یشہریت ترمیم بل نے ملک کی روح کو تار تار کیا: سونیا گاندھی،معیشت کو بہتر بنانا ہے تو راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کے ہاتھ مضبوط کریں: منموہن سنگھ

0
1761
All kind of website designing
نئی دہلی : کانگریس صدر سونیا گاندھی نے ہفتہ کے روز کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک کی حکومت من مانے طریقہ سے قانون بنا رہی ہے۔ اب انہوں نے ‘آئین کی دھجیاں’ اڑاتے ہوئے شہریت پر قانون بنایا ہے۔ شہریت ترمیمی قانون نے ملک کی ‘روح کو تار تار کر دیا ہے‘۔واضح ہو کہ حال ہی میں مرکزی حکومت نے تین ممالک سے ہراساں ہوکر بھارت میں غیر قانونی طریقے سے رہ رہے وہاں کی اقلیتوں (غیر مسلموں) کو شہریت دینے متعلقہ بل منظور کیا ہے۔ اسے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے اپنے جانے پہچانے انداز میں بی جے پی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی پر تقسیم کی پالیسی اپنانے کا الزام لگایا۔ ‘بھارت بچاؤ’ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا کہ مودی سرکار لوگوں کو آپس میں لڑانے میں مصروف ہے۔ ان کی پارٹی جمہوریت، آئین اور ملک کی حفاظت کے
کانگریس کی بھارت بچاؤ ریلی میں عوام الناس اور کانریس کارکنان کا سیلاب
لئے کسی بھی قربانی دینے اور جدوجہد کرنے کے لئے تیار ہے۔ سونیا گاندھی کی قیادت میں آنے کے بعد سے ہی کانگریس دہلی میں اس طرح کے بڑے پروگرام کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔ انہوں نے آتے ہی پیغام دیا تھا کہ پارٹی لیڈروں کو ٹوئٹر پربیٹھ کربیان دینے کی بجائے زمین پر اترکر جدوجہد کرنے کا راستہ اپنانا ہوگا۔ اپنے پورے خطاب کے دوران سونیا گاندھی کارکنوں سے ہر معاملے پر پوچھتی رہیں کہ ‘کیا وہ جدوجہد کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر کے آغاز میں ہی کہا کہ ‘اب اس پار یا اس پار’ کا فیصلہ لینا ہوگا اور ‘سخت جدوجہد’ کرنی ہوگی۔ سونیا گاندھی نے بی جے پی کے حکومت چلانے کے طریقے پر سوال کھڑے کئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت من مانے طریقے سے کام کر رہی ہے۔ ’کہیں دفعہ ہٹا لو، کہیں صدر راج لگا دو ؍ہٹا لو، ریاست کو مرکزی علاقہ بنا دو، بل پاس کرا لو‘ یہی چل رہا ہے۔ حکومت ایسا کرکے آئین کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آج ’اندھیر نگری-چوپٹ راجہ‘ والا حال ہے۔ ملک کے انداتا کسان کا جینا مشکل ہو گیا ہے۔ اس کو اس فصل کی پوری قیمت نہیں مل رہی ہے۔ دو وقت کی روٹی حاصل کرنے میں عام آدمی کو پریشان ہونا پڑ رہا ہے۔ نوجوانوں کو بے روزگاری کے سبب اپنا مستقبل تاریکی میں نظر آ رہا ہے۔ قرض لے کر کام دھندہ شروع کرنے والے برباد ہو رہے ہیں۔ انہوں نے پوچھا، ’کیا یہی اچھے دن تھے‘۔

معافی نہیں مانگوںگا،’راہل گاندھی ہوں، راہل ساورکر نہیں‘

نئی دہلی (نیا سویرا لائیو/ ہ س) کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ہفتہ کے روز کہا کہ وہ اپنے بیان پر معافی نہیں مانگیں گے، وہ ’راہل گاندھی ہیں، راہل ساورکر نہیں‘۔ راہل گاندھی کے ’ریپ ان انڈیا‘ والے بیان پر کل پارلیمنٹ میں ہنگامہ ہوا تھا اور حکمراں جماعت نے ان سے اس پر معافی کا مطالبہ کیا تھا۔ کانگریس کی ‘بھارت بچاؤ’ ریلی کا ہفتہ کے روز دہلی کے رام لیلا میدان میں انعقاد کیا گیا۔ اس ریلی سے راہل گاندھی نے صدر سونیا گاندھی سے ٹھیک پہلے خطاب دیا اور یہ باقی تمام رہنماؤں کی تقاریر سے سب سے لمبی تقریر تھی۔ حالانکہ راہل نے اپنی تقریر میں شہریت ترمیمی قانون کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ راہل کی تقریر بے روزگاری، معیشت اور وزیر اعظم نریندر مودی پر نشانہ لگانے پر مرکوز رہی۔راہل نے اپنی تقریرکا آغاز کارکنوں کی تعریف اور ’معافی نہیں مانگوںگا‘ کے بیان سے کی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کارکن اپنی بات سے اک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹتے ہیں اور وہ بھی نہیں ہٹیں گے۔ ’وہ حقیقت کے لئے مر جائیں گے، معافی نہیں مانگیں گے‘۔انہوں نے کہا کہ معافی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو مانگنی چاہئے۔ دونوں لیڈروں کو معیشت کی صورتحال، بے روزگاری اور غریب-کسان کی بری حالت کے لئے ملک سے معافی مانگنی چاہئے۔ راہل نے کہا کہ بھارت اور چین کو دنیا کا مستقبل کہا جاتا تھا لیکن اکیلے نریندر مودی نے ملک کے مستقبل کے تمام امکانات کو خارج کر دیا۔ لوگوں کے خون پسینے کی کمائی کو’گبر سنگھ ٹیکس‘ لگا کر ختم کر دیا۔ آج ملک میں 45 سالوں میں سب سے زیادہ بے روزگاری ہے۔ وزیر اعظم نے وہ کام کیا ہے جو ملک کے دشمن کی سوچتے تھے۔ انہوں نے ملک کی معیشت کی ترقی کی شرح کی رفتار بالکل گرا دی۔ وزیر اعظم نریندر مودی پر ذاتی الزام لگاتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ان کی پارٹی مانتی ہے کہ ایماندار تاجروں نے ملک کی معیشت کو بدلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ملک کے کچھ منتخب تاجروں کو فائدہ پہنچانے کا کام کیا ہے۔ غریب کسان کی جیب سے پیسہ نکال کر وزیر اعظم نے کچھ منتخب لوگوں کے قرض معاف کئے ہیں۔
دریں اثنا سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ہفتہ کے روزدہلی میں کانگریس کے ذریعہ منعقد ہ ’بھارت بچاؤ‘ ریلی میں اپنی مختصر تقریر میں معیشت کو لے کر مرکزی حکومت پر نشانہ لگایا اور کہا کہ اگر اس صورت حال کو بہتر بنانا ہے تو راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کے ہاتھ مضبوط کرنے ہوں گے۔ منموہن سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی گزشتہ چھ سال سے بڑے بڑے وعدے کر رہے ہیں۔ وہ 2024 تک ملک کی معیشت کو 50 ٹریلین ڈالر کی کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے اور 2 کروڑ روزگار ہر سال دینے کی بات کر رہے ہیں لیکن تمام وعدے جھوٹے ثابت ہو رہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم نے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے ہاتھ مضبوط کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایک شعر پڑھا،’آ !ان تاریکیوں سے سرخیاں پیدا کریں، زمین کی بستیوں سے آسمان پیدا کریں‘‘۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here