صحافتی دیانت کا کوہ گراں تھے ” حفیظ نعمانی“

0
712
معروف صحافی وادیب حفیظ نعمانی کی یادگار تصویر :فائل فوٹو
معروف صحافی وادیب حفیظ نعمانی کی یادگار تصویر :فائل فوٹو
All kind of website designing

بلند قامت و بے باک صحافی حفیظ نعمانی کی رحلت پر حکیم نازش احتشام اعظمی کا اظہار تعزیت

نئی دہلی : اردو کے معروف و ممتاز صحافی حفیظ نعمانی کاگزشتہ شب اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کے سہارا اسپتال

حکیم نازش احتشام اعظمی

میں انتقال ہوگیا۔موصوف طویل عرصہ سے بیمار تھے اورگزشتہ ایک ماہ سے مذکورہ اسپتال میں زیر علاج تھے۔ مگر وقت موعود آپہنچا تھا ،لہذاڈاکٹروں کی تمام ترکیبیں ناکارہ ثابت ہوئیں اور موصوف اپنے رب حقیقی سے جاملے، انا للّہ وانا الیہ راجعون۔بوقتِ وفات ان کی عمر نوے برس تھی۔اس موقع پر اصلاحی ہیلتھ کیئر فاو¿نڈیشن کے بانی وجنرل سکریٹری حکیم نازش احتشام اعظمی نے اخبارات کے لئے جاری اپنی تعزیتی پریس ریلیز میںبتایا کہ یہ خبرمجھے خطہ اعظم گڑہ کے حوالے سے ملی تھی۔ یوں تو حفیظ نعمانی صاحب کی علالت کی اطلاع مجھے پہلے سے تھی اور مستقل موصوف کا حال چال جان رہا تھا ۔پرسوں ہی فیس بک پران کی بیماری بڑھ جانے کی اطلاع ملی تھی ،جس کے بعد موصوف کی صحتیابی کیلئے اپنے متعلقین حضرات سے دعاؤں کی اپیلیں بھی کی تھیں۔ مگر اللہ کے اٹل فیصلے کو کیسے ٹالا جاسکتا ہے۔واضح رہے کہ موصوف حفیظ نعمانی جید عالم دین اور ماہنامہ ”الفرقان“ کے بانی ومدیر مولانا منظور نعمانیؒ کے بیٹے اور معروف داعی وعالم دین مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی کے بھائی تھے۔ نعمانی صاحب اردو کے مختلف اخبارات ورسائل میں ادارت کے فرائض انجام دیتے رہے اور دوسرے اخباروں کے لئے مستقل کالم لکھتے تھے۔ اپنی صحافتی دیانت داری اور حق گوئی و بے باکی کے نتیجے میں جیل کی سزائیں بھی کاٹ چکے تھے۔روزنامہ ” ندائے ملت “ کا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نمبر نکالنے کے نتیجے میں موصوف کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا تھا۔ مگر ان اذیتوں کو بھی انہوں خندہ پیشانی سے قبول کیا اور اپنے پایہ استقامت میں کوئی جنبش نہیں آنے دی، نہ کبھی اپنی صحافتی دیانت کو گرد آلود نہیں ہونے دیا۔جیل کی صعوبتوں کو انہوں نے ”روداد قفس “کے نام سے بڑے دلکش انداز میں ترتیب دیا تھا، جسے بعد میں اویس سنبھلی (موصوف کے بھانجے) نے شائع کیا تھا ۔ بہرحال آسمان صحافت کا یہ دمکتا ستارہ کل قبر کی آغوش میں ابدی نیند سوگیا۔ اللہ کریم انہیں کروٹ کروٹ سکون اور جنت کی تمام آشائشیں عطا فرمائے۔کل بروز پیر مورخہ 09دسمبر 2019 بعد نما زظہر دارالعلوم ندوةالعلماءمیں ان کی نما ز جنازہ مسلم پرسنل لاءبورڈ کے صدر اور ندوة العلماءکے ناظم مولاناسید رابع حسنی ندوی کی امامت میںاداکی گئی۔ حکیم نازش احتشام اعظمی نے بتایا کہ میری دوبار ان سے موبائل پہ گفتگو رہی۔ میں نے اپناتعارف ملک زادہ منظور فن اور شخصیت کے حوالے سے کرایا تو آپ نے کہاکہ کبھی کسی وقت موقع نکال کرلکھنو آؤ اورمجھے بتاؤ، میں اسٹیشن لینے آجاؤں گا، لیکن وہ ملاقات کا وعدہ ہی رہا اور کبھی حقیقت کا جامہ نہیں پہن سکا، جس کا قلق ہمیشہ رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی دوماہ قبل لکھنو حکیم وسیم احمد اعظمی صاحب کے یہاں ایک تقریب میں جانا ہوا، وہاں برادر عزیز اویس سنبھلی صاحب سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے ذکر کیا اور ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو برادر عزیز نے کہاکہ کل ہی ملاقات کرادونگا، لیکن صبح میں میری کچھ مصروفیات کی وجہ سے ملاقات نہ ہوسکی۔ کیا خبر تھی کہ قدرت کو موصوف کی حیات میں ناچیز کی ملاقات منظور نہیں تھی۔ اس موقع پرحکیم نازش احتشام اعظمی نے اپنی اور اصلاحی ہیلتھ کیئر فاو¿نڈیشن کے تمام ذمے داران کی جانب سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے موصوف کیلئے دعائے مغفرت اور پسماند گان کیلئے صبر جمیل کی دعاءکی ہے اور تمام احباب سے دعائے مغفرت کی اپیل بھی کی ہے۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here