عالمی کتاب میلے میں سعودی عرب کے اسٹال میں لیکچرز سیریز کا انعقاد

0
868
All kind of website designing

مملکت میں اعلی تعلیم ،”ویژن2030“اور عربی زبان کی ترویج میں حکومت سعودی کی کوششوں پر خصوصی لیکچرز

نئی دہلی ، پریس ریلیز،5جنوری :حسب روایت کل بروز ہفتہ 04جنوری کو قومی دارالحکومت نئی دہلی کے پرگتی میدان میں”28ویں عالمی کتاب میلہ 2020 کا رنگا رنگ آغاز ہوگیا ، جہاں کتابوں اور علم و دانش کے متلاشیوں کا تانتا لگاہوا ہے۔ آج بروز پیر مورخہ5جنوری کو اتوار کی تعطلیل کی وجہ سے عوام کا ہجوم قابل دید تھا۔اس موقع پر ہال نمبر سات کے انٹر نیشنل پویلین میں سعودی عربیہ کا اسٹال خاس طور پر شائقین اور طلبا و اساتذہ کی توجہات کا مرکز تھا۔ سعودی سفارت خانہ نے ”انٹر نیشنل بک فیئر “ میں دوروزہ لیکچر سریز کا نظم رکھا ہے ۔جس کا آج پہلادن تھااور آج خاص موضوع ” سعودی عرب میں جد ید اعلیٰ تعلیم ،ویژن2030“ تھا۔ لیکچر سیریز کی پہلی نشست گیارہ بجے شروع ہوئی ،جس میں پروفیسر حامد بن عبد الرو¿ف صالح نے دستاویزی پیشکش کے ساتھ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں اس وقت جدید تعلیم بالخصوص سائنس و تکنالوجی کے شعبے میں دودرجن  سے زائد جامعات کو عالمی سطح کی معیاری یونیورسیٹیوں میں شامل کرلیا ہے۔ یہاں طلبا کو اعلی تعلیم پانے کے لئے خوشگورار ماحول دستیاب ہے ، جس میں ان کی رہائش کے علاوہ دیگر ضروریات زندگی کی تکمیل کیلئے حکومت سعودی عرب فراخدلانہ تعاون پیش کررہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت دنیا بھر سے مملکت سعودیہ کی جامعات حصول علم کیلئے طلبا پہلی پسند کے طور پر متعارف ہورہی ہیں۔ اعلی اور تکنیکی تعلیم کیلئے حکومت سعودی عرب نے معیاری اور قابل قدر وظیفہ کا نظم رکھا ہے ، لہذا سائنس و تکنیک با لخصوص انفارمیشن ٹیکنالوجی میں دل چسپی رکھنے والے طلبہ اور ریسرچ اسکالرز کیلئے نہایت سازگار ماحول فراہم ہورہا ہے۔حوصلہ افزا بات یہ بھی ہے کہ سعودی عرب کی یونیورسیٹیوں کے فارغ اسکالرز کو دنیا بھر میں اہمیت کی نظروں سے سیکھا جارہا ہے۔ جبکہ لیکچر سیریز کی دوسری سیریزکی دوسری نشست 12:15بجے دوپہر کو شروع ہو ئی اور اس سیریز میں جس کا موضوع” عربی زبان و ادب کے فروغ کیلئے حکومت سعودی عرب کی جہدو جہد تھا۔ اس عنوان پر ڈاکٹر علی بن متعب الاحمری نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے بتا یا کہ اس وقت دنیا 40ملین افراد کی زبان عربی ہے اور اقوام متحدہ زبانوں کی فہرست میں عربی کو چھٹا مقام حاصل ہے ۔ عربی زبان کو اس حدتک پہنچانے اور اسے عالمی سطح پر متعارف کرانے میںشاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جدوجہد کو ساری دنیا حسن قبول سے نواز رہی ہے۔ سعودی حکومت کی کوششوں سے ہی آج عربی زبان کیلئے تعلیمی مراکز اور انسٹی ٹیوشنز جاپان ، انڈونیشیا سمیت مغربی اور پوروپی ممالک کے علاوہ برصغیر تقریباً سبھی ممالک میں اڈوانس ڈپلوماکے کورسز سعودی سفارتخانوں زیر انتظام کامیابی کے ساتھ چلائے جارہے ہیں، جس کے خاطر خواہ اور بارآور نتائج بھی دیکھنے کو مل رہے۔
واضح رہے کہ بک فیئر کے انٹر نیشنل پویلین میں سعودی عرب کا اسٹال خاص طور پر عوام کی توجہات کا مرکز بناہوا ہے۔گزشتہ روز سعودی اسٹال کا افتتاح سعودی عرب کے نائب سفیر برائے ہند معالی الشیخ طارق بن محمد رشوان اور کلچرل اتاشی ڈاکٹر عبد اللہ صالح الشتوی نے مشترکہ طور پر فیتہ کاٹ کر کیا تھا۔سعودی عرب کے اسٹال پر مرکزی وزیر رمیش پوکھریال نشانک بھی تشریف لائے تھے اور دیگر ممالک کے سفرا اور اتاشی حضرات نے بھی اس پیش کا دیدار کیا اور سعودی عرب کی انقلابی کوششوں کو دادو تحسین سے نوازا۔فزشتہ روز کی طرح آج بھی سعودی عرب کا اسٹال زائرین کی توجہ کا خاص مرکز رہا۔ سعودی عرب کے اسٹال میں خاص طور وہاں تعلیمی مراکز اور جدید تعلیم کے شعبوں میں ہورہی حیرت انگیز ترقیاتی تحقیقات پر مربوط کتابیں اور مجلات اساتذہ ، طلبا ءاور ریسرچ اسکالرزکی توجہ کا سامان بنے ہوئے۔ کل افتتاح کے موقع پرنائب سفیر محترم نے بتایا تھاکہ اس وقت ہماری تمام تر توجہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ” ویڑن2030“ پر مرکوز ہے۔ ہم نے اس تاریخی کتاب میلے میں بھی علیحدہ طور پر انویسٹرس لاو¿نج کا انتظام کیا ہے، جہاں ہم کھلے ماحول میں سرمایہ کاروں سے ”ویڑن2030“ کے ترقیاتی منصوبوں میں شامل ہونے کیلئے مدعو کررہے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ یہ عالمی کتاب میلہ کل 4جنوری 2020کو شروع ہواہے جو بارہ جنوری تک جاری رہے گا۔یہ میلہ عوام کے لئے روزانہ دن میں ساڑھے گیارہ بجے سے رات آٹھ بجے تک کھلا رہے گا۔ یہ نو روزہ کتاب میلہ ادب دوست عوام کا سب سے بڑا اجتماع ہے۔نئی دہلی عالمی کتاب میلہ ایشیا کا سب سے بڑا میلہ ہے، جس میں 600سے زیادہ ناشر شرکت کررہے ہیں۔ لیکچرز سیریز کے بعد سوال جواب کا نظم بھی کی گیا تھا ،جس میں سامعین طلبا، اساتذہ اور سکالرز نے سعودی عرب اعلی تعلیم کے حصول کیلئے ہندوستان کے طلبا کو کس طرح مراعات حاصل ہوسکتی ہیں اس نوعیت کے متعدد سوال شرکاءکی جانب سے پوچھے گئے جس کا تشفی بخش جواب دیا گیا ۔ اسی طرح عربی زبان و ادب کی تعلیم اور اس میدان روزگار کے مواقع سے متعلق سوال بھی پوچھے گئے جس کا اطمینان بخش جواب دیا گیا اور بتایا گیا کہ اس وقت عالمی سطح پر عربی مقبولیت کی بے پناہ اونچائیوں کی طرف گامزن ہے، لہذا اس زبان کے حامل لوگوں کیلئے روزگار کے بے شمار مواقع ہیں۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here