اب بی ایچ یو میں ویر ساورکر کی تصویر کالکھ پوت کرزمین پر پھینکی گئی

0
1361
All kind of website designing

طلباءمیں غم و غصہ کو دیکھتے ہوئے محکمہ جاتی انکوائری کمیٹی قائم، تحقیقات کے بعد سونپے گی رپورٹ

وارانسی، (نیا سویرا لائیو) کاشی ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) احاطے میں ویر ساورکر کی تصویر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور اس پرکالکھ پوتنے کو لے کر نوجوانوں میں غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ طلباء کے غصہ کو دیکھتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ نے پیر کی دیر شام اس معاملے کی محکمہ جاتی تحقیقات کے لئے ٹیم تشکیل دی ہے۔ تین رکنی ٹیم واقعے کی تحقیقات کر رپورٹ سونپے گی۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد یونیورسٹی کیمپس میں بھاری پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ یونیورسٹی کے شعبہ¿ سیاست کے کمرہ نمبر 103 میں ویر ساورکر کی لگی تصویر پیر کو کچھ شرارتی عناصر نے دیوار سے اکھاڑ دی اور اس پر کالکھ لگاکرزمین پر پھینک دی۔ کلاس روم میں آئے طلبا نے جب ویر ساورکر کی تصویر زمین پر پڑی دیکھی تومشتعل ہو گئے۔ ناراض طلباءکے ساتھ اسٹوڈنٹ لیڈر ڈاکٹر ارون چوبے، ادھوکشج پانڈے، ابھے سنگھ، انیمیش پانڈے نے صدر شعبہ، ڈین اور یونیورسٹی انتظامیہ کے افسروں سے ملاقات کر ناراضگی ظاہرکی ۔ طلباءکے غصہ کو دیکھ صدر شعبہ پرفیسر اشوک کمار اپادھیائے نے ویر ساورکر کی نئی تصویر لگوا دی۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے معاملے کی سنجیدگی کے پیش نظر محکمہ جاتی تحقیقات کے لئے تین رکنی ٹیم تشکیل کرکے رپورٹ مانگی ہے۔ منگل کے روز طلباءلیڈر ڈاکٹر ارون چوبے، ابھے پرتاپ سنگھ نے اس واقعہ کی سخت مذمت کر کے بات چیت میں الزام عائد کیا کہ اس واقعہ کو بائیں بازو کی طلباءتنظیموں سے منسلک کارکنوں نے انجام دیا ہے۔ ان تنظیموں سے منسلک کارکنان پورے ملک میںاس طرح کی حرکتیں کر رہے ہیں۔ ان تنظیموں نے جے این یو میں سوامی وویکانند کی مورتی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے ملک کے وقار کو ٹھیسپہنچایاہے۔ اب ایسے عناصر کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔ بی ایچ یو کے شعبہ¿ سیاست میں بابائے قوم مہاتما گاندھی، بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راو¿ امبیڈکر اور ویر ساورکر سمیت کئی عظیم ہستیوں کی تصاویرنصب ہیں۔ محکمہ کی تمام کلاسوں میں تین سال پہلے طلباء اور اساتذہ کے تعاون سے ان عظیم لوگوں کی تصاویر کو لگایا گیا تھا۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here