کوالا لمپور سمّٹ اور سعودی عرب کی مسلم دشمنی!

0
1176
All kind of website designing

میم ضاد فضلی

گزشتہ 21دسمبر2019کو ملیشیا کے سر براہ مہاثیر محمد کی دعوت پرچہار روزہ ’’کوالا لمپور سمٹ2019‘‘پختہ منصوبوں اور سنجیدہ عہدو پیمان کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔ اس اجتماع کا کلیدی مقصدموجودہ عالمی صورت حال میں مسلم امہ کو درپیش مسائل کے حل کے علاوہ خاص طور پر ہندوستان میں انہیں دوسرے درجے کا شہری بنائے جانے کی یرقانی سازش اور اس سے قبل ریاست جموں و کشمیر سے دفعہ370 کو کالعدم قرار دے کر اس کی خود مختاری کو سلب کئے جانے اور نو لاکھ مسلحہ فوجیوں کو وادی جنت نظیر میں تعینات کرکے کشمیر کو مسلمانوں کے لئےاوپن جیل بنادینے اور گزشتہ پانچ ماہ سے وہاں انٹرنیٹ اور رابطہ کے دیگر برقی ذرائع پر مکمل پابندی عائد کئے جانے جیسے مسائل پر دیانت و ایمانداری سے غور وخوض کرکے اس کا پُر امن اسٹریٹجک حل نکالنا تھا۔
مذکورہ بالا ’’ سمٹ ‘‘ کا اعلان مہاثیر محمد نے 23نومبر 2019کو ہی کردیاتھا اور اس غیر معمولی اہمیت کے حامل’’ سمّٹ‘‘ میں شرکت کیلئے بطور خاص ترکی ، ایران ، قطر اور پاکستان سمیت او آئی سی میں شامل 20  ممالک کے سربراہان کو اپنے سفراء اور ایلچیوں کے ذریعہ خصوصی دعوت نامہ بھیجا تھا۔ البتہ سعودی عرب کو اس بامقصد تقریب میں مدعو نہیں کیا گیاتھا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب کے غاصب حکمراں روز اول سے ہی ملت کے مفادات پر امریکہ کی غلامی اور اسرائیل کی جی حضوری کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔ لہذاایسے دو مونہے سانپ کو اس مہتم بالشان اجلاس میں شامل کرنے کا مطلب ہوتا ان تمام اہداف کا  خون کردینا جس پر غوروخوض کرنے کے کیلئے یہ عظیم اجلاس منعقد کیا گیا تھا۔
اس سے قبل کہ اس سربراہ کانفرنس سے’’آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن ‘‘ اور سعودی عرب کی چولیں کیوں ہل گئی اور او آئی سی کے سربراہ پر مالیخولیا کا دورہ کیوں پڑنے لگا ہے؟
’’کوالا لمپور سمّٹ‘‘ سے عین ایک روز قبل سعودی عرب نے سخت دھمکیوں کے ذریعے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو سمّٹ میں شرکت کرنے سے کیوں اور کس کے اشارے پرروک دیا ؟
ان سوالا ت کے جواب پیش کرنے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ مذکورہ کانفرنس کے اہم شرکاء اور مندوبین نے مسلمانان عالم کی حالت زار پر کیا کچھ کہا اور اس کے سد باب کیلئے کن عزائم کا اظہار کیا۔
کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کہا کہ ہم یہاں اس لیے جمع ہوئے ہیں تاکہ اسلامو فوبیا، مسلم ممالک کے مابین تنازعوں، فرقہ ورانہ اور نسلی بنیادوں پر ہونے والے جھگڑوں کا سدباب کر سکیں، انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم فلسطین کا تنازع حل نہیں کرا سکے، ہم اپنے وسائل کا (مغرب کے ہاتھوں)استحصال نہیں روک سکے، ہم یہ کہہ سکنے کا حوصلہ بھی نہیں جٹا سکے کہ فرقہ واریت کے نام پر مسلم ممالک کی تقسیم کوروکنے کی کوشش کی جائے۔ جس وقت اردگان کی فکر میرے کانوں سے ٹکرارہی تھی ، اسی وقت مجھے ابوالمجاہد زاہد یاد آنے لگے ، جنہوں نے انتہائی پرکشش انداز میں اتحاد کی قوت کا احساس دلایا تھا۔

ایک ہوجائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبیں
ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا کام بنے

سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد ڈیڑھ اینٹ کی اپنی اپنی مسجدیں بنالینے والے عرب کے غاصب حکمرانوں کو ہی کلمہ، قرآن اور توحید ورسالت کی بنیاد پر متحد کرنے کی مخلصانہ نیت سے مصر کے ایک گھڑی ساز کا بیٹا شیخ حسن البنا الشہیدؒ بے سرو سامانی کے باوجود محض توکل علی اللہ کے سہارے کھڑا ہوا تھا۔ مگر وقت کے فرعونوں نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا یہ کسی پر مخفی نہیں ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ’’ الاخوان‘‘ کے رضاکاروں اور قائدین کو تہ تیغ کرنے والے یا تختہ دار پر لٹکا دینے والے اور اس خالص اصلاحی تحریک کو امریکہ کے ذریعہ دہشت گرد تنظیم قراردلوانے کی کوشش کرنے والے کوئی دوسرے نہیں تھے۔ وہ سب کے سب مسلمان ہی تھے، مگر انہیں دین و ایمان اور آخرت سے زیادہ اپنی کرسیاں ،عہدے اور مناصب عزیز تھے ،ان ہی قوتوں نے مسند اقتدار کوہمیشہ کیلئے اپنے خاندان کے نام ریزرو کروانے کے مقصد سے اپنے بھائیوں کے ہی خون سے ہولی کھیلی تھی، اس کھیل کا ریفری پہلے بھی سعودی عرب ہی تھا اور ابھی چند برس پہلے جب شیخ محمد مرسی کی لاش عدالت سے اٹھوائی گئی تو یہاں بھی شک کی سوئی سعودی عرب کی جانب ہی گھوم رہی ہے۔ جناب مرسیؒ کی معزولی سے لے کر کنعانہ کی یہودیہ خاتون کے نواسے عبد الفتاح السیسی کو مصر کے اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کرانے کا مجرم بھی سعودی عرب ہی ہے۔
بہر حال ترک صدر اپنے خطاب میں عالم اسلام کی سپہ گری کی دعویدار تنظیم کی ابن الوقتی کی جانب مہذب انداز میں اشارے کررہے تھے۔ ترک صدر نے او آئی سی کا نام لیے بغیر کہا کہ مسلم امہ کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جو پلیٹ فارمز اسلامی ممالک کو جوڑتے ہیں ، وہ اپنے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کرا سکے ۔ آج تک ان کی تمام میٹنگیں ، اجلاس اور کانفرنسیں نشستن، خوردن ، برخاستن سے آگے کوئی مستحکم لائحہ اور مثبت فکر ملت اسلامیہ کو نہیں دے سکیں۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حق و انصاف اور مسلم امہ کی کسمپرسی پرلب کشائی کرنےسے ان مملکتوں کو اپنی کرسی کھسک جانے کا خوف روک دیتاہے۔ ورنہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ حمیت اسلامی اور بہ حیثیت کلمہ گو ایک ایک فرد کو اپنا بھائی ماننے والی مملکتیں 5اگست2019کو جموں اینڈ کشمیر سے دفعہ 370ختم کرنے کے فیصلے کےدودن بعد ہی گجرات کے قصائی کو اعزازو اکرامات سے نوازتیں۔ یہ منظر ساری دنیا نے دیکھا اور ہر صاحب ضمیر انسان انگشت بدندان رہ گیا کہ یہ کون سی قوم ہے کہ جو اس کے اپنوں پر قہر ڈھانے والے ظالم کو ہی اپنا امام تسلیم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔
خیال رہے کہ اردگان اور ملائیشیا کے وزیرِ اعظم مہاتیر محمد او آئی سی کے فیصلوں پر عمل درآمد نہ ہونے اور اس کے غیر فعال ہونے سے متعلق وقتاً فوقتاً تحفظات کا اظہار بدستور کرتے رہے ہیں۔
کانفرنس کے میزبان وزیرِ اعظم مہاثیرمحمد نے کہاکہ کانفرنس کا مقصد مسلم امہ کو درپیش عالمی چیلنجز، اسلامی تہذیب کے زوال، مسلم ممالک میں طرز حکمرانی، اسلاموفوبیا اور مغرب میں اسلام سے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیوں کا حل تلاش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کے شرکاء قابل عمل سفارشات مرتب کرنے میں کامیاب ہو گئے تو اسے اسلامی ملکوں کے بڑے پلیٹ فارمز پر بھی زیرِ غور لایا جائے گا ۔ عرب ٹی وی کے مطابق کانفرنس میں اقتصادی معاملات کے ساتھ مسلم امّہ کو درپیش مسائل بشمول کشمیر، شام، یمن کے تنازعات اور میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ بہیمانہ سلوک پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اپنے خطاب میں مہاثیر محمد نے ہندوستان کی یرقانی حکومت کے ذریعہ مسلمانوں کو ہراساں کرنے اور ان کی شہریت چھین لینے کے متنازع قانون کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہندوستان خود کو سیکولر ملک کہتا ہے، لیکن وہ مسلمانوں کی شہریت چھیننے کے اقدام کر رہا ہے ۔
کانفرنس میں ایران کے صدر حسن روحانی نےعالم اسلام کیلئے قومی اور اسلامی شناخت کو کمزور کرنے اور اغیار کی ثقافت کو سنجیدہ خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شام و یمن کی جنگ اور عراق، لیبیا، لبنان اور افغانستان کی ناگفتہ بہ صورتحال ملکی سطح پر انتہا پسندی اورغیر ملکی مداخلت کا نتیجہ ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس وقت جن مسلم ریاستوں میں خلفشار، خانہ جنگی اور معرکہ آرائی جاری ہے ، اس میں اسلام دشمن قوتیں با لخصوص امریکہ و اسرائیل کا دوغلا کردار کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ مگر حیرت ہے کہ فلسطینی مسلمانوں کی مظلومیت پر گھڑیالی آنسو بہانے والے حسن روحانی نے ہندوستانی مسلمانوں اور کشمیر کے معاملے پر گرگٹ کی طرح رنگ بدل لیا اور یکدم چپی سادھ لی۔ یہیں سے خود کو اسلامی جمہوریہ ایران کے اتحاد بین المسلمین کے نعرے کی حقیقت دنیا کے سامنے آجاتی ہے ۔
واقعہ یہ ہے کہ ایران ہمیشہ مذہب پر اپنے سیاسی مفادات کو فوقیت دیتا آیا ہے، البتہ فلسطین کی بازیابی کے نام پر چہار دانگ عالم میں ڈھنڈورا پیٹنے والے ایران کو آج تک بندوق کی گولی تو دور غلیل سے بھی فلسطین کیلئے اس کے جیالوں نے چوٹ نہیں کھائی ہے۔ قول و عمل کا یہی تضاد ہے جو عالم اسلام کو ایران کے تعلق سے شبہات میں مبتلا رکھتا ہے۔
سعودی آمروں کے مفادات کی چکی میں پس رہی آرگنائزیشن فار اسلامک کو آپریشن یا او آئی سی عالمی سطح پر عرب ممالک کی سب سے پرانی تنظیم تصور کی جا تی ہے۔ میری نحیف ترین یاداشت کے مطابق اس تنظیم کے تشکیل پانے کے بنیادی محرکات میں سے ایک 1969ء میں شدت پسند صیہونی عناصر کی جانب سے مسجد اقصیٰ کو آگ لگائے جانے کا ناگوار واقعہ تھا(بابری مسجد کی شہادت اور اس کیخلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کا نہیں) ۔ اس وقت تقریباً 57 مسلم ممالک اس تنظیم کے رکن ہیں۔ او آئی سی اپنی تشکیل کے آغاز سے ہی مصر، سعودی عرب، عراق اور لیبیا جیسے اسلامی ممالک سے شدید متاثر تھی۔ البتہ انتہائی چالاکی اور اپنے اجداد یعنی اسرائیل اور اپنے آقا امریکہ کی مہربانیوں اورامریکہ و اسرائیل کی بارودی طاقت کے بل پر سعودی عرب نے اس اہم اسلامی تنظیم کی متاثر کن ریاستوں کو مٹانا شروع کردیا۔ عراق سمیت اپنی چودھراہٹ کیلئے راستے کا کانٹا سمجھے جانے والے ایک ایک کر کے سبھی ملک اور اس کے طاقتور سربراہوں کو راستے سے ہٹادیا گیا۔ چناں چہ سے سب سے پہلے نجدکے اس یہودی نژادمسلمان حکمرانوں کا لقمہ عراق ہی بنا، بلکہ عالمی جنگ دوم کے بعد ابھرنے والی مسلم طاقتوں میں سب سے زیادہ بااثر اور امریکہ و اسرائیل کےلئے موت کا سامان متصور کئے جانے والے عراق کے رہنما صدام حسین کو سعودی عرب نے اپنے ظل الہی اسرائیل اور امریکہ سمیت 130ممالک کے ساتھ مل کر ایسا تہ و بالا کیا کہ اس کانام نشان تک مٹادیا۔ عراق پر یہ ایسا کاری ضرب تھا کہ آج تک وہ اس زخم سےباہر نہیں نکل پایا ہے، بلکہ حقیقت کی عینک لگاکر دیکھا جائے تو خلیجی جنگ 1991سے اب تک یہ ملک خانہ جنگی اور متعدد قسم کے انتشار کا شکار ہے ، جس میں سعودی عرب اور ایران کا ہاتھ سب سے زیادہ ہے، تاہم ان ممالک کی صحیح صورت حال سے واقف لوگ بھلی بھانتی جانتے ہیں کہ عراق کی تباہی میں ایران کے مقابلے میں ظالم سعودی عرب کا کردار سب سے زیادہ ہے۔
بہر حال عراق کو تاخت و تاراج کردینے کے بعد سعودی عرب نے اپنے آقاؤں کو لیبیا کی جانب متوجہ کیا اور نتیجہ کار لیبیا کے مرد آہن کرنل قذافی کو راستے سے ہٹاکر اب تک اس ملک کے مظلوم عوام کو مصائب کے جہنم میں جھونکے ہوا ہے۔ یہ بات قطعی فراموش نہ کیجئے کہ ان ساری تباہ کاریوں اور جرائم کا مرتکب براہ راست سعودی عرب ہے، اور یہ سازشی دماغ اس نے اپنے اجداد یعنی اسرائیل سے سیکھا ہے اور اسی پر عمل پیرا بھی ہے۔ اس کے بعد ابھی ماضی قریب میں ہی عالم اسلام کے سب سے محبوب اور اسلام پسند رہنما شہید اسلام جناب محمد مرسی کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ کس نے کیا اور کس کے اشارے پر ہوا، مرسی شہید کا سپاری کلر کون ہے اور اس کیلئے کروڑوں ڈالر کی سپاری کس نے دی تھی؟ عقل وفہم اور دور بین نگاہوں کے حامل دانشوروں اور تاریخ کے بحر ناپیدا کنار میں غواصی کرکے موتی نکال لانے والوں کیلئے ان یہودی سازش کاروں کو پہچاننا مشکل نہیں ہے۔
نتیجہ کار موجودہ او آئی سی ایک پولیو زدہ ادارہ بن کررہ گیا ہے اور اس کی حالت یہ بن چکی ہے کہ سعودی عرب کے یہودنواز حکمرانوں کی بیساکھی کے بغیر اس نام نہا د اسلامی تعاون کونسل کا چلنا تو دورکی بات ہے ، ہلنا ڈولنا بھی ممکن نہیں ہے۔ موجودہ او آئی سی کی حالت سعودی عرب نے وہی بنادی ہے جو ہندوستان میں شاہ سلمان کے جگری دوست نریندر مودی کی حالت ہے۔ مودی اور امت شاہ سمیت جس طرح سے ساری بی جے پی حکومت کا ریموٹ کنٹرول آر ایس ایس کے ناگپور ہیڈکوارٹر کے پاس ہے اور جسے مغربی ممالک میں حقوق انسانی اور ڈیموکریسی کیلئے کام کرنے والی کئی بین اقوامی تنظیمو ں نے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ چناں چہ امریکہ میں مقیم سکھوں کی ایک مؤثر تنظیم ’’ سکھس فار جسٹس‘‘ SFJنے نیو یارک کی ایک عدالت میں باضابطہ طور سے تمام شواہد اور دلائل کے ساتھ آر ایس ایس کو ایک عالمی دہشت گرد تنظیم قرادینے کیلئے14اپریل 2015کو استغاثہ بھی دائر کررکھا ہے، جسے عدالت نے قبول بھی کرلیا ہے اور مقدمہ کی سماعت کا حکم بھی سناچکی ہے۔ چناں چہ انڈیا ٹوڈے نے اس موضوع پر 25مارچ 2015کوہی ایک رپورٹ شائع کی تھی۔
بدقسمتی سے ہندوستان میں مشینی ہیر پھیر کے نتیجے میں 2019میں مرکز میں جو حکومت وجود میں آ ئی ہے ،وہ بھی اپنے آپ میں بالکل مفلوج ہے اور ناگپور کی بیساکھی کے بغیر ایک قدم بڑھنا بھی اس کیلئے محال ہے۔
ٹھیک اسی طرح او آئی سی کے اراکین کی حیثیت صرف سعودی عرب کے بھونپو کی ہے ۔ وہ جب چاہے اور جو چاہے اس تنظیم کے ذریعہ اپنے حق اور مفاد کے فیصلے کراسکتا ہے۔ جبکہ اس کے موقف سے محض اعتراض ظاہر کرنےوالے کو چٹکی میں اس تنظیم سے با ہر کا راستہ دکھا دیا جاسکتا ہے۔ اگر سعودی عرب چاہے تو اس سربراہ تنظیم کی خصوصی کانفرنسوں میں بھی انسانیت کے سب سے خطرناک بھیڑیے اور موت کے سوداگر، ریاست گجرات کے دوہزار سے زائد بے گناہ مسلمانوں کے قاتل کو مدعو کرکے عزت و حترام سے نوازسکتا ہے۔ ماضی قریب میں ہم اس طرح کی چند مثالیں دیکھ چکے ہیں۔
چوں کہ مودی سے اسرائیل کے اسٹریٹجک تعلقات کس قدر گہرے ہیں وہ ہرکوئی جانتا ہے ، لہذا کسی ایسے ملک کیخلاف لنگڑی لولی او آئی سی کربھی کیا سکتی تھی ، جس کی چابی غاصب سعودی حکومت کے خونیں پنجے میں ہے ، یہی وجہ ہے یہودی آقاؤں کی خوشنودی کو پیش نظر رکھتے ہوئے او آئی سی یا سعودی عرب نے 2014سے مسلمانوں کے ساتھ یرقانی دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کے اشاروں پر ناچنے والی بی جے پی حکومت کےخلاف لمحہ بھر کیلئے بھی شاہ سلمان یا ان کے عیاش بیٹے ولی عہد محمد بن سلمان نے کچھ نہیں کیا۔ نہ کبھی اس نے ازراہ مروت ہی یہ سوال کرنے کی جرأت کی کہ ہندوستانی مسلمانوں کو مشق ستم کیوں بنارہے ہو۔
سعودی عرب کی ان سیہ کاریوں اور عرب ممالک کے بت پرست حکمرانوں کی اسلام دشمنی کی وجہ سے ہی آج تقریباً نصف صدی گزر جانے کے بعد شدت سے یہ احساس کیا جا رہا ہے کہ او آئی سی اپنے اصلی اہداف سے بہت دور ہوچکی ہے۔ دوسری طرف اس تنظیم میں بنیادی حیثیت کے حامل عرب ممالک جیسے عراق، شام، لیبیا اور مصر اس وقت اندرونی مشکلات اور بحرانوں کا شکار ہوچکے ہیں یا کرائے جاچکے ہیں، جبکہ سعودی عرب اور اس کے حامی بعض دیگر عرب ممالک نے اسرائیل سے متعلق اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں کرنے کے ساتھ ساتھ او آئی سی کو اپنی ذاتی جاگیر میں تبدیل کر دیا ہے۔ ویسے ایک تلخ سچائی یہ بھی ہے کہ جس کے ہاتھ خود بے گناہ یمنی شہریوں کے خون میں سنے ہوئے ہوں، وہ دوسرے کو امن و انصاف اور ہمدردی کی درخواست بھی کیسے کرسکتا ہے۔
لہذا اب یہ ناگزیر ہوگیا تھا کہ او آئی سی کو لات ماردی جائے اور جن مسلم ممالک اور ان کے فر ما نر و ا ؤ ں کو قدرت کی جانب سے عزم و حوصلہ اور جرأت ایمانی بخشی گئی ہے ،وہ نامساعد حالات اور وسائل کی کمی کے باوجود ایک میز پر آکر بیٹھیں اور جن ممالک میں مسلمان اقلیت کی حیثیت سے رہ رہے ہیں اور انہیں دوسرے درجے کا شہری بنانے کی سازش کی جارہی ہے، اس کیلئے ایوانوں سے قانون بنوائے جارہے ہیں اور ملک بدر کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں، ان کا سختی سے نوٹس لیا جائے۔ جہاں تک میں نے ملیشیا میں مہاثیر محمد کے زیر اہتمام مسلم ممالک کے سربراہان کی طلب کردہ کانفرنس کے ایجنڈے کا سرسری مطالعہ کیا ہے ، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مہاثیر محمد ، رجب طیب اردگان اورامیر قطر نے ہندوستانی مسلمانوں کی حالت زار کا صحیح ادراک کیا ہے ، اس کے پر امن حل کیلئے ہی کوالا لمپور میں سرجوڑ کر بیٹھنے کا فیصلہ کیاگیا تھا۔ مگر عمران خان کو یہ دھمکی دے کر کہ اگر اس نے ’’ کوالا لمپور سمٹ‘‘ میں شر کت کی تو اس کے تمام شہریوں کو سعودی عرب سے واپس بھیج دیا جائے گا۔
کیا کسی بھی دیانت دارانسان کے ذہن میں یہ سوال نہیں آسکتا ہے کہ اگر سعودی عرب نے یہی دھمکی انڈیا کو دی ہوتی کہ ہندوستان نے اگر مسلمانوں کو ڈیٹینشن سنٹرز میں ٹھونسنے کی سازش کرتا ہے تو اسکے 22لاکھ سات ہزار شہریوں کو اپنے ملک سے نکال باہر کردے گا جو 11بلین ڈالرکی خطیر رقم ہندوستان کو بھیجتے ہیں ،اس کی ایک کوڑی بھی مودی کونصیب نہیں ہوگی۔ جس وقت میں یہ سطور لکھ رہاہوں میرے سامنے عالمی بنک کی وہ رپورٹ ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ 2014 سے15تک خلیجی ممالک سے ڈالر کی شکل میں کتنی بڑی رقم ہندوستان کے خزانے میں آئی ہے۔ ورلڈ بینک نے جو رپورٹ شائع کی ہے اس کے مطابق غیرممالک میں کام کرنے والے ہندوستانیوں کے ذریعے 2014سے 15 کے درمیان ہندوستان کو 70 ارب ڈالرزر مبادلہ موصول ہوا تھا۔ جس میں 37 ارب ڈالرصرف خلیجی ممالک سے حاصل کی گئی ہے۔ جبکہ سعودی عرب سےتقریبا 11 بلین ڈالر ہندوستان آرہا ہے۔ بہر حال سعودی عرب ہندوستان پر دباؤ بنانے میں کیوں ناکام ہے ، بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہ اسرائیل کے خوف کا شکارہے اور تازہ تر ’’کوالا لمپورسمّٹ ‘‘ میں قدرے طاقتور مسلم ممالک کے اجتماع سے سعودی عرب کو اپنی چودھراہٹ کا خاتمہ ہونے کاڈراونا خواب آنے لگاہے ، اسی کے ساتھ او آئی سی کی موت کا اندیشہ بھی غالب ہوتا جا رہاہے۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here