شہریت ترمیمی قانون دستور کی دفعہ 14 کے خلاف ورزی ہے

0
747
ترمیمی_قانون_دستور_کی_دفعہ_14_کے_خلاف_ورزی_ہے
ترمیمی_قانون_دستور_کی_دفعہ_14_کے_خلاف_ورزی_ہے
All kind of website designing

علی گڑھ : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی لاء فیکلٹی کے طلبہ اور اساتذہ نے بڑی تعداد میں جمع ہوکر شہریت ترمیمی قانون پر تبادلہ خیال کرکے مذکورہ قانون کو دستور ِ ہند کے خلاف قرار دیا۔اس موقع پر ایک عرضداشت صدر جمہوریہ ہند کے نام موسوم گورنر اترپردیش کے ذریعہ روانہ کی جس میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ قانون دستور کی دفعہ 14 کے خلاف ہے جس کی مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے غلط توجیح کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں کئی روز سے مذکورہ قانون کے خلاف احتجاج چل رہاجس پہلے طلباء کا مطالبہ تھا کہ کیب ملک کے جمہوری نظام کے لئے بہتر نہیں ہے اسکو نہ لایا جائے وہیں اب شہریت ترمیم قانون بن جانے کے بعد طلباء سڑکوں پر اتر آئے ہیں اور انکا غم وغصہ ساتویں آسمان پر ہے اب طلباء مطالبہ کررہے ہیں کہ مذکورہ ایکٹ کو فوری ختم کیا جائے۔طلباء لیڈر حمزہ مسعود کی قیادت میں نکلے احتجاجی مارچ میں بڑی تعداد میں شعبہ قانون کے طلباء وطالبات بلا تفریق مذہب وملت شامل ہوئے اور بل کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
طلباء لاء فیکلٹی سے پرانی چنگی گیٹ پر پہنچے وہاں سے ایک ساتھ جمع ہوکر ہاتھوں میں شہریت ترمیم قانون کے خلاف پوسٹر لیکر احتجاجی نعرے بازی کرتے ہوئے باب سید پہنچے اس دوران شعبہ کے اساتذہ بالخصوص ڈین فیکلٹی آف لاء ماہر قانون پروفیسر شکیل احمد صمدانی بھی موجود رہے۔خطاب کرتے ہوئے طلباء لیڈرحمزہ مسعود نے کہاکہ ہم قانون پڑھتے ہیں اس لئے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم دستور کی خلاف ورزی نہ ہونے دیں،انھوں نے کہا کہ آج پوری دنیا ہندوستان کے مذکورہ اقدام پر تنقیدکررہی ہے خود اقوام متحدہ نے اسے غیر ضروری قرار دیا ہے،انھوں نے کہاکہ ہم نے حکومت کے اس قدم کے خلاف تحریک شروع کی ہے جو جاری رہے گی،حمزہ مسعود نے کہا کہ غیر جمہوری طریقہ سے جو مودی حکومت نے جو کام انجام دیا ہے وہ ایک مخصوص ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جو جمہوری ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔
طالبہ مہوش نے کہا کہ مودی حکومت نشے میں چور ہے اور غیر دستوری عمل سے قانون کو بناکر اپنی جیت سمجھ رہی جو اسکی ناسمجھی ہے،انھوں نے کہاکہ اس ملک کا قانون ابھی اتنا کمزور نہیں ہوا ہے کہ اس طرح کی چیزوں کو برداشت کرے۔آج نریندر مودی جناح کی ٹو نیشن تھیوری کو آگے بڑھا رہے ہیں۔اس موقع شعبہ قانون کے طلباء کی جانب سے مطالبہ کیا کہ مذکورہ قانون پر ازسرِ نو غور کرتے ہوئے اسے واپس لیا جائے اور مذکورہ ایکٹ کے خلاف ہمارا احتجاج درج کیا جائے، بڑی تعداد میں طلباء کے ساتھ اساتذہ بھی احتجاجی جلوس میں شریک رہے۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here