…. اب دہلی یونیورسٹی کے طالب علموں کے ساتھ بھی ہوا طاقت کا استعمال

0
908
All kind of website designing

نئی دہلی : جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم مسلسل مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پیر کی صبح ہی جامعہ کے طالب علم دوبارہ مظاہرہ کرنے سڑک پر اترے۔ طالب علم یونیورسٹی کے گیٹ کے باہر ٹی شرٹ اتار کر احتجاج کر رہے ہیں۔ جامعہ یونیورسٹی کے طالب علم مسلسل گیٹ نمبر- 7 کے باہر دہلی پولیس کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں۔ طلبا نے پولیس پر بدسلوکی اور مارپیٹ کرنے کے سنگین الزام لگائے ہیں۔
دہلی یونیورسٹی طالب علموں کے ساتھ طاقت کا استعمال
شہریت ترمیم بل، 2019 کے خلاف احتجاج میں پیر کی صبح ہی دہلی یونیورسٹی کے طالب علم احتجاج کر رہے ہیں۔ دہلی یونیورسٹی کے طالب علم صبح سے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طالب علموں کے ساتھ ہوئے سلوک کو لے کر دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ طالب علموں کا کہنا ہے کہ دہلی پولیس جس طرح طالب علموں کے ساتھ مسلسل مارپیٹ کر رہی ہے اس کے لئے حکومت کو سخت ایکشن لینا ہوگا۔اسی درمیان دہلی یونیورسٹی کے طالب علموں کے ساتھ پولیس نے طاقت کا استعمال کیا۔
واضح ہو کہ جامعہ کے طالب علم گزشتہ تین دنوں سے شہریت ترمیم ایکٹ کی مخالفت میں دھرنے پر بیٹھے تھے۔جس کے بعد اتوار کی شام جامعہ کے اندر پرتشدد جھڑپ ہوئی اور دہلی پولیس نے جامعہ کیمپس میں داخل ہو کرزبر دست بر بریت کا مظاہرہ کیا۔ وہیں واقعہ کے بارے میں پوچھے جانے پر شمالی ضلع کی ڈپٹی کمشنر مونیکا بھاردواج نے بتایا کہ پولیس نے کسی بھی طالب علم کے ساتھ مارپیٹ نہیں کی ہے اور نہ ہی کسی طالب علم کو حراست میں لیا گیا ہے۔ وہیں واقعہ کا ایک ویڈیو وائرل ہوا ہے۔ جس میںپولیس اہلکار طالب علموں کے ساتھ مارپیٹ کر رہے ہیں۔
پولیس کی کارروائی قابل مذمت’
دہلی یونیورسٹی کے طالب علم دہلی پولیس کی کارروائی کے بعد جامعہ کے طالب علموں کی حمایت میں احتجاج کر رہے ہیں۔ بہت سے طالب علموں نے اپنے امتحان کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔ طالب علموں کا کہنا ہے کہ دہلی پولیس اس طرح پرامن طریقے سے احتجاج کر رہے طالب علموں کے اوپر لاٹھی چارج نہیں کر سکتی۔ جس طرح سے اتوار کو لائبریری کے اندر دہلی پولیس نے جاکر طالب علموں کو مارا ہے وہ قابل مذمت ہے۔
پولیس ہیڈکوارٹر میں بھیڑ لگی
اتوار رات 9 بجے دہلی پولیس ہیڈکوارٹر پر شروع ہوا طالب علموں کا مظاہرہ صبح چار بجے تک چلا۔ ان 7 گھنٹوں کے دوران طالب علموں کی طرف سے دہلی پولیس اور مرکزی حکومت کے خلاف خوب نعرے بازی ہوئی۔ ہزاروں کی تعداد میں لگے طالب علم اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹے، جب تک حراست میں لئے گئے ان کے ساتھیوں کو رہا نہیں کیا گیا۔ ادھر پیر کی صبح 11 بجے سے دوبارہ طالب علموں کی بھیڑ جمع ہو گئی ۔ وہیں پولیس کے سینئر حکام نے بھی سیکورٹی کو دیکھتے ہوئے بھاری پولیس فورس تعینات کر دیا ہے۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here