آر ایس ایس کے ہندو راشٹر ایجنڈے کو پورا کرنے میں مصروف بی جے پی: شیو پال یادو

0
302
All kind of website designing

بی جے پی ملک کو تقسیم کر رہی ہے: سی پی ایم

اٹاوہ : وزیر داخلہ امت شاہ کے ذریعہ پارلیمنٹ میںشہریت ترمیمی بل پاس کئے جانے کے بعد ملک بھر میں اپوزیشن پارٹی کے رہنما اس کی مخالفت کررہے ہیں۔ اسی ترتیب میں ترقی پسند سوشلسٹ پارٹی (لوہیا) کے صدر شیو پال سنگھ یادو نے بدھ کے روز اس بل کی مخالفت کی ہے۔ شیو پال یادو نے بی جے پی پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ملک اقتصادی بحران میں غلامی کی طرف جا رہا ہے دوسری جانب بی جے پی آر ایس ایس کے ایجنڈے کو پورا کرنے میں مصروف ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی کی جا رہی ہے۔ اس بل کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔کوآپریٹو سوسائٹی کی 70 ویں سالانہ اجلاس کی صدارت کرنے پہنچے شیو پال یادو نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بی جے پی پر جم کر حملہ بولا۔ شیوپال یادو نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ملک کو غلامی کی طرف لے جا رہی ہے۔ بی جے پی نے پہلے نوٹ بندی کی، پھر جی ایس ٹی اور اب شہریت ترمیمی بل کو پارلیمنٹ میں پاس کروا دیا ہے۔ ملک میں اقتصادی بحران چھایا ہویا ہے ۔لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں اور یہ لوگ آر ایس ایس کے ہندو راشٹر کے ایجنڈے کو پورا کرنے میں لگے ہے۔ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اس ملک میں تمام مذاہب کے لوگوں کو مساوات سے رہنے کا حق ہے، لیکن یہ حکومت اقلیتی لوگوں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے۔
دوسری جانب مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم) کے پولت بیورو کے رکن اور سابق ایم پی محمد سلیم نے مجوزہ شہریت ترمیمی بل -2019 پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس بل کے ذریعے بی جے پی ملک کوتقسیم کر رہی ہے۔محمد سلیم نے کہا کہ آزادی سے پہلے محمد علی جناح اور ساورکر نے کہا تھا کہ دوقومیں ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں۔ لہٰذا ملک کو تقسیم کرناپڑا تھا۔ بی جے پی شہریت ترمیمی بل کے ذریعے یہی کرنے جا رہی ہے۔ اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔ بی جے پی ملک کے اندر دو ملک بنانا چاہتی ہے۔ بی جے پی یہ ووٹ بینک کی سیاست کے لئے کر رہی ہے۔ادھر، سی پی ایم لیڈر شیامل چکرورتی نے کہا ہے کہ بی جے پی کے لیڈر جب این آر سی کی فہرست بنانے کے لئے آئیں گے تو کامریڈ انہیں کسی بھی علاقے میں گھسنے نہیں دیں گے۔ انہیں پیٹ کر بھگایا جائے گا۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here