش کرنا ہم سب کا فرض ہے۔اپنے بزرگوں کی وراثت کو قائم اور مفید تر بنائے رکھنے کے لئے ہمیں اپنی ذمے داریوں کا ہرلمحہ احساس کرنا ہوگا۔تبھی ہم اس کا حق ادا کرنے کے قابل کہے جاسکیں گے۔اس موقع پر ایل ای ڈی اسکرین پر سوینئر کا اجرا بھی عمل میں آیا۔ایسا پہلی بار ہوا ہے ،جس سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ پیپر کو محفوظ رکھنے کی طوالت اور اسٹوریج کی مشقت سے بچا جاسکے گا۔پروگرام کے اختتام پر حکیم وسیم احمد اعظمی کی مرتبہ کتاب’’ وفیات اطبائے ہند وپاک ، جلد اول کی رسم اجرا بھی عمل میں آئی ۔ حکیم صاحب کی تاریخی اہمیت کی حامل اس کتاب کو ابجد کے مطابق تربیت دیا گیا ہے۔جس کے حصہ اول میں الف ممدودہ و مقصورہ کے ابتدائی حرف سے جن اعیان گرامی کانام آیا ہے ان کی طبی و ادبی حیات و خدمات کو پر اثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ سمینار کے کنوینرڈاکٹر محمد اکرم تھے ، جبکہ ان کے معاونین میںحکیم نازش احتشام اعظمی، ڈاکٹر اجمل اخلاق ، طاہرہ بنت صادق اور مونس دہلوی کی کوششوں کو ہراجانب سے دادو تحسین سے نوازا گیا۔
اہم شرکاء میں ڈاکٹر کلاڈیہ پرکل، ڈاکٹر یونس منشی ،کولکاتا، ڈاکٹر مصباح الدین ، ڈاکٹر اظہر(علی گڑھ)، ڈاکٹر رضااحمد ،دہلی کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں۔ علاوہ ازیں سینئر فیکلٹیز جامعہ ہمدر، میڈیکل آفیسرز اور ایم سی ڈی شعبہ یونانی کے اہلکار بھی کثیر تعداد میں موجود تھے۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here