اناڑی ڈرائیور کے ہاتھ میں ہچکولے کھارہی ہے ملکی معیشت کی گاڑی

0
578
All kind of website designing

اقتصادی محاذ پر بھارت کو پھر دھچکا! ترقی کی شرح کااندازہ گزشتہ سال سے بھی کم

نئی دہلی : ملک کی اقتصادی ترقی کی شرح رواں مالی سال 2019-20 میں پانچ فیصد رہنے کا اندازہ لگایاجارہا ہے۔ گزشتہ مالی سال میں یہ 6.8 فیصد رہی تھی۔یہ اعدادوشمار وزارت کے ذریعہ جاری کئے گئے اعداد و شمار میں سامنے آئی ہے۔حکومت نے جو اندازہ لگایا ہے وہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے اندازے کے برابر ہے۔ مرکزی بینک نے دسمبر میں جی ڈی پی گروتھ ریٹ کے اندازہ کو 6.1 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کر دیا تھا، آر بی آئی نے اپنی مانیٹری پالیسی کا جائزہ لینے میں جی ڈی پی کی شرح کے اعداد و شمار کو کم کیا تھا۔حکومت نے اندازہ لگایا ہے کہ گرس ویلیو ایڈڈ (جی وی اے) 4.9 فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔ 2018-19 کے دوران یہ 6.6 فیصد تھی۔ مینو فیکچرنگ سیکٹر کے 2019-20 میں 2 فیصد اضافے کی توقع ہے، جبکہ گزشتہ سال یہ اندازہ 6.9 فیصد تھا، مرکز نے جی ڈی پی پر پہلی پیشین گوئی موجودہ سال کے 9 ماہ کے اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ حکومت بجٹ پیش کرنے کے بعد ایک اور اندازہ جاری کرے گی۔ اسی درمیان، گوا کی ریاست مجموعی گھریلو مصنوعات (جی ڈی پی) ترقی کی شرح 2018-19 میں تقریباً 9.8 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ اس کے مطابق ریاست کی فی کس آمدنی 5.04 لاکھ روپے رہی جو کہ ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ گوا کے گورنر ستیہ پال ملک نے منگل کو ریاستی اسمبلی کے ایک دن کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آمدنی ذرائع میں کمی، عالمی اقتصادی مندی اور کان کنی کی سرگرمیوں پر روک کے باوجود گوا نے اقتصادی ترقی حاصل کی ہے۔گورنر نے کہا کہ گوا کے مجموعی ریاستی گھریلو مصنوعات میں 2017-18 (عارضی) میں 11.08 فیصد اضافہ کا اندازہ ہے جبکہ 2018-19 میں فوری اندازے کے مطابق فی کس آمدنی 5.04 لاکھ روپے سالانہ کے ساتھ ریاست کی ترقی کی شرح قریب 9.8 فیصد رہنے کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوا کی فی کس آمدنی ملک میں سب سے زیادہ ہے، یہ قومی اوسط کے تین گنے سے زیادہ ہے۔یہ ایک مضبوط اور بہتر معیشت کی جانب سے اشارہ کرتی ہے۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here